پاکستانی جاسوس اور بنگالی حسینہ کی کہانی جو آج تک نہ لکھ سکی


لڑکیوں سے راز اگلوا نا نسبتاً آسان ہوتا ہے لڑکوں اور مردوں کی نسبت۔ میرے چہرے پر تذبذب کے سے اثرات اُبھرے تھے۔ وچولہ گیری کا یہ انداز مجھے کچھ اتنا اچھا نہ لگا۔ تاہم اپنے ملک کے لیے میرے اندر جو ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا اس کے پیش نظر اس کام میں اپنا حصّہ ڈالنا میں نے ضروری سمجھا۔ اور اُسے تمکنت سے ملانے کا فیصلہ کیا۔

شرلک ہومز کا سا اسرار میرے لہجے میں گُھل گیا تھا جب میں نے اُسے بتایا۔

وہ ہنسی۔ اتنا ہنسی کہ اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے۔ یہ سنگینوں اور بندوقوں کے زور پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا انجام یقینا اس سے مختلف نہ ہوگا جو ڈین بین پھو میں فرانسیسی فوجوں کا قوم پرستوں کے ہاتھوں ہوا تھا۔ اُس کا یہ سچ اتنا کڑوا تھا کہ اب میری آنکھیں آنسووں سے بھر گئیں۔ تاہم میں نے اُس کی رائے جاننا چاہی۔

اس نے لاپرواہی سے سر کو ایک جھٹکا دیا۔ ”بنگالی لڑکیوں سے بس ذرا دل پشوری چاہتا ہے۔ “

پھر ایک عجیب سی بات ہوئی جس دن ہمیں ملاقات کرنی تھی۔ تمکنت نے انکار کرتے ہوئے کہا۔

”مجھے آسانمنٹ سبمٹ کروانی ہے۔ پھر کسی دن سہی۔ “

میجر توفیق چار بار ہال آچکا تھا۔ دربان نے مجھے ہر بار کہا تھا۔ ”آپا آپ کا وزیٹر بہت تاکید کرکے گیا ہے کہ آپ اُن سے رابطہ کریں۔ “

ملاقات ہوئی۔ ریس کورس روڈ کے قریب ایک ایسے ڈھابے نما ہوٹل میں جہاں پنجابیوں نے چپلی کباب اور تکّے کبابوں کا کاروبار شروع کررکھا تھا۔ آغاز میں مجھے بات چیت کے حوالے سے میجر توفیق قدرے محتاط نظرآیا۔ غالباً اُسے تمکنت بارے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کِس پائے کی لڑکی ہے۔ جگن ناتھ ہال کے نامی گرامی چھٹے بدمعاش اجیت پران اور منوہر زیربحث آئے۔ کلکتہ کے نکسل باڑیوں کی انہیں اسلحے کی سپلائی، مارکسی جیالے لڑکوں کی آمدورفت اور سرحدی چوکیوں پر بات ہوئی۔ یہ بات مجھ جیسی پر بھی واضح ہوئی کہ اتنی لمبی باڈر لائن کو کنٹرول کرنا ناممکن ہے جب کہ مقامی لوگوں کی ہمدردیاں آنے والوں کے ساتھ ہیں۔

میں نے محسوس کیا کہ جونہی اس نے ارومادت بارے بات کی کہ وہ ممنون ہوگا اگر کسی طور اس کی ملاقات ارومادت سے کروا دی جائے۔

تمکنت جیسی منہ پھٹ کو کون روکے۔ اس نے ذرا شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔
”جانتے تو آپ سب کچھ ہیں۔ اروما آپ کو نیا کیا بتاسکتی ہے؟ “

”ایک انتہائی خطرناک باپ کی بیٹی سے کِسی بھی وقت کوئی بہت اہم بات مل سکتی ہے۔ جو بڑی کامیابی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ میجر خالد ٹرانسفر ہوگئے ہیں۔ اور اب یہ مشن میرے ذمہ ہے۔ “

تمکنت نے دو تین بار قدرے بے چینی سے پہلو بدلے۔ محسوس ہورہا تھا جیسے وہ کچھ گومگو کی سی کیفیت میں ہے۔ پھر جیسے اس نے دھماکہ کردیا۔

میجر خالد اُس سے کسی ایسے مشن کے تحت نہیں ملا تھا۔ ملاقات محض اتفاقیہ تھی۔ مگ بازار میں سائیکل رکشے والا میجر خالد کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اروما اس میں سوار تھی۔ غلطی سراسر رکشے والے کی تھی۔ میجر نے اُتر کر جس نرم دلی اور اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا۔ اُس نے وہاں اکٹھے ہوجانے والے لوگوں پر اچھا تاثر چھوڑا۔ اروما کے بازو پر چوٹ آئی تھی۔ ہوسٹل ڈراپ کرنے اور بازو کی مرہم پٹی کی درخواست پر اروما کا اس کے ساتھ بیٹھنا وجہ ملاقات بنا۔ ہاں یہ دعویٰ تو اروما دت نے پران اور اجیت کے سامنے ڈینگ مارتے ہوئے کیا تھا کہ یہ تو ایک طرح بلی کے بھاگوں چھنکا ٹوٹے والا کام ہوا ہے۔ ٹیسٹ کیس سمجھوں گی اِسے۔ 67 کی عرب اسرائیل جنگ میں جو کردار یہودی عورتوں نے مصری فوجیوں کے ساتھ کیا تھا۔ ایسا ہی میں بھی کروں گی۔

پرہوا کچھ یوں۔

کہ اس میدان کی وہ ناتجربہ کار کھلاڑی تھی۔ اس کے ہاں بڑھکیں ضرور تھیں پر دار جلنگ اور شیلانگ کے کانونٹوں میں تعلیم پانے اور ڈھاکہ یونیورسٹی کی منفی سیاست میں ملوث ہونے کے باوجود اُس میں مشرقی خوبو بھی تھی اور انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے متاثر ہونے کا جذبہ بھی موجودتھا۔

اور وہ میجر تو کردار کا مجاہد تھا۔ ایک کردار کی مضبوطی دوسرے بڑی پسندیدہ عادات واطوار گویا دوآتشہ والی بات اور سُہ آتشہ یہ کہ اُروما سے گہرا پیار۔

اب بھلا شکار کیسے نہ ہوتی۔ شکار تو اُسے ہونا ہی ہونا تھا۔ ہوئی اور یوں ہوئی کہ اُس نے تو صاف صاف مجھے کہا۔

”تمکنت آپا میں تو اس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی۔ میں نے اپنا دھرم، گندی سیاست، زبان، کلچر، تہذیب سبھی ایک پوٹلی میں باندھ کر بوڑھی گنگا بُرد کر دیے ہیں۔

مزے کی بات اپنے بارے میں بھی کچھ نہیں چھُپایا۔ سب کچھ اُسے بتا دیا اور میجر نے اُس کی سار ی باتوں کے جواب میں اُس کا ماتھا چُوما اور بس اتنا کہا۔

”تم جو کچھ بھی تھیں وہ تمہارا ماضی ہے۔ مجھے اِس سے کوئی سروکار نہیں۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ مجھے تم سے پیار ہے۔ “

اور سچ صرف اتنا ہے کہ اُروما کسی پکے پھل کی طرح اُس کی گود میں جاگری تھی۔ وہ چاہتا تو رَس چُوس کر پھُوک پھینک دیتا۔ پر نہیں۔

ہنستے ہوئے تمکنت نے کہا۔ ”اُسے تو میجر خالد کے پاس ویسٹ پاکستان گئے ہوئے بھی آج پانچواں دن ہے۔ “

خبر پرسوں نکلی جب اُس نے جیوتی کو فون کرکے مطلع کیا۔ اجیت کل سے کمرہ بند ہے۔ گھونٹ گھونٹ جن پیتے ہوئے سی پورٹر کو گاتا رہا ہے۔ I have got you under my skinجیوتی بے حد خوش ہے۔ وہ اجیت پر مرتی ہے۔ اجیت اروما دت پر فدا تھا۔ اب اِس صورت کو وہ نہ صرف انجوائے کررہی ہے بلکہ دلداری سے اجیت کو کہہ بھی رہی ہے۔

”کیا ہے تمہیں؟ ایسی واہیات اور غدار لڑکی کے لیے مرے جارہے ہو جس نے نہ دھرم دیکھا نہ قوم۔ “

ایسا تو نہ کہو میں نے اُسے اپنا جیون سمجھا تھا۔ وہ میرے من کی شانتی تھی۔

رات جیوتی مجھے ہنستے ہوئے بتارہی تھی۔ ڈوب مرے کہتا ہے من کی شانتی تھی اور وہ اس کی چھاتی پیٹتی اپنے عاشق کے پاس بھاگ گئی ہے۔ کس قدر ڈرامائی صورت تھی۔ کہنے سُننے کو کچھ باقی نہیں رہا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2