خوشی اورجیب کا تعلق
ایک امریکی ادارے کے سروے کے مطابق انسان کو خوشی دولت دے سکتی ہے نہ ڈھیر ساری نعمتیں۔ زندگی میں کوئی بہت بری کامیابی مل جائے وہ بھی خوشی کا باعث ہوتی ہے، زندگی کے سارے نہیں کچھ خواب ہی پورے ہو جائیں تو مسرت کا کچھ نہ کچھ سامان بن ہی جاتا ہے۔ کرکٹ کا کھلاڑی سینچری بنا لے، اننگز میں پانچ وکٹیں لے لے، فٹ بال اور ہاکی کا کھلاڑی گول کر لے، ٹینس کھیلنے والا ومبلڈن کا کپ اٹھا لے، اتھلیٹ سو میٹر کی دوڑ جیت جائے تو اس کی خوشی دیدنی ہوتی ہے، وہ اس خوشی کا اظہار کرتے وقت آپے سے بھی باہر ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ لمحاتی خوشیاں ہوتی ہیں۔ کبھی انہی کھلاڑیوں کو شکست پر آنسو بھی بہانے پڑ جاتے ہیں۔ دائمی خوشیوں کی کہانیاں ان لمحاتی خوشیوں سے تھوڑی مختلف ہوتی ہیں۔
اس سروے کو کرنے والے امریکی ادارے نے لاکھوں امریکیوں سے یہ سوال کیا کہ ان کو حقیقی خوشی کب ملتی ہے؟ اکثریت کے جوابات پرجو نتیجہ مرتب ہوا وہ یہ تھا کہ انسان کو حقیقی خوشی مخلص اور اچھے دوستوں کے ساتھ وقت گزار کر ملتی ہے۔
اسے سروے ہمیں بہت جلدی مرعوب کر دیتے ہیں کیونکہ ہمارے ذہن میں ہوتا ہے کہ غیر ملکی اداروں اور لوگوں کا فرمایا ہوا بہت مستند ہے۔ ضروری نہیں کہ امریکہ میں کیا گیا سروے پوری دنیا میں لاگو ہو سکے۔ ہر ملک کے لوگوں کی اپنی ترجیحات اور خوشیوں کے پیمانے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ایک قحط زدہ افریقی ملک میں جہاں چیلیں درختوں پر بیٹھی اپنے سامنے دم توڑتے انسانوں کی مکمل موت کا انتظار کر رہیں ہوں، ان سے حقیقی خوشیوں کا مفہوم پوچھ کر دیکھیں، ان کے جوابات ایسے سروے کے نتائج سے یقیناً مختلف ہوں گے۔ اسی طرح دنیا کے بہت سے ایسے ممالک جو خوشحالی کی سرحدوں سے ابھی دور ہیں وہاں بھی ایسے سروے کے نتائج مختلف ہوسکتے ہیں۔ خوشحال گھرانوں کے افراد چاہے ان کا تعلق غریب ممالک سے ہی ہو، وہاں ہو سکتا ہے صرف مخلص اور اچھے دوستوں کے ساتھ وقت گزار کر ان کو حقیقی خوشی مل سکتی ہو۔
کہتے ہیں دولت خوشی نہیں دے سکتی، لیکن خالی جیب کے ساتھ آپ کیسے خوش رہ سکتے ہیں؟ فرض کریں آپ دوستوں کے ساتھ بیٹھے کافی پی رہے ہیں، آپ کی جیب میں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اگر آپ کو اس کافی کا بل دینا پڑ جائے تو آپ نہیں دے سکتے تو وہ کافی آپ کو زہر لگ رہی ہو گی۔ ابھی یہ طے نہیں کہ بل آپ نے دینا ہے، صرف دینے کے خطرہ نے آپ کا سکون غارت کر رکھا ہے تو آپ نے اس حالت میں خاک دوستوں کی رفاقت سے خوشی حا صل کرنی ہے۔
دوستوں کے ساتھ سیرو تفریح بھی آپ کو خوش کرتی ہوگی، پر صرف اس وقت جب آپ کی جیب میں کچھ ہو گا۔ کافی یا کھانے کا بل آپ بھی تو کبھی نہ کبھی دینا چاہتے ہوں گے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزار کر بھی انسان خوشیوں کے لمحے گزار سکتا ہے، لیکن یہاں بھی وہی بات کہ جیب میں ہوگا تبھی ان لمحوں کو خوشیوں میں بدلا جا سکتا ہے۔ آپ اپنی فیملی کا ساتھ گھر میں موجود ہیں، آپ کے سامنے بجلی کے دو یونٹس، جی ہاں صرف دو یونٹس کا بل نو سو چون روپے پڑا ہے۔
آپ کی خوشیاں دو وجوہات کی وجہ سے غارت ہو چکی ہیں۔ ایک تو کہ ان نو سو چون روپے میں سے آٹھ سو تیس روپے ایف پی اے کے نام پر ان لوگوں کی جگہ ادا کرنے ہیں جنہوں نے آپ کے علاقے میں بجلی چوری کی ہے۔ یعنی چوری شدہ یونٹوں کا بل وہ لوگ ادا کریں گے جنہوں نے ایمانداری سے بجلی استعمال کی۔ خوشی غارت ہونے کی دوسری وجہ یہ ہوگی کہ آپ کی جیب خالی ہوگی۔ جیب بھری ہوگی تو آپ ایسی زیادتیوں کے بارے میں کم ہی سوچیں گے۔
آپ دوستوں کے ساتھ، بچوں کے ساتھ یا کسی اور کے ساتھ لمبی ڈرایؤ پر جانا چاہتے ہیں، گاڑی کی ٹینکی اور جییب دونوں ہی خالی ہیں تو کہاں کی خوشیاں، کہاں کا سکون؟ گھر میں مریضوں کی لمبی یا مختصر لائن ہے، ڈا اکٹر کے پاس جانا ضروری ہے پر مالی بحران کی وجہ سے آپ نہیں جا سکتے، آپ اپنی، بچوں کی اور گھر کے دوسرے افراد کی جائز ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر ہیں تو ایسے سروے کے مطابق دوستوں کا ساتھ کہاں آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتا ہے، قہقہے بکھیر سکتا ہے؟
ایک کالم نگار اور اینکر اپنی خوشی کی خاطر ہر مہینے میں چند دن دوستوں کے ساتھ کسی دوسرے ملک میں سیرو تفریح کے لیے جاتے ہیں، وہ خوشیاں ضرور حاصل کرتے ہیں پرخرید کرمفت میں نہیں۔ موٹیویشنل اسپیکرز دن رات یہی درس دیتے ہیں کہ خوشیوں کے لیے دولت کے پیچھے نہ بھاگیں لیکن خود اس درس کو دینے کا لاکھوں روپے کا معاوضہ لیتے ہیں۔ نعت خواں کی زبان نبی علیہ السلام کی تعریف میں اس وقت رواں ہوتی ہے جب ہزاروں روپے کا معاوضہ طے ہوتا ہے۔
بے تحاشا دولت ہو سکتا ہے واقعی بے سکونی کا باعث بنتی ہو جیسا کہ لوگ کہتے ہیں پر بالکل خالی جیب کے ساتھ تو خوشیوں کا حصول نا ممکن ہے، دوستوں کی محفلیں تبھی آپ کو خوش رکھ سکتی ہیں جب آپ کو جیب کا اطمینان حا صل ہو اس لیے اے امریکیو! فی الحال آپ اپنا یہ سروے سنبھال کر رکھیں۔


