آخر جنید حفیظ کے انجام سے افسردہ کیوں ہیں ہم سب؟
یہ تو ہونا ہی تھا!
یہ تو نوشته دیوار تھا جو نظر آ رہا تھا۔ یہ نتیجہ تھا کئی برسوں پہ محیط کچھ عقل کل لوگوں کی کاوشوں کا جو ہم اور آپ جیسوں کو سبق سکھانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ نفرت اور مذہبی انتہا پسندی کے جو بیج بوئے گئے تھے، ان کی فصل تو کٹنی ہی تھی نا!
ہماری طالب علمی کے زمانے میں طلبا یونینز پہ پابندی تھی۔ اس کے باوجود ہم نے ہوسٹل میں مخصوص طالبات کو جماعت اسلامی کے ترتیب دیے ہوئے ایجنڈے پہ عمل کرتے دیکھا۔ ہر شام فرسٹ ائیر کی لڑکیوں کے کمرے میں ایک آپا تشریف لے آتیں جو گھر کی جدائی میں بے حال کو دلاسا دیتیں، ساتھ میں کوئی کھانے پینے کی چیز بھی ہوتی سو جذبات سے کھیلنے کے ساتھ ساتھ لذت کام و دہن کا بھی خیال رکھا جاتا۔ اگلے مرحلے میں نوٹس دیے جاتے، ٹیسٹوں کی تیاری کروائی جاتی اور جب احسانوں کا بوجھ کافی ہو جاتا تب ہولے سے شام کو ہونے والے یومیہ درس میں آنے کا دعوت نامہ اس طرح دیا جاتا کہ لوگوں کو مروت میں جانا ہی پڑتا۔
جمعیت کی آپا کو کمزور امیدوار بھانپنے میں بھی مہارت حاصل تھی سو ان پہ عنایات کی بارش کچھ زیادہ ہوتی۔ سال چھ ماہ کی محنت رنگ لاتی، جماعتی طالبات کی نفری میں اضافہ ہوجاتا اور ایک نئی آپا اپنے مشن پہ نکل کھڑی ہوتیں۔
انہی برسوں کی یاد ہے ہمارا دوسرے سال کا فائنل امتحان تھا۔ پرچے ہو چکے تھے اور اب viva لیا جا رہا تھا۔ چیف متمحن کسی اور میڈیکل کالج سے تشریف لائی تھیں۔ کرخت چہرہ، عینک کے پیچھے گھورتی آنکھیں، بھنچے ہونٹ،
ہمارا نام پڑھا اور گویا ہوئیں،
"کاظمی ہو "
"جی”
"شیعہ ہو "
اب اس سوال کا جواب دینے میں تھوڑا سا تامل تھا کہ ہوا کے بدلتے رخ سے واقف تھے۔
"جی خاندان میں کچھ شیعہ ہیں اور کچھ سنی "
گھور کے دیکھا اور ہماری استاد سے مخاطب ہو کے کہنے لگیں،
” یہ کاظمی بہت چالاک ہوتے ہیں، دیکھا کیسے پردہ ڈال رہی ہے "
یہ ایک پختہ عمر کا ایک نو عمر پہ حملہ تھا، اپنے مقام، ہمارے امتحان اور سرکاری تعلیمی ادارے کا احترام ملیا میٹ کرتے ہوئے۔
سوچیے، یہ ابھی اسی کی دہائی کا وسط تھا اور ہوا کا رخ کیا المیہ کہانی کہتا تھا۔ خود ساختہ امیر المومنین اپنے جامے میں پھولے نہیں سماتے تھے اور ان کی ٹیڑھی آنکھوں میں گناہ گاروں کو راہ راست پہ لانے کا شوق اس قدر عروج پہ تھا کہ مہ و انجم سہمے جاتے تھے۔
ہمارے معاشرے میں تبلیغی مرو زن کھمبیوں کی طرح اگنے شروع ہو چکے تھے۔ دن رات قیامت کے ڈراوے تھے، ساتھ میں تسلی دل کے لئے ستر حوروں کے شباب کا نقشہ آنکھیں میچ میچ کے بیان کیا جاتا تھا جو سب کی رگ و جاں میں پھریریاں دوڑا دیتا۔
ان مرد وزن کے مخصوص نظریات کی تبلیغ نے جہاں فنکاروں اور کھلاڑیوں تک کے حلیے بدلتے دیکھے وہاں اختلاف رائے کا وجود معدوم ہوتا نظر آیا، یہ سوچے بنا کہ اختلاف رائے نہ ہوتا تو کربلا کا واقعہ بپا نہیں ہوتا۔ مذہبی گروہ بندیاں نہ ہوتیں تو ریاست مدینہ کے اولین برسوں میں خلفائے راشدین کا قتل نہیں ہوتا۔ تاریخ کے سچ سے آنکھیں چرا کے ہر گروہ نے اپنی اپنی بین بجائی۔
اختلاف رائے کا رستہ روکنے کے بعد اگلا قدم ہر کسی کو سیدھی راہ پہ چلانے کی ذمہ داری لینا تھا، اور ایسی ذمہ داری کہ اگر بات کرنے سے بات نہ بنے تو جبر روا رکھنا لازم ٹھہرے۔ برقعہ پوش عورتوں کا لاٹھیاں اٹھا کے سڑکوں پہ نکل آنا اسی نقطۂ نظر کی ایک کڑی تھی۔
اور پھر کچھ دانشوروں کو اور بھی دور کی سوجھی۔ ہمیں لاہور میں ایک بہت ماڈرن سوسائٹی کے ایک بڑے بنگلے میں چالیس بچوں کا یتیم خانہ دیکھنے کا اتفاق ہوا جو انتہائی رازداری سے قائم کیا گیا تھا۔ سب بچے نوزائیدہ حالت میں پورے پاکستان سے اکھٹے کیے گئے تھے۔ یہ ایک بڑی مذہبی تنظیم کا پروجیکٹ تھا جس میں ان تمام بچوں کو اس تنظیم کی فکری روش سیکھ کے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا تھی۔
ذرا سوچیے کہ کیا کسی خاص آئیڈیالوجی کے ساتھ ایسے یتیم خانوں کا بندوبست کیا گیا تھا؟ کیا لال مسجد والی ذہنیت کو ملک کے اہم انتظامی عہدوں تک پہنچانے کی دور رس منصوبہ بندی کی گئی تھی؟
جنید حفیظ!
تمہارا پھانسی گھاٹ ایک طویل منصوبہ بندی سے تیار کیا گیا ہے۔ تمہارے گلے میں پڑنے والے پھندے کو ہم نے بہت محنت سے بنا ہے۔ یہ بہت سوں کو جنت کے خواب دکھاتا ہے اور بہت سوں کو ان کی رحمت میں بھیگنے کا مژدہ سناتا ہے جو مکہ کی گلیوں میں اپنے جسم پہ کوڑا کرکٹ پھینکا جانا برداشت کرتے تھے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں کسی کی غیر حاضری انہیں پریشان کرتی تھی۔ بہت سوں کے لئے تمہارا نام پل صراط پار کرنے کا پروانہ راہداری ہے۔
ہمیں معاف کر دو جنید حفیظ!
ہمیں تم جیسے لوگ نہیں چاہیئں جن کے سوالات کا جواب ہمارے پاس نہ ہوں۔ تم جیسوں سے معاشرے کو پاک کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔


