چیمپئنز ٹرافی۔ توقعات اور خدشات

پاکستان کے لیے چیمپئنز ٹرافی کی اہمیت سے ہم سب واقف ہیں۔ ایک تو یہ ہم دفاعی چیمپیئن ہیں اور دوسرا ہم اس ٹورنامنٹ کے میزبان بھی ہیں۔ انڈیا نے حسبِ معمول پاکستان میں نہ آ کر ہمارا مزہ کرکرا کرنے کی کوشش تو کی ہے، لیکن پھر بھی چیمپئنز ٹرافی کے دوران کرکٹ کے شائقین کی نظریں پاکستان پر رہیں گی۔ چیمپئنز ٹرافی میں چونکہ چوٹی کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں، اس لیے زوردار مقابلوں کی توقع ہے۔ پاکستان

Read more

"حلال” ملک میں حلال گوشت کی تلاش

’زید‘ جب صبح کو اپنے سرکاری فرائض کی ادائیگی کے لیے اپنے ادارے کی طرف رواں دواں ہوتا ہے تو اسے راستے میں بڑے اور چھوٹے گوشت جس کو عام طور پر ”کٹے“ اور ”بکرے“ کا گوشت کہا جاتا ہے کے چار ”پھٹے“ ملتے ہیں۔ یہاں سے خریداری کرنے والوں کے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک سوال تو یہ کہ جو گوشت ”کٹے“ یعنی بھینس یا بھینس کے بچے کا ہے وہ واقعی انہی کا ہے

Read more

چائے: جناب احسن اقبال نے کیا غلط کہا؟

بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ فیشن اور مجبوری بن چکا ہے کہ ہم نے ہر حال میں اپنے مخالف کی بات کی مخالفت ہی کرنی ہے چاہے وہ بات کتنی ہی معقول کیوں نہ ہو۔ اور اگر اس مقصد کے لیے آپ نے مبینہ طور پر کچھ بندے پیسے دے کر بھرتی بھی کر رکھے ہوں تو سمجھو کہ مخالف زندہ درگور ہو گیا۔ ان ”آن ڈیوٹی“ اصحاب کے علاوہ رہی سہی کسر پوری کرنے کے لیے نام نہاد ”نظریاتی“

Read more

پاکستان کے اصل دشمن کون ہیں؟

چند دن پہلے خبر پڑھنے کو ملی کہ ایک خاتون آسٹریلین سیاح کی شکایت پر اس سے 12000 ڈالرز ہتھیانے کے الزام میں ملتان کے علاقے قاسم بیلہ سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بڑی اچھی بات ہے کہ پولیس نے اس کی شکایت سنی اور فوری ایکشن بھی لیا۔ اب آگے کیا ہوتا ہے، ابھی اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمارے پاکستانی بھائیوں نے غیر ملکی سیاحوں کے

Read more

منصور اختر سے عثمان بزدار تک

وقار یونس، سعید انور، انضمام الحق، وسیم اکرم، عبد القادر پاکستانی ٹیم کے وہ درخشاں ستارے ہیں جن پر ہم ہمیشہ ناز کر سکتے ہیں۔ یہ سب کھلاڑی بے پناہ ٹیلنٹ اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ایک دنیا ان کی معترف ہے۔ کون ہے جو ان کے ہنر، ان کے جادو اور ان کے کرشموں کا انکاری ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود ان کو دریافت کرنے، ان کو مواقع دینے، ان کے ٹیلنٹ میں نکھار لانے میں عمران خان

Read more

مراعات بڑھتی گئیں جوں جوں تنخواہ بڑھی

حوالہ اور وقت تو یاد نہیں، لیکن ایک صاحب نے ایک بار برطانوی معاشی نظام کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہاں امراء سے ٹیکس وغیرہ لے کر سب سے نچلے طبقے کی حالت سنوارنے کی کوشش کی گئی اور درمیانے طبقے کو نہیں چھیڑا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ نچلا طبقہ بھی کم از کم درمیانے طبقے کے درجے تک پہنچ سکے۔ امریکہ کے بارے میں تو ہم نے خود پڑھا تھا کہ وہاں کے ارب

Read more

ایک تھی گیس

بہت عرصہ پہلے دیہات میں رہنے والے ہمارے ایک عزیز نے شہر میں رہنے والے اپنے عزیز و اقارب کو گیس کے استعمال کی ”عیاشی“ کرتے دیکھا تو اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ انسان شہر میں ایک مکان صرف پکوائی کے لیے رکھے۔ رہائش دیہات میں ہی رکھے، بس صبح و شام کھانا پکانے شہر آئے اور پھر واپس چلا جائے۔ عملی طور پر ظاہر ہے یہ ممکن نہیں تھا، بس گیس کی سہولت کی طرف ایک اشارہ

Read more

کیا ملاوٹ ہماری شناخت بن چکی؟

کل بازار سے ایک معروف برانڈ کا  باڈی لوشن لے کر آیا۔ شک پڑنے پر دو تین دن پہلے کسی دوسری دکان سے خرید کردہ اسی برانڈ کے لوشن کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھا تو دونوں کی رنگت اور خوش بو میں واضح فرق نظر آیا۔ پیکنگ کے اوپر موجود تحریر میں بھی بعض جگہوں پر فرق موجود تھا۔ استعمال کرنے پر بھی بعد والے کی کوالٹی گھٹیا محسوس ہوئی۔ کل خریدتے وقت دکان دار سے بھی تسلی کرنی

Read more

آٹھویں جماعت کے امتحان کی یادیں

اس سال کرونا کی وجہ سے صوبہ پنجاب میں آٹھویں جماعت کا محکمانہ امتحان نہیں ہوا۔ اس اجتماعی امتحان کی بجائے ہر سکول نے اپنا اپنا امتحان لیا۔ رزلٹ بہر حال اس امتحان کا بھی سنانا پڑا۔ آٹھویں جماعت کے رزلٹ کا اعلان ہوا تو ہمیں اپنا آٹھویں جماعت کا امتحان یاد آ گیا۔ ہمارے دور میں سرکاری ہائی سکولز کے لیے آٹھویں جماعت کا محکمانہ یا ”پیک“ کا امتحان دینا لازمی نہیں تھا۔ سکول کے لائق طلبہ البتہ وظیفہ

Read more

کیا پکایا جائے اور کیا لکھا جائے؟

گھر چلانے کے لئے جہاں اور بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وہاں روزانہ ایک مشکل سوال بھی درپیش ہوتا ہے کہ آج کیا پکانا ہے؟ ہمارے گاؤں میں ایک چودھری صاحب رہتے تھے۔ سیاسی پس منظر بھی تھا۔ اس لئے ڈیرہ بھی چلتا تھا۔ نوکر صبح سویرے جب اس دن کے کھانے کے لئے پوچھتا تو اپنی پسند بتانے سے پہلے ہمیشہ یہی جواب دیتے کہ آج زہر پکا لو۔ اس جواب میں بھی یہی راز پوشیدہ تھا کہ

Read more

تایا قاسم علی کو ہی مشیر بنا کر دیکھ لیں

اشفاق احمد صاحب کو سننے والے اور پڑھنے والے یہ واقعہ پہلے بھی سن اور پڑھ چکے ہیں۔ باقیوں کے لئے دہرانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کو سننے کا مزہ خود ان کی زبان سے سننے میں ہی ہے : ”جب میں میٹرک کرنے کے بعد ایف۔ اے میں داخل ہوا تو مجھے پھر شہر آنا تھا۔ میری ماں نے ہمارے ملازم کو ایک ٹرنک سا دیا اور کہا کہ جا کر اشفاق کو چڑھا آ۔ ان دنوں ہمارے

Read more

کیا پاکستان ہاکی دوبارہ زندہ ہو گی؟

ہمارے ایک ویٹ لفٹر طلحہٰ طالب نے ٹوکیو اولمپکس میں ویٹ لفٹنگ میں پانچویں پوزیشن حاصل کر کے ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ جناب ٹوکیو میں اولمپکس نام کی کھیلیں بھی ہو رہی ہیں۔ جاپان، چین، امریکہ وغیرہ کے کھلاڑی سونے، چاندی اور کانسی کے تمغے دھڑا دھڑ جیت رہے ہیں۔ ہم بچپن سے پچپن تک آ گئے لیکن پاکستان کبھی ان کھیلوں میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہ کر سکا۔ ایک سوال ہمیں اکثر پریشان کرتا

Read more

کیا ملتان ہندوؤں کا ”کرتار پور“ بن سکتا ہے؟

فیس بک پر بھارت اور پاکستان کے لوگوں کا ایک گروپ بنا ہوا ہے۔ اس گروپ میں دونوں ممالک کے لوگ بڑھ چڑھ کر اور انواع و اقسام کی پوسٹیں لگاتے ہیں۔ ان میں ایک چیز دونوں ملکوں کے لوگوں کی مشترکہ ہے اور وہ ہے ہجرت کے دکھ۔ دونوں ملکوں نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی۔ ان کو پہلے سے پتا نہیں تھا کہ اس آزادی کی انہوں نے کیا قیمت ادا کرنی ہے؟ کیا قیمت ادا کی، وہ

Read more

کرونا کی چوتھی لہر، ایک بار پھر جوتے اور پیاز کا کھیل

وفاقی وزیر جناب اسد عمر کے اس انتباہی بیان نے کہ کرونا کی چوتھی لہر جلد ہی ہمیں اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، ایک بار پھر ہماری سانسوں کو اوپر نیچے کر دیا ہے۔ اس بیان کے بعد کرونا سے نمٹنے کی ہماری حکمت عملی پر بھی ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پاکستان خوش قسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جہاں اس وبا سے تباہی کی شرح دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت کم ہے۔ یہ

Read more

ملک میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ

سرکار نے ہمیں تبدیلی کی بتی کے پیچھے کچھ اس طرح سے لگایا ہوا ہے کہ ہماری نظریں کسی بڑی تبدیلی کی تلاش میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کی دیکھنا بھی گوارا نہیں کر رہیں۔ خبر یہ ہے کہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ اضافہ ہو گیا ہے اور یہ تعداد 55 لاکھ سے بڑھ کر 56 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ خبر ہماری نظروں سے اوجھل ہونے سے بال بال بچی ہے، ورنہ

Read more

آئندہ جہاز میں اپنا کمبل ساتھ لے کر جائیں

ابا جی مرحوم سکول میں استاد تھے اور درسی کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں کے بھی رسیا تھے۔ گھر میں اخبار بھی پڑھنے کو لازمی ملتا تھا۔ مذہبی، سیاسی، نیم سیاسی ہر قسم کے رسائل بھی گھر میں ہر طرف بکھرے ہوتے تھے۔ ہم نے ہوش سنبھالا تو گھر میں ریڈیو بھی موجود تھا۔ ٹی۔ وی بھی ہمارے گھر میں نسبتاً جلدی آ گیا تھا۔ خبروں کے شوقین حضرات کے لئے بی بی سی کو سننا تو لازمی تھا۔ ابا

Read more

غیر ملکی ولاگرز اور سیاح: پاکستان کے حقیقی محسن

کورونا اور کچھ مشکل حالات کی وجہ سے اس گئے گزرے دور میں پاکستان میں آنے والے یوٹیوبرز اور سیاح پاکستان کے حقیقی محسن ہیں۔ وہ ایک طرح سے پاکستان کے غیر سرکاری سفیر ہیں۔ وہ پاکستان سیاحت کے لئے آتے ہیں، یہاں کے خوبصورت علاقوں کو دیکھ کر ششدر رہ جاتے ہیں، یہاں کے لوگوں سے ملتے ہیں، ان کی سادگی، خوبصورتی اور مہمان نوازی ان کے لئے خوشگوار حیرتوں کا ایک ایسا سمندر ہوتی ہے جس میں وہ

Read more

اسحاق سے عشق اور عاشق تک

کچھ باوثوق خاندانی ذرائع بتاتے ہیں کہ ہماری پیدائش پر والد صاحب نے ہمارا نام اسحاق کی بجائے کچھ اور ہی تجویز کیا تھا۔ وہ نام کیا تھا، یہ بتانے سے سبھی قاصر ہیں۔ ہمیں تجسس تو بہت ہے کہ اس نام کا سراغ کہیں نہ کہیں سے ملے، لیکن سب راوی خاموش ہیں۔ یہ اطلاع تو بہرحال حتمی ہے کہ اسحاق نام ہماری پھوپھی مرحومہ نے بڑے اصرار کے ساتھ ساتھ رکھا تھا۔ وجہ اس کی یہ کہ حضرت

Read more

ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی: کچھ باتیں کچھ یادیں

والد صاحب گاؤں کے سکول میں استاد تھے۔ سکول کے پرائمری اور ہائی حصے انتظامی لحاظ سے الگ الگ تھے، لیکن دونوں حصے جغرافیائی اعتبار سے ایک ہی چار دیواری کے اندر تھے۔ والد صاحب ہائی حصہ میں تھے اور میں ان دنوں چوتھی یا پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ فاروق بھائی بھی اتفاقاً سکول میں موجود تھے۔ سکول کے ایک کمرے کی پوری کی پوری چھت ان کے اوپر گر گئی۔ والد صاحب کمرے کے باہر بیٹھے تھے۔ چالیس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے، لیکن ابا جی کی درد بھری آواز مجھے آج بھی سنائی دے رہی ہے ”فاروق اندر ہے، فاروق اندر ہے۔“

Read more

مستنصر حسین تارڑ اور ایک ایرانی طالب علم کی پیش گوئی

جناب مستنصر حسین تارڑ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ 1975 میں افغانستان، ایران، ترکی، شام، لبنان اور یورپ کے کچھ ممالک کی سیاحت کے دوران ایران کے شہر مشہد سے بذریعہ بس تہران جاتے ہوئے ان کی ملاقات ایک ایرانی طالب علم سے ہوئی۔ اس وقت ایران میں ”شہنشاہ“ محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی۔ کہتے ہیں کہ ان کے دورہ پاکستان کے موقع پر ان کو ”شاہ ایران“ لکھا گیا تو ایران کی طرف سے باقاعدہ

Read more

کرونا، آ بیل مجھے مار

دو تین پہلے دروازے ہر دستک ہوئی، باہر نکلا تو تقریباً نصف درجن تبلیغی بھائی ایک محلے دار کے ساتھ منتظر تھے۔ حسب معمول معاشرے کے دگرگوں حالات کا تذکرہ کر کے مسجد میں جانے کی دعوت دی جہاں ان کا ایک ساتھی دعوت و تبلیغ کے موضوع پر تقریر کر رہا تھا۔ دعوت و تبلیغ بہت اچھی بات ہے۔ کئی بار ان مجالس میں حاضر بھی ہوئے ہیں، ”ارادے“ کا ثواب بھی لیا ہے۔ لیکن حالات کے پیش نظر اس دن اچھے الفاظ میں معذرت کی کہ کرونا کی نئی لہر کی وجہ سے باہمی میل جول اور کسی بھی قسم کے چھوٹے یا بڑے اجتماع سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔

Read more

کرتار پور کوریڈور، ایک عرض تمنا۔

کرتار پور کوریڈور کا افتتاح 9 نومبر 2019 کو ہوا تھا۔ گویا 9 نومبر اس کی ”سالگرہ“ کا دن ہے۔ یاد رہے کہ علامہ اقبال کی پیدائش کا دن بھی یہی ہے اور شہر بھی سیالکوٹ کا جو کرتار پور کے ضلع نارووال کا ہمسایہ ضلع ہے۔

Read more

مولانا ظفر علی خاں کی توند کیوں نہیں تھی؟

مولانا ظفر علی خاں کے بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ اچھے مقرر تھے، شاعر تھے، انشا پرداز تھے، سیاست دان تھے، اچھے صحافی تھے یا اچھے ایڈیٹر تھے۔ ان میں یہ سب خوبیاں موجود تھیں۔ شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ان کے علاوہ ان میں کچھ پہلوانی خوبیاں بھی موجود تھیں۔ لیکن عام پہلوانوں کی طرح وہ ایک بہت بڑی توند کے مالک نہیں تھے۔ ان کی توند کیوں نہیں تھی؟ اس راز سے

Read more

نیوزی لینڈ کا ولاگر اور کراچی کی موبائل شاپ

27 سالہ نک فشر نیوزی لینڈ کا یوٹیوبر ہے۔ وہ دنیاکے مختلف ممالک کی سیرکرتا ہے، وڈیوز بناتا ہے اور اپنے یوٹیوب چینل پراپ لوڈ کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ ایک ”ولاگر“ ہے۔ دنیا بھر میں اس کے سبسکرائبرز کی تعداد سات لاکھ اٹھاسی ہزار ہے۔ دنیا کے بہت سے اور ”ولاگرز“ کی طرح اس کا ذریعہ معاش بھی یہی ہے۔ یہ ”آم کے آم گٹھلیوں کے دام“ والی بات ہے کہ سیر کرو، وڈیو بناؤ اور پیسے بھی

Read more

کراچی یاترا، بس یا ٹرین، دو مختلف سفری تجربات

ایک زمانہ تھا پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے زمینی راستے سے کراچی آنے جانے کے لئے زیادہ تر ٹرین ہی استعمال ہوتی تھی۔ بس کا سفر مختلف وجوہات کی بنا پر بہت مشکل سمجھا جاتا تھا اور کوئی ایسی ”غلطی“ کر بیٹھتا تھا تو اس کو لوگ حیرانی سے دیکھتے تھے کہ یہ بس پر کراچی جا رہا ہے۔ ان مختلف وجوہات میں سڑکوں کی ابتر صورتحال، لمبے فاصلے کی وجہ سے تھکاوٹ، وقت کا ضیاع، بسوں کا آرام دہ

Read more

سو فی صد ڈیجیٹل بینکنگ کیوں نہیں؟

دوران سفر خاندان ”الف“ کی لڑکی کو اس کی سہیلی کا پیغام موصول ہوا کہ ایک شادی پر جانا ہے۔ تمام تیاریاں مکمل ہیں، پر جیب خالی ہے۔ لڑکی کے والد نے اپنا موبائل نکالا اور اپنے بینک کی ایپ سے اس کی مطلوبہ رقم اس کے موبائل اکاؤنٹ میں منتقل کر دی۔ اس سہولت کا استعمال انہوں نے پہلے دن نہیں کیا تھا، اس سے پہلے بھی کرتے آ رہے تھے۔ انہی صاحب کی جیب میں ایک دن کافی

Read more

حکومت حجاز کے تین دور: ترکی، شریفی اور سعودی

(ہمارے دادا جان سید محمد شریف گھڑیالوی ایک نیک دل، خوب سیرت اور اللہ والے بزرگ تھے۔ قیام پاکستان سے قبل متحدہ پنجاب میں ایک مذہبی جماعت کے منتخب امیر تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تین حج کیے ، جن کی روداد بہت سادہ اور دلنشیں انداز میں بیان کی۔ اس سفر نامے میں ترکی، شریفی اور سعودی، تینوں ادوار کی جھلک دکھائی دیتی ہے ) ” 1908 کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری دیرینہ آرزو پوری

Read more

کیا ”سب رنگ“ ڈائجسٹ کے قاری کے ساتھ ہاتھ ہو گیا؟

ان دنوں دو وجوہات کی بنا پر نئی کتابوں کی خرید مؤخر کی ہوئی تھی: ایک وجہ تو کرونا وائرس کی وبا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے زیادہ تر خریداری آن لائن ہو رہی ہے۔ ذہن میں یہی خیالات گردش کرتے رہتے ہیں کہ کتاب پیکنگ سے لے کر بذریعہ ڈاک ترسیل کے دوران پتہ نہیں کن کن ہاتھوں سے گزرے گی۔ ان میں سے کوئی فرد بھی خدانخواستہ کرونا کا شکار ہو سکتا ہے اوراس کتاب کو مشکوک کر

Read more

وزیر ہوا بازی کی بیان بیازی اور کچھ سوالات

وفاقی وزیر ہوا بازی کے اس بیان کے بعد کہ پی آئی اے اور دنیا کی کچھ دوسری ایئرلائنز میں کام کرنے والے بہت سے پاکستانی پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، ”دیکھتی آنکھوں“ اور ”سنتے کانوں“ نے سمجھ لیا تھا کہ اب پاکستانی پائلٹوں اور پی آئی اے کی خیر نہیں۔ وجہ اس کی صاف ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں پر ہمارے دشمنوں کے ”رڈارز“ ہر دم چوکس رہتے ہیں۔ وہ اسی انتظار میں ہوتے ہیں کہ کوئی معمولی سی بات

Read more

صدر الدین ہاشوانی کا ”سچ کا سفر“

اپنے ارد گرد خوشحال چہروں کو دیکھ کر انسان اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ لوگ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ہیں یا ان کے پیچھے برسوں کی مشقت کا تھکا دینے والا سفر ہے۔ جناب صدرالدین ہاشوانی بھی ایسے ہی چہروں میں سے ہی ایک ایسا چہرہ ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو وقت آنے پر خود ہی اس راز سے پردہ اٹھا دیتے ہیں کہ دودھ اور شہد کی یہ نہریں جو

Read more

خدمت خلق کے آسان راستے

ہمارے ہاں اکثریت کا یہی خیال ہے کہ خدمت خلق کے لیے ضروری ہے کہ ہم ملک ریاض ہوں اور بحریہ ٹاؤن جیسے ادارے کے مالک ہوں یا پھر ہمارا نام بل گیٹس ہو اور ہم اربوں ڈالر کے اثاثوں کے مالک ہوں۔ اسی غلط تصور کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو بڑی آسانی سے ا نسانیت کی خدمت سے محروم کر لیتے ہیں۔ اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ ہمارے ہاں نیکی کا یہ کام با

Read more

جان بچانے کے لئے کشتی نوح سے رابطہ کریں

ہم میں سے اکثر نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی کے بارے میں پڑھ رکھا ہے یا سن رکھا ہے۔ ان کی ساڑھے نو سو سال کی انتہائی صبرآزما وعظ و نصیحت کے باوجود صرف اسی کے قریب لوگ ہی ایمان لائے۔ اس کے بعد اللہ کے حکم سے انہوں نے ایک کشتی تیار کی۔ کشتی کے سواروں میں ایمان لانے والوں کے علاوہ ہر ذی روح یعنی چرند، پرند اور تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا

Read more

کورونا نے قوم میں تقسیم واضح کر دی

کرونا کے بارے میں دو نظریے مارکیٹ میں گردش کر رہے ہیں : ایک کے مطابق یہ سب فراڈ ہے جس کے ذریعے ایک ”نیو ورلڈ آرڈر“ دنیا میں لاگو ہونے جا رہا ہے۔ دوسرے کے مطابق یہ ایک حقیقت ہے اور اس کو بہت سنجیدہ سمجھ کر احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ دوسرا خیال درست ہے۔ شروع میں اس کا مقابلہ کرنے کے لئے جو دو ماڈل سامنے آئے ان میں سے ایک

Read more

سکول میں داخلے کے وقت بچے کی عمر کیا ہو؟

گھر کے ساتھ ہی ایک سکول ہے۔ صبح اور چھٹی کے وقت بچوں کو سکول آتے جاتے دیکھتا ہوں۔ ان میں بعض بچے اتنے چھوٹے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچے سکول جا رہے ہیں۔ ان چھوٹے بچوں میں سے سارے خوشی خوشی سکول نہیں آتے، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو رو رہے ہوتے ہیں، کچھ رو نہیں رہے ہوتے لیکن ان کے چہروں پر ناگواری کے اثرات دیکھے جا سکتے ہوتے ہیں اور کچھ گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے خیال میں ان کی کم عمری ہوتی ہے کیونکہ ان سے بڑی عمر کے بچے خوشی خوشی سکول آ رہے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر سکول میں داخلہ کے وقت بچے کی عمر کیا ہو؟

Read more

نیم پختہ صحافی سے نیم پختہ لکھاری تک

”نیم پختہ صحافی“ ہوش کی عمر کو پہنچا تو اس نے گھر میں ہر طرف اخبارات، رسائل اور کتابوں کو بکھرے دیکھا۔ اس کا اندازہ ہے کہ ان کے گھر میں پڑھنے والی چیزوں کی تعداد گھر میں موجود بستروں اور برتنوں سے زیادہ تھی۔ اس کے والد صاحب سکول میں دوسرے مضامین کے علاوہ اردو بھی پڑھاتے تھے اور انہی کے ذوق مطالعہ کی وجہ سے گھر میں ایک بکھری ہوئی لائبریری کا ماحول تھا۔ گاؤں کا پوسٹ آفس بھی اس کے والد صاحب ہی چلاتے تھے۔

Read more

کرونا کی کیا مجال ہے!

پوری دنیا میں کرونا کے بعد والی زندگی پر خوش فہمی پر مبنی بہت سے باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ مثلاً یہ دنیا میں وسائل کا رخ اب میزائل، ٹینک، لڑاکا جہاز، ایٹم بم اور دوسرا تباہ کن اسلحہ بنانے کی بجائے انسانوں کی فلاح وبہبود کی طرف مڑ سکتا ہے۔ وجہ اس کی واضح ہے، ہر قسم کا مہلک اسلحہ ایک چھوٹے سے وائرس سے بچاؤ میں ہماری کوئی مدد نہیں کر رہا۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔

Read more

کیا ہم واقعی اسلام پسند ہیں؟

فرض کریں آپ ایک ایسی عمارت میں رہتے ہیں جہاں اوپر نیچے دو خاندان آباد ہیں۔ ایک خاندان لاک ڈاؤن پر عمل کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ پچاس سال کی عمر سے زیادہ والے افراد باہر نہ نکلنے کی ہدایات پر سو فی صد عمل کر رہے ہیں۔ انتہائی ضرورت کے وقت ایک نوجوان تمام حفاظتی انتظامات کے بعد ہی گھر سے نکلتا ہے۔ گھر میں سینی ٹائزر کا مناسب بندوبست بھی ہے، ڈاکٹرز کی ہدایات کے عین

Read more

والدہ مرحومہ کی یاد میں

میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو ماں جیسی نعمت سے محروم ہیں اور محرومی کا یہ دور چھ سال پہلے شروع ہوا۔ 15 اور 16 اپریل 2014 کی درمیانی رات جب موبائل فون کی سکرین پر گاؤں سے اپنے کزن افضل شاہ کا نام دیکھا تو دل ڈوب سا گیا۔ یہ فون کی گھنٹی نہیں تھی جو بج رہی تھی، یہ دل کے اندر خطرے اور خدشے کا الارم تھا جوبج رہا تھا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ

Read more

جناب عامر خاکوانی کی کتاب: زنگار نامہ

اس وقت لوگوں کی ایک کثیر تعداد لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں تک محدود ہو چکی ہے۔ زیادہ تر خواتین تو پہلے ہی گھر وں میں رہتی تھیں کہ ”ہاؤس وائف“ کہلاتی ہیں۔ سکول جانے والے بچے، دفاتر میں کام کرنے والے مرد اور عورتیں وغیرہ دوسری بہت سی پریشانیوں کے علاوہ ایک اور پریشانی میں مبتلا ہیں کہ وافر ملے اس وقت کو کیسے گزارا جائے؟ دوسرے بہت سے لکھاریوں کی طرح جناب عامرخاکوانی بھی اپنے کالمز میں

Read more

کرونا کے بعد: معاشیات اور معاشرت کی صورت کیا ہو گی؟

بہت سے گھروں میں کام کرنے والی ماسی ایک گھر سے ”فارغ“ ہو کر دوسرے گھر میں آئی اور کچھ فکر مندی سے بولی ”باجی پہلے گھر والوں نے تو مجھے تنخواہ دے کر فارغ کر دیا ہے کہ بہت خطرہ ہے، حکومت کی ہدایات بھی یہی ہیں کہ فی الحال کام کرنے والی ماسیوں کو عارضی چھٹیوں پر بھیج دیا جائے، آپ لوگوں کا کیا ارادہ ہے؟ “ اس باجی کا جواب بھی یہی تھا جو پچھلے گھر والوں

Read more

کیا ہم خود کش بمبار بن چکے ہیں؟

کچھ عرصہ پہلے دورانِ سفر وین کے ایک مسافر نے دوسرے مسافر سے اس کے نوجوان بھتیجے کی ٹریفک حادثے میں المناک موت پر اظہارِافسوس کیا تو اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا ”مرحوم کو کئی بار اس کی خطرناک ڈرائیونگ پر ٹوکتا تھا، لیکن ہر بار یہی کہتا تھا : انکل نو ٹینشن، اب پورے خاندان کو ٹینشن دے گیا ہے۔ “ بہت دفعہ ایسا ہوا کہ ون ویلنگ کے دوران موٹر سائیکل سوار زخمی ہوتے ہیں،

Read more

ہمارے گاؤں کی ٹھنڈی سڑک

کل محترم ایّاز امیر اور برادرم رؤف کلاسرا دونوں نے درختوں اور جنگلوں سے اپنی محبت اور پھر ان کی کٹائی کی صورت میں اس محبت کے لٹنے کی الگ الگ داستانیں لکھیں تو ہمیں بھی اپنے بچپن اور لڑکپن کی دو سڑکیں بہت یاد آئیں جن میں ایک کا نام ٹھنڈی سڑک یا ”ٹاہلیوں والی سڑک“ تھا۔ اپنے گاؤں سے اپنے سکول کی طرف جاتے ہم روزانہ ہی اس ٹھنڈی سڑک سے گزر کر جاتے۔ ہماراسکول ہمارے گاؤں سے

Read more

موٹیویشنل اسپیکرز: کھوٹے سکے بھی چل سکتے ہیں

آج کل موٹیویشنل اسپیکرز کا کافی غلغلہ ہے۔ وہ لوگوں میں اپنے جوشِ خطابت سے ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگ انفرادی طور پر بھی ان کی مجالس میں شرکت کرتے ہیں اور اس کے علاوہ بہت سی کمپنیاں اور ادارے بھی ان کو اپنے ہاں مدعو کرتے ہیں جہاں وہ ان اداروں اور کمپنیوں کے ملازمین کو اپنی کارکردگی بڑھانے کے گر سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی ان کے اکاؤنٹس

Read more

تعریف کی ضرورت

اتوار کے روز ایک قریبی عزیز کی کتاب کی تقریبِ رونمائی تھی۔ بہت سے لوگ آئے، بہت سے نہیں بھی آئے، نہ آنے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جن کے آنے کی بہت امید تھی۔ نہ آنے کی دو وجوہات نمایاں ہو کر سامنے آئیں : ایک تو یہ لوگوں کو کتاب میں دلچسپی بہت کم رہ گئی ہے۔ دوسری وجہ ہمارے ہاں چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے کی بجائے، چھٹیوں میں ملتوی شدہ کام نمٹانے کو رواج

Read more

ڈیجیٹل پاکستان کا کریڈٹ

کچھ دن ہوتے ہیں محترمہ تانیہ ادریس کی گوگل کو چھوڑ کر پاکستان آنے کی خبر ملتی ہے۔ مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل پاکستان میں بدلنا ہے۔ بہت اچھی بات ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل بھی ہو گا اور وہ بھی اس پاکستانی کے ہاتھوں جو ایک اچھی ملازمت اور پر آسائش زندگی ترک کر کے محض اپنے ملک کے لیے یہاں آئی ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی اور لوگوں میں بھی یہ جذبہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ملائشیا میں ایسا ہو سکتا

Read more

امرتسر سے راکھی جائے پاک پتن میں بھائی کو

نیند کے دوران آنے والے خوابوں پر ہمارا کوئی اختیار نہیں، لیکن جاگتی آنکھوں کے خواب اور خیالات پر تو ہماری مرضی چلتی ہے. ہم جیسے بھی خواب دیکھیں، جو بھی خیالات ذہن میں لائیں، ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ساحر لدھیانوی صاحب کے دل میں تو یہ خیال آیا تھا کہ ”زندگی تیری زلفوں کی نرم چھاؤں میں گزرنے پاتی توشاداب ہو بھی سکتی تھی“۔ ہمیں اس سے ذرا مختلف خیال آیا ہے. انجام کے اعتبار سے اگر چہ

Read more

یو ٹرن

خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، بڑوں کی دیکھا دیکھی بعض اوقات چھوٹے بھی بڑوں والے کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ ہم نے سوچا ہم سے بڑے یو ٹرن لے رہے ہیں تو ہمارے ”کانٹا“ بدلنے سے کیا ہوتا ہے، چنانچہ ہم نے بھی اپنا بیانیہ بدل لیا ہے اور عین ملکی مفاد میں بدلا ہے۔ دوسرے بہت سے شہروں کی طرح ہمارے شہر میں بھی سڑکوں اور گلیوں کی حالت بہت ابتر ہے۔ سڑکوں کی اس خراب

Read more

رضا علی عابدی کی ”اردو کا حال“

اگر آپ کتابوں کی کسی دکان یا لائبریری سے اردو زبان میں کسی اچھی کتاب کی تلاش میں ہیں اور آپ کی نظر ایک ایسی کتاب پر پڑتی ہے جس پر ایک تختی کی تصویر ہو، تختی کے اوپر اردو حروفِ تہجی لکھے ہوئے ہوں، کتاب کا نام ”اردو کا حال“ ہو، مصنف کا نام رضا علی عابدی (بی بی سی والے ) ہو تو اسے محض اردو کا کوئی قاعدہ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں بلکہ اسے پہلی فرصت

Read more

با ذوق قارئین کی ضرورت ہے

لکھنے اور پڑھنے والے کی جہاں یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کو پڑھنے اور سننے والے کافی تعداد میں ہوں وہاں یہ ارمان بھی ہوتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے باذوق بھی ہوں۔ ”ہم سب“ کے ایک لکھاری نے کچھ عرصہ پہلے ایک آرٹیکل ”عبد السلام کی بیٹی اٹلی کیوں نہ جا سکی“ لکھا تھا۔ لکھنے والے نے اس میں اپنی ایک کلاس فیلو لڑکی کا حال لکھا تھا۔ مضمون نگار اپنی اس کلاس فیلو کو اس کی

Read more

خوشی اورجیب کا تعلق

ایک امریکی ادارے کے سروے کے مطابق انسان کو خوشی دولت دے سکتی ہے نہ ڈھیر ساری نعمتیں۔ زندگی میں کوئی بہت بری کامیابی مل جائے وہ بھی خوشی کا باعث ہوتی ہے، زندگی کے سارے نہیں کچھ خواب ہی پورے ہو جائیں تو مسرت کا کچھ نہ کچھ سامان بن ہی جاتا ہے۔ کرکٹ کا کھلاڑی سینچری بنا لے، اننگز میں پانچ وکٹیں لے لے، فٹ بال اور ہاکی کا کھلاڑی گول کر لے، ٹینس کھیلنے والا ومبلڈن کا

Read more

”کتابیں ہیں چمن اپنا“

ان دنوں انڈین حکومت کی طرف سے تو اچھی خبر ملنے کی امید بہت کم ہے، البتہ ایک بھارتی شہری کی طرف سے حیران کن خبر سننے کو ملی ہے۔ جنوبی ہندوستان کے صوبے تامل ناڈو کے ایک شہر کے ایک باربر نے اپنے سیلون میں گاہکوں کے لیے ٹی۔ وی رکھنے کی بجائے ایک چھوٹی سی لائبریری قائم کر دی ہے۔ جو شہری کتاب پڑھے گا اسے تیس فیصد رعایت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تاہم خبر میں

Read more

شادیوں کو شاد ہی رہنے دیں

آج دفتر میں کل ہونے والی ایک شادی کافی زیرِ بحث رہی۔ ہمارے ایک ساتھی نے دعوتی کارڈ پر لکھے دوپہر ایک بجے کے وقت کو کافی سنجیدہ لے لیا۔ وقت پر پہنچنے کی خواہش کے مدِنظر انہوں نے اپنے گھر کی قریبی مسجد کی بجائے ظہر کی نماز شادی گھر کے راستے میں آنے والی اس مسجد میں پڑھی جہاں ان کے گھر کے قریب مسجد سے پہلے ایک بجے نماز پڑھائی جاتی ہے۔ وہ کسی صورت لیٹ ہونے

Read more

زندگی کے پانچ بڑے پچھتاوے

برونی ویئر (Bronnie Ware) ایک آسٹریلین نرس ہے جس نے کافی عرصہ ایک ایسے ہسپتال میں گزارا جہاں ان افراد کو رکھا جاتا تھا جو بوڑھے تھے، بیمار تھے، بظاہر بول سکتے تھے، سن سکتے تھے، ہوش و حواس میں ہوتے تھے، لیکن طبی اعتبار سے زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھ بھال کرتے، ان سے گفتگو کرتے، ان سے ان کی گزشتہ زندگی کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے وہ ان ”مرتے ہوئے لوگوں“

Read more

مستنصر حسین تارڑ، میرے قلمی دوست

ابا جی کے دور میں ہمارے گھر میں کتابوں، رسائل اور اخبارات کی تعداد برتنوں اور کپڑوں سے زیادہ تھی۔ یہ کتب، رسائل اور اخبارات گھر میں پڑھے بھی جاتے تھے۔ ابا جی اسکول میں اردو ادب کے استاد تھے، اس لیے گھر میں ادبی، سماجی اور سیاسی شخصیات کا ذکر رہتا تھا۔ ان دنوں مستنصر تارڑ صاحب کی کوئی کتاب گھر میں موجود نہیں تھی پھربھی ان کا نام سنا سنا تھا اور وہ ہمارے لیے کوئی اجنبی شخصیت

Read more

طلبہ یونینز کی بحالی کا۔ ”کٹا“ نہ ہی کھولیں تو بہتر ہے

سمیع اللہ (نام فرضی، کہانی اصلی) نے اپنی لگنے والی پھینٹی کی کہانی خود ہی سنائی تھی۔ سمیع اللہ ایک شہر میں ایک طلبہ تنظیم کا ایک سرگرم عہدیدار تھا اور اس تنظیم کی اس شہر میں کافی دہشت تھی اور اپنی اس دہشت کو برقرار رکھنے کے لیے بوقتِ ضرورت وہ چھوٹا موٹا ”کھڑاک“ بھی کر دیتے تھے۔ اس کھڑاک کی نوعیت بعد میں بتائی جائے گی۔ گیدڑ کی شامت آئے تو وہ گاؤں کی طرف بھاگتا ہے، اس

Read more

دیوان سنگھ مفتون کی ”ناقابلِ فراموش“

پرائمری پاس چیف ایڈیٹر کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ دیوان سنگھ مفتون کی زندگی کا کچھ حال احوال پچھلے کالم میں بیان ہو چکا، آج تذکرہ ان کی ناقابلِ فراموش کتاب ”ناقابلِ فراموش“ کا۔ لائبریری میں تلاش تو کسی اور کتاب کی تھی، وہ تو نہ مل سکی، دیوان سنگھ مفتون کی ”ناقابلِ فراموش“ ہتھے چڑھ گئی۔ کتاب اور مصنف کا نام تو سنا ہوا تھا، پر پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ پڑھنے سے پہلے ہم اسے

Read more

پرائمری پاس چیف ایڈیٹر

1890 میں حافظ آباد کے ایک پنجابی گھرانے میں ایک بچہ پیدہوتا ہے اور صرف چالیس دن بعد والد کے سائے سے محروم ہو جاتا ہے۔ والدایک نامور ڈاکٹر تھے اور وفات کے وقت ایک سرکاری ہسپتال میں ملازم تھے۔ گھر میں پیسے کی فراوانی تھی، سو ایکٹر زمین، ایک سے زیادہ مکانات، پندرہ کلو گرام کے قریب سونا بھی گھر میں موجود تھا، جی ہاں پندرہ کلو گرام، پندرہ تولے نہیں، گویا مالی لحاظ سے یہ ایک خوش حال

Read more

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے

گاؤں میں میرا معمول تھا کہ میں صبح صبح سیر کے لیے گاؤں کے مشرق میں واقع راجباہ کی طرف نکل جاتا تھا۔ راجباہ بڑی نہروں سے دیہات کی طرف جانے والی آبی گزرگاہ کو کہتے ہیں۔ آپ اسے نہر کا ایک بچہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ راجباہ سے پھر کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے اور چھوٹی آبی گزرگاہیں بنائی جاتی ہیں جن کو ”کھال“ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ راجباہ کے ایک کنارے پر پختہ سڑک بنی ہوئی ہے،

Read more

ترقی صرف 40 کلومیٹر دور

جہانیاں ضلع خانیوال کی ایک تحصیل ہے اور اس سے مغرب کی طرف تقریباً 40 کلومیٹر کی دوری پر قدیم اور تاریخی شہر ملتان واقع ہے۔ بظاہر یہ فاصلہ بہت تھوڑا ہے، تیز رفتار سواری پر تیس سے پینتالیس منٹ میں یہ سفر آسانی سے طے ہو جاتا ہے۔ اگر موازنہ کیا جائے تو ملتان ہر لحاظ سے جہانیاں سے آگے ہے، گویا ملتان کے مقابلے میں جہانیاں ایک قصبہ ہی لگتا ہے۔ ترقی کے اعتبار سے جہانیاں اور ملتان

Read more

کرتار پور سے بابری مسجد تک

کل کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بھارت اور دوسرے ممالک سے آئے سکھ یاتریوں کا مذہبی جوش و خروش اور نوجوت سنگھ سدھو کی شعر و شاعری سے مزیّن جذباتی تقریر سن کر ابّا جی مرحوم بہت یاد آئے۔ سدھو سمیت بہت سے سکھ حکومتِ پاکستان، خاص طور پر عمران خان کا شکر یہ ادا کر رہے تھے کہ ان کی بدولت پاکستان میں موجود ہمارے ”مکے“ اور ”مدینے“ یعنی کرتار پور تک آسان رسائی کا

Read more

زندگی کا جار کیسے بھرا جائے؟

 کچھ عرصہ پہلے کسی امریکی یونیورسٹی کی ایک کلاس کی وڈیو دیکھنے کا موقع ملا۔ چند منٹ کی وڈیو میں دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے زندگی کی حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی گئی۔ پروفیسر صاحب نے جب اپنے بیگ میں سے شیشے کا ایک چھوٹا جار اور سفید رنگ کی گیندیں نکالیں تو کلاس کے طلبہ و طالبات کافی متجسس اور حیران نظر آئے کہ پروفیسر صاحب آج کیا شعبدہ دکھانے والے ہیں۔ انہوں نے سب سے

Read more

نصیب اپنا اپنا

ایک وقت تھا ایک ادارے کی سربراہی اس کے پاس تھی۔ کچھ خاص لوگوں کو چھوڑ کر ہر انسان میں خوبیاں اور خامیاں موجود ہوتیں ہیں، بس فرق تناسب کا ہوتا ہے، کسی میں خوبیاں زیادہ اور کوئی خامیوں سے خوبیوں کو مات دے دیتا ہے۔ ایسی ہی ملی جلی شخصیت کے ساتھ انہوں نے بطور سربراہ ادارہ ایک بھر پور اور جوبن کی زندگی گزاری۔ اپنی اولاد کی آسودگی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اس جدوجہد میں ان

Read more

قتیل شفائی کیسے قاتل سپاہی بنے؟

پچھلے دنوں قتیل شفائی مرحوم کے حوالے سے ایک مزاحیہ پوسٹ سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملی۔ ڈاک خانے میں ان کے نام ایک خط آیا جس پر ان کا نام انگریزی میں Qatil Shiphai لکھا تھا۔ ڈاکیے نے اسے ”قاتل سپاہی“ پڑھا اور سمن آباد لاہور کی گلیوں میں قاتل سپاہی کا گھر ڈھونڈتا رہا۔ لفافے پر چونکہ مکان نمبر لکھا ہوا تھا، ڈاکیا بالآخر منزلِ مقصود تک پہنچ گیا تو مرحوم کے پوتے نے وہ خط وصول کرتے

Read more