کوالالمپور سمٹ، مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ کا بخشو
وسعت اللہ خان کے سر اس بات کا سہرا جاتا ہے کہ انہوں نے عالمی برادری میں وطن عزیز کے مقام کو سمجھانے کے لئے سیاسی لغت میں ”بخشو“ لفظ کا اضافہ کیا، اس سے زیادہ جامع اور ہمہ گیر لفظ کم از کم میری نگاہ سے آج تک نہیں گزرا۔ کچھ کریڈٹ وسعت اللہ صاحب کو ہماری مملکت کو بھی دینا چاہیے کیونکہ جب سے انہوں نے ”بخشو“ کی اصطلاح متعارف کروائی تب سے اس ملک نے ذرا برابر بھی رویہ میں تبدیلی نہیں کی جس کی وجہ سے ان کے وضع کیے گئے لفظ کی افادیت میں کمی نہیں آئی۔
ترکی کے صدر کے کل کے بیان کے بعد بخشو کی یاد کئی برسوں بعد پھر سے تازہ ہوگئی، رجب طیب اردوان نے صحافیوں کوبتایا کہ بیچارے پاکستان نے سعودی عرب کے دباؤ پر کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہیں کی کیونکہ پریشانیوں میں گھرے اسلام آباد کو ریاض نے چالیس لاکھ پاکستانیوں کو ملک سے نکال کر بنگلہ دیشی شہریوں کو بھرتی کرنے اورملکی معیشت سے ا پنے ڈالرز نکالنے کی دھمکی دی تھی۔ جبکہ وزارت خارجہ نے کوالالمپور سمٹ میں عدم شرکت کی وجہ کچھ یوں بتائی کہ پاکستان امت مسلمہ میں تقسیم نہیں چاہتا بلکہ غیر جانبدار ملک کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
اس سارے معاملے میں قصوروزیر اعظم عمران خان کا ہے۔ جنہوں نے ”برادر اسلامی ممالک“ سے مشورہ کیے بغیر اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کے خلاف نہ صرف مزاحمت کا علم بلند کرنے کا اعلان کیا بلکہ ترکی اور ملائشیا کے سربراہان کے ساتھ میٹنگ میں اسلاموفوبیا سے مقابلے کے لئے سیٹلائٹ چینل بنانے کا مشورہ بھی دے دیا۔ اور کچھ قصور مہاتیر محمد اور رجب طیب اردوان کا ہے کہ ایک تو انہوں نے عمران خان کی بات کو ’سیریس‘ لے لیا دوسرا سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی قربت جاننے کے باوجود سمٹ پر مدعو بھی کردیا۔ وزیر اعظم نے بھی کسی سے مشورہ کیے بغیر سمٹ میں شرکت کا وعدہ کرڈالا۔
سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو عوام ہمیشہ مذہبی زاویہ سے دیکھتی آئی ہے۔ مگر ولی عہد محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد قوم کے سامنے یہ بات ا ٓئی کے دنیا بھر کی حکومتوں کی طرح سعودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی بنیاد قومی مفادات ”نیشنل انٹرسٹ“ پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکیت کی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کبھی کوئی مذمت نہیں کی بلکہ الٹا نریندرا مودی کا اپنے ملک میں خیر مقدم کیا اور انہیں اعلیٰ ترین سول اعزاز سے بھی نوازا۔
دوسری طرف کوالمپور سمٹ میں شرکت کرنے والے تین اہم ترین ممالک ترکی، ملائیشیا اور ایران نے نئی دلی کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کریک ڈاؤن کی مذمت کی تھی۔ جس کے بعد ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوا۔ بھارت نے ملائیشیا سے پام آئل کی در آمدات پر پابندی لگا دی، جبکہ ایران میں سب سے بڑی سرمایہ کاری کرنے والا ملک بھارت ہے۔ اس کے باوجودان تین ممالک نے ہندوستان کے اقدامات کی مذمت کی۔
وزیر اعظم عمران خان کو کم از کم ان ممالک سے اظہار تشکر کے لئے کوالالمپور سمٹ میں شریک ہونا چاہیے تھا کیونکہ عالمی سطح پر صرف ان تین ممالک نے کشمیر کے لئے آواز اٹھا کر پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ اگرریاض کی خواہش پر کوالالمپور سمٹ کا بائیکاٹ کرنا بھی تھا تو کم از کم سعودی عرب سے کشمیر یوں کی حمایت میں اور بھارتی مظالم کی مذمت میں ایک بیان دلوا دیتے۔ اس سال کے ستمبر میں سعودی عرب نے بھارت میں تیل کے شعبے میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کرنے کا بھی اعلان کیا جس کی مالیت سو ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان کو دیا گیاقرضہ دس ارب سے زیادہ نہیں ہے۔
بخشو میاں نے تھوڑے سے دباؤ کے سامنے ڈھیر ہوکر ایک اور تشویش پیدا کردی ہے۔ کچھ حلقوں میں یہ چہ مے گوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ سعودی عرب کے دباؤ پر اگر پاکستان اتنے اہم سمٹ سے دستبردار ہوسکتا ہے تو امریکا کے دباؤ پر کیا مقبوضہ کشمیر کی طرف سے انکھیں نہیں پھیر سکتا۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے عمران خان پر سنگین الزام لگایا تھا کہ دورہ امریکا کے بعد سے وزیر اعظم کی مقبوضہ کشمیر کے لئے اٹھائے گئے اقدامات میں سردمہری اور غیر سنجیدگی دیکھنے میں آئی۔


