آئین شکنی، سوکھے دھان اور فیصلے کی برکھا


دسمبر کا مہینہ ہماری سیہ بخت تاریخ میں جمہور اور جمہوریت کے لیے ہمیشہ بھاری ثابت ہوا۔ برادرم وجاہت مسعود نے اسے ماہ الحزن کے نام سے پکار رکھا ہے۔ اس ماہ میں ملک اور جمہوریت کو جو سانحات لاحق ہوئے اس میں پاکستان کا دولخت ہونا، آرمی پبلک اسکول کے بچوں کا سفاکانہ قتل عام اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت جیسے اندوہناک واقعات شامل پیں۔ ان تمام واقعات میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان میں جمہور اور جمہوریت کا گلہ گھونٹا گیا۔

مشرقی پاکستان کی عددی اکثریت اور اس کے بل بوتے پر سن ستر کے انتخابات میں ان کی نمائندہ جماعت کی برتری کو تسلیم نہیں کیا گیا تو اس کا نتیجہ قائد کے پاکستان کے دو ٹکڑوں کی صورت میں بر آمد ہوا۔ محترمہ بینظیر بھٹو اس ملک میں جمہوریت کی توانا آواز تھیں اور اس ملک میں جمہور کی حکمرانی کے نقیب تھیں۔ انہیں شہید کر کے جمہور کے حق انتخاب کو زک پہنچائی گئی۔ آرمی پبلک اسکول پشاور میں جب قتل طفلاں ہوا تو وہ ہمارے مستقبل پر حملہ تھا۔

مستقبل پر یہ حملہ بھی در اصل جمہور اور جمہوریت پر حملہ تھا کیونکہ انتہا پسند ی، متشدد سوچ اور آمرانہ ذہنیت کو مستقبل سے دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں سے روشنی کی ایک کرن ابھر کر گھٹا ٹوپ اندھیروں کو مات نہ دے۔ سترہ تاریخ سے قبل ہماری قومی تاریخ میں دسمبر ہمیشہ سے نحوست، حزن و ملال، رنج و غم اور ندامت و شکست خوردگی کے احساسات سے عبارت رہا لیکن اس برس کا دسمبر اس انوکھی شان اور تمکنت سے تاریخ میں جگہ بنا گیا کہ اس نے ماضی کے ان تمام داغوں کو دھو ڈالا جو اس ملک کے مقدر پر اس ماہ میں سیاہ دھبوں کی صورت میں نقش ہوئے۔

سترہ دسمبر 2019 کو ایک عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا بلکہ تاریخ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ تاریخ کا یہ فیصلہ جمہور اور ان کے حق حکمرانی پر مہر تصدیق ثبت کر گیا۔ تاریخ کے اس فیصلے نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ ”اب راج کرے گی، خلق خدا جو تم بھی ہو اور میں بھی ہوں“۔ تاریخ کے اس فیصلے نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ اس ملک میں آئین مقدم ہے اور اس کی پامالی کا مرتکب کسی طور بھی بے گناہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاریخ کے اس فیصلے نے ہر خاص و عام کو جتا دیا کہ اب اس ملک میں آئین و قانون سے مزید کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دسمبر کی سترہ تاریخ کو خصوصی عدالت کا فیصلہ ہماری تاریخ کی چند روشن مثالوں میں سے ایک ہے اور شاید سب سے معتبر بھی کہ جب اس ملک میں آئین شکنی کے جرم کو ارتکاب کو پہلی بار تعزیر و تادیب کے شکنجے کا کسا گیا۔ گزشتہ برسوں کے دسمبر کے مقابلے میں یہ دسمبر ہمارے روشن کل کے تمام امکانات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ دسمبر ایک روشن مستقبل کی نوید سناتا ہے۔ یہ ایک روشن صبح کے در وا ہونے کی خوشخبری لایا ہے۔

اس دسمبر کی سترہ تاریخ کو جو مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا وہ آج سے بارہ سال قبل تین نومبر ایمرجنسی اور آئین کی معطلی کا نہیں بلکہ یہ تو چھ عشروں سے زائد پرانا مقدمہ ہے جب عوام کے حق حکمرانی کو سلب کرنے کے جرم کا ارتکاب کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کے فیصلے میں تین نسلیں گزر گئیں، ان گزرے برسوں میں ہماری ان گنت بہاریں خزاں میں بدل گئیں لیکن اس مقدمے کا فیصلہ تھا کہ آکے ہی نہیں دے رہا تھا۔ عوام کے حق حکمرانی کے مقدمے کے فیصلے کو کبھی بحیلہ مذہب تو کبھی بنائے وطن ٹالا جاتا رہا۔

اس حیلہ جوئی نے ہمارے قومی وجود کو اس طرح سیاہ کیا کہ اج تک شرمساری، خجالت اور شکست خوردگی ہمارا دامن نہیں چھوڑ رہیں۔ خصوصی عدالت کے فیصلے میں جس جرم کی سزا سابقہ فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو سنائی گئی وہ آئین شکنی کے سنگین جرم کے ارتکاب ہے۔ آئین شکنی کا ارتکاب کتنا سنگین جرم ہے اس کا فیصلہ آج کے سیاسی رہنماؤں نے کیا بلکہ یہ تو آئین بنانے والوں کے شہ دماغوں کا کام تھا جن کی سیاسی سوجھ بوجھ اور بصیرت میں کسی کو شک نہیں ہو سکتا۔

آئین بنانے والوں میں مذہبی، نیم مذہبی، سیکولر، روشن خیال اور قدامت پرستی کے حاملین شامل تھے۔ ان کے سیاسی نظریات اور فکر میں چاہے کتنی تفاوت تھی وہ آئین شکنی کے حوالے سے یکسو تھے اس لیے تو آرٹیکل چھ کو آئین کا حصہ بنا کر انہوں نے آئین توڑنے کو غداری قرار دیا۔ خصوصی عدالت نے تو ماورائے آئین کوئی فیصلہ نہیں سنا یا کہ جس پر ایک ہنگامہ برپا ہے۔ آئین شکنی کا جرم غداری کا جرم قرار دینا جج صاحب کی ذہنی اختراع نہیں کہ اس پر ایک طوفان اٹھایا ہوا ہے۔

آئین میں موجود آرٹیکل چھ مزاجوں کو برہم کر رہا ہے اور خصوصی عدالت کے فیصلے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ سوال اٹھانا اس وقت صائب ہوتا جب آئین کو معطل کیا جا رہا تھا۔ ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان عمرانی معاہدے کی دستاویز کو فقط کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر طاق نسیاں کیا جا رہا تھا۔ جب ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان بندھن کو ہی توڑ دیا جائے تو کیا اس سے سنگین کوئی جرم ہو سکتا ہے۔ ریاست شہریوں کے حقوقِ کی ضامن ہوتی ہے اور بدلے میں شہری ریاست سے وفاداری کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔

جب اس معاہدے کی دستاویز کو ہی معطل کر دیا جائے تو پھر کون سی ریاست اور کہاں کے شہری۔ پھر تو ایک غیر تمدن اور غیر مہذب معاشرہ جنم لیتا ہے جہاں زور آور کو بقا ہے اور کمزور تختہ مشق۔ خصوصی عدالت کے فیصلے میں پیرا 66 اس کا ناتراشیدہ حصہ ہے اور قابل عمل نہیں اور غیر مناسب ہے لیکن اس پیرائے سے اس فیصلے کی روح کو نہیں کچلا جا سکتا ہے جو پاکستان کے شہریوں کے اولین حق کی علامت ہے۔ اس ملک میں آئین و قانون کے بالادستی کے سوکھے دھانوں پر خصوصی عدالت کے فیصلے سے برکھا برسی ہے اور امید ہو چلی ہے کہ جمہور کے حق حکمرانی کی لہلہاتی فصل آنے والے دنوں میں سر اٹھائے گی۔ اس برس دسمبر کا مہینہ ہمارے زخموں پر مرہم رکھ دیا۔ دیکھتے ہیں ماضی کے زخم کب تک بھر پائیں گے؟

Facebook Comments HS