یو ٹرن

خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، بڑوں کی دیکھا دیکھی بعض اوقات چھوٹے بھی بڑوں والے کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ ہم نے سوچا ہم سے بڑے یو ٹرن لے رہے ہیں تو ہمارے ”کانٹا“ بدلنے سے کیا ہوتا ہے، چنانچہ ہم نے بھی اپنا بیانیہ بدل لیا ہے اور عین ملکی مفاد…

Read more

رضا علی عابدی کی ”اردو کا حال“

اگر آپ کتابوں کی کسی دکان یا لائبریری سے اردو زبان میں کسی اچھی کتاب کی تلاش میں ہیں اور آپ کی نظر ایک ایسی کتاب پر پڑتی ہے جس پر ایک تختی کی تصویر ہو، تختی کے اوپر اردو حروفِ تہجی لکھے ہوئے ہوں، کتاب کا نام ”اردو کا حال“ ہو، مصنف کا نام…

Read more

با ذوق قارئین کی ضرورت ہے

لکھنے اور پڑھنے والے کی جہاں یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کو پڑھنے اور سننے والے کافی تعداد میں ہوں وہاں یہ ارمان بھی ہوتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے باذوق بھی ہوں۔ ”ہم سب“ کے ایک لکھاری نے کچھ عرصہ پہلے ایک آرٹیکل ”عبد السلام کی بیٹی اٹلی کیوں نہ جا سکی“…

Read more

خوشی اورجیب کا تعلق

ایک امریکی ادارے کے سروے کے مطابق انسان کو خوشی دولت دے سکتی ہے نہ ڈھیر ساری نعمتیں۔ زندگی میں کوئی بہت بری کامیابی مل جائے وہ بھی خوشی کا باعث ہوتی ہے، زندگی کے سارے نہیں کچھ خواب ہی پورے ہو جائیں تو مسرت کا کچھ نہ کچھ سامان بن ہی جاتا ہے۔ کرکٹ…

Read more

”کتابیں ہیں چمن اپنا“

ان دنوں انڈین حکومت کی طرف سے تو اچھی خبر ملنے کی امید بہت کم ہے، البتہ ایک بھارتی شہری کی طرف سے حیران کن خبر سننے کو ملی ہے۔ جنوبی ہندوستان کے صوبے تامل ناڈو کے ایک شہر کے ایک باربر نے اپنے سیلون میں گاہکوں کے لیے ٹی۔ وی رکھنے کی بجائے ایک…

Read more

شادیوں کو شاد ہی رہنے دیں

آج دفتر میں کل ہونے والی ایک شادی کافی زیرِ بحث رہی۔ ہمارے ایک ساتھی نے دعوتی کارڈ پر لکھے دوپہر ایک بجے کے وقت کو کافی سنجیدہ لے لیا۔ وقت پر پہنچنے کی خواہش کے مدِنظر انہوں نے اپنے گھر کی قریبی مسجد کی بجائے ظہر کی نماز شادی گھر کے راستے میں آنے…

Read more

زندگی کے پانچ بڑے پچھتاوے

برونی ویئر (Bronnie Ware) ایک آسٹریلین نرس ہے جس نے کافی عرصہ ایک ایسے ہسپتال میں گزارا جہاں ان افراد کو رکھا جاتا تھا جو بوڑھے تھے، بیمار تھے، بظاہر بول سکتے تھے، سن سکتے تھے، ہوش و حواس میں ہوتے تھے، لیکن طبی اعتبار سے زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوتے تھے۔ ان…

Read more

مستنصر حسین تارڑ، میرے قلمی دوست

ابا جی کے دور میں ہمارے گھر میں کتابوں، رسائل اور اخبارات کی تعداد برتنوں اور کپڑوں سے زیادہ تھی۔ یہ کتب، رسائل اور اخبارات گھر میں پڑھے بھی جاتے تھے۔ ابا جی اسکول میں اردو ادب کے استاد تھے، اس لیے گھر میں ادبی، سماجی اور سیاسی شخصیات کا ذکر رہتا تھا۔ ان دنوں…

Read more

طلبہ یونینز کی بحالی کا۔ ”کٹا“ نہ ہی کھولیں تو بہتر ہے

سمیع اللہ (نام فرضی، کہانی اصلی) نے اپنی لگنے والی پھینٹی کی کہانی خود ہی سنائی تھی۔ سمیع اللہ ایک شہر میں ایک طلبہ تنظیم کا ایک سرگرم عہدیدار تھا اور اس تنظیم کی اس شہر میں کافی دہشت تھی اور اپنی اس دہشت کو برقرار رکھنے کے لیے بوقتِ ضرورت وہ چھوٹا موٹا ”کھڑاک“…

Read more

دیوان سنگھ مفتون کی ”ناقابلِ فراموش“

پرائمری پاس چیف ایڈیٹر کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ دیوان سنگھ مفتون کی زندگی کا کچھ حال احوال پچھلے کالم میں بیان ہو چکا، آج تذکرہ ان کی ناقابلِ فراموش کتاب ”ناقابلِ فراموش“ کا۔ لائبریری میں تلاش تو کسی اور کتاب کی تھی، وہ تو نہ مل سکی، دیوان سنگھ مفتون کی ”ناقابلِ فراموش“…

Read more