مستنصر حسین تارڑ، میرے قلمی دوست

ابا جی کے دور میں ہمارے گھر میں کتابوں، رسائل اور اخبارات کی تعداد برتنوں اور کپڑوں سے زیادہ تھی۔ یہ کتب، رسائل اور اخبارات گھر میں پڑھے بھی جاتے تھے۔ ابا جی اسکول میں اردو ادب کے استاد تھے، اس لیے گھر میں ادبی، سماجی اور سیاسی شخصیات کا ذکر رہتا تھا۔ ان دنوں…

Read more

طلبہ یونینز کی بحالی کا۔ ”کٹا“ نہ ہی کھولیں تو بہتر ہے

سمیع اللہ (نام فرضی، کہانی اصلی) نے اپنی لگنے والی پھینٹی کی کہانی خود ہی سنائی تھی۔ سمیع اللہ ایک شہر میں ایک طلبہ تنظیم کا ایک سرگرم عہدیدار تھا اور اس تنظیم کی اس شہر میں کافی دہشت تھی اور اپنی اس دہشت کو برقرار رکھنے کے لیے بوقتِ ضرورت وہ چھوٹا موٹا ”کھڑاک“…

Read more

دیوان سنگھ مفتون کی ”ناقابلِ فراموش“

پرائمری پاس چیف ایڈیٹر کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ دیوان سنگھ مفتون کی زندگی کا کچھ حال احوال پچھلے کالم میں بیان ہو چکا، آج تذکرہ ان کی ناقابلِ فراموش کتاب ”ناقابلِ فراموش“ کا۔ لائبریری میں تلاش تو کسی اور کتاب کی تھی، وہ تو نہ مل سکی، دیوان سنگھ مفتون کی ”ناقابلِ فراموش“…

Read more

پرائمری پاس چیف ایڈیٹر

1890 میں حافظ آباد کے ایک پنجابی گھرانے میں ایک بچہ پیدہوتا ہے اور صرف چالیس دن بعد والد کے سائے سے محروم ہو جاتا ہے۔ والدایک نامور ڈاکٹر تھے اور وفات کے وقت ایک سرکاری ہسپتال میں ملازم تھے۔ گھر میں پیسے کی فراوانی تھی، سو ایکٹر زمین، ایک سے زیادہ مکانات، پندرہ کلو…

Read more

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے

گاؤں میں میرا معمول تھا کہ میں صبح صبح سیر کے لیے گاؤں کے مشرق میں واقع راجباہ کی طرف نکل جاتا تھا۔ راجباہ بڑی نہروں سے دیہات کی طرف جانے والی آبی گزرگاہ کو کہتے ہیں۔ آپ اسے نہر کا ایک بچہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ راجباہ سے پھر کھیتوں کو سیراب کرنے کے…

Read more

ترقی صرف 40 کلومیٹر دور

جہانیاں ضلع خانیوال کی ایک تحصیل ہے اور اس سے مغرب کی طرف تقریباً 40 کلومیٹر کی دوری پر قدیم اور تاریخی شہر ملتان واقع ہے۔ بظاہر یہ فاصلہ بہت تھوڑا ہے، تیز رفتار سواری پر تیس سے پینتالیس منٹ میں یہ سفر آسانی سے طے ہو جاتا ہے۔ اگر موازنہ کیا جائے تو ملتان…

Read more

کرتار پور سے بابری مسجد تک

کل کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بھارت اور دوسرے ممالک سے آئے سکھ یاتریوں کا مذہبی جوش و خروش اور نوجوت سنگھ سدھو کی شعر و شاعری سے مزیّن جذباتی تقریر سن کر ابّا جی مرحوم بہت یاد آئے۔ سدھو سمیت بہت سے سکھ حکومتِ پاکستان، خاص طور پر عمران خان…

Read more

زندگی کا جار کیسے بھرا جائے؟

 کچھ عرصہ پہلے کسی امریکی یونیورسٹی کی ایک کلاس کی وڈیو دیکھنے کا موقع ملا۔ چند منٹ کی وڈیو میں دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے زندگی کی حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی گئی۔ پروفیسر صاحب نے جب اپنے بیگ میں سے شیشے کا ایک چھوٹا جار اور سفید رنگ کی گیندیں نکالیں…

Read more

نصیب اپنا اپنا

ایک وقت تھا ایک ادارے کی سربراہی اس کے پاس تھی۔ کچھ خاص لوگوں کو چھوڑ کر ہر انسان میں خوبیاں اور خامیاں موجود ہوتیں ہیں، بس فرق تناسب کا ہوتا ہے، کسی میں خوبیاں زیادہ اور کوئی خامیوں سے خوبیوں کو مات دے دیتا ہے۔ ایسی ہی ملی جلی شخصیت کے ساتھ انہوں نے…

Read more

قتیل شفائی کیسے قاتل سپاہی بنے؟

پچھلے دنوں قتیل شفائی مرحوم کے حوالے سے ایک مزاحیہ پوسٹ سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملی۔ ڈاک خانے میں ان کے نام ایک خط آیا جس پر ان کا نام انگریزی میں Qatil Shiphai لکھا تھا۔ ڈاکیے نے اسے ”قاتل سپاہی“ پڑھا اور سمن آباد لاہور کی گلیوں میں قاتل سپاہی کا گھر ڈھونڈتا…

Read more