افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی، پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی
پاکستان کے لئے مزید پریشانی کی بات نہ صرف داعش اور القاعدہ کا پھیلتا نیٹ ورک ہے بلکہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سے متعلق موقف ہے۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے سینئر اینکر سلیم صافی سمیت پاکستانی میڈیا کو کئی انٹرویوز دے چکے ہیں۔ تحریک طالبان سے متعلق ہر بار کیے گئے سوال پر ان کا جواب صرف ایک تھا کہ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ افغان طالبان کی قیادت کھل کر داعش اور القاعدہ کے خلاف بیان دے رہی ہے مگر تحریک طالبان پاکستان سے متعلق مذمتی بیان دینے سے گریز کر رہی ہے۔
پاکستان کو خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ نئی داخلہ پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا قومی مفاد پر امن افغانستان سے وابستہ ہے اور ایسے نازک مرحلے میں افغان طالبان سے بگاڑنا عقل مندی نہیں ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ماضی میں دوبار افغان پالیسی کے تناظر میں پورے ملک کے امن و امان اور قومی مفادات کو داؤ پر لگا چکا ہے۔ تیسری بار ایسا کرنا تباہ کن ثابت ہوگا۔ لازمی ہے کہ حکومت نئے عزم کے ساتھ اپنا ہاؤس آرڈر میں رکھے اور نیشنل ایکشن پلان کو نئی روح کے ساتھ نافذ کرے۔
Read more
