جانور راج: پون چکی کی تباہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسی دوران، روفا اور اس کے گرگے، پون چکی کے قریب پہنچے۔ جانوروں نے یہ دیکھا اور ان میں مایوسی کی سرگوشی سی پھیل گئی۔ ان میں سے دو مسٹنڈوں نے ہتھوڑا اور کسنی نکالی۔ وہ تو پون چکی کو ڈھانے کے داؤ میں تھے۔ ”ناممکن! “ نپولین بنکارا۔ ”ہم نے دیواریں اتنی موٹی بنائی ہیں کہ یہ نہیں ہو سکے گا۔ یہ اسے ایک ہفتے میں بھی نہیں ڈھا پائیں گے۔ ڈٹے رہو، کامریڈز! “

مگر بنجامن گدھا، بڑے دھیان سے ان آ دمیوں کی حرکات و سکنات دیکھ رہا تھا۔ ہتھوڑے اور کسنی والے دونوں، پون چکی کی بنیاد کے قریب ایک سوراخ کر رہے تھے۔ دھیرے دھیرے، جیسے لطف سا لیتے ہوئے، بنجامن نے اپنی لمبی تھوتھنی ہلائی۔

”میں یہ ہی سوچ رہا تھا۔ “ اس نے کہا۔ ”کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ اب وہ اس سوراخ میں دھماکہ خیز مواد بھرنے والے ہیں“۔

دہشت زدہ جانور، منتظر تھے۔ اب عمارتوں کی پناہ سے نکلنا نا ممکن تھا۔ چند منٹوں کے بعد، انسان، یہاں وہاں بھاگتے نظر آ رہے تھے۔ پھر ایک کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا۔ کبوتر ہوا میں پٹخنیاں کھا گئے اور نپولین کے سوأ تمام جانور، پیٹ کے بل لیٹ گئے اور اپنے منہ چھپا لئے۔ جب وہ دوبارہ اٹھے تو، جہاں کبھی پون چکی تھی وہاں سیاہ دھوئیں کا ایک جسیم بادل معلق تھا۔ ہوا دھیرے دھیرے اسے اڑا لے گئی۔ پون چکی نابود ہو چکی تھی!

اس منظر نے جانوروں کو ان کی ہمت لوٹا دی۔ وہ خوف اور مایوسی جو وہ چند لمحے قبل محسوس کر رہے تھے اس نیچ اور قابل مذمت عمل پہ اٹھتے غصے میں غرق ہو گیا۔ انتقام کی ایک عظیم پکار اٹھی اور کسی اگلے حکم کا انتظار کیے بغیر وہ ایک مشترکہ قالب کی طرح اٹھے اور سیدھے دشمن کی طرف یلغار کی۔ اس بار انہوں نے ان سفاک چھروں کی پروا نہ کی جو ان پہ اولوں کی طرح برس رہے تھے۔ یہ ایک بھیانک اور خونی جنگ تھی۔ انسانوں نے بار بار گولیاں چلائیں، اور، جب جانور سر پہ آن پہنچے تو وہ ان پہ لاٹھیوں اور اپنے بھاری بوٹوں سے ٹوٹ پڑے۔

ایک گائے، تین بھیڑیں اور دو بطخے مارے گئے، اور قریباً باقی سب بھی زخمی ہو گئے۔ حتیٰ کہ نپولین جو کہ عقب سے معرکے کی ہدایات دے رہاتھا، اس کی پونچھ کی پھننگ بھی ایک چھرے کی زد میں آ کے چھل گئی۔ مگر انسان بھی بناء خراش کے واپس نہ گئے۔ ان میں سے تین کے سر باکسر کے کھروں کی زد میں آ کر پھٹ گئے ؛ ایک اور کے پیٹ میں گائے سینگ لگا؛ اور ایک کا پاجامہ جیسی اور بلیو بل کتیوں نے دھجی دھجی کر دیا۔ اور جب نپولین کا نو کتوں پہ مشتمل ذاتی حفاظتی دستہ جسے اس نے باڑ کے ساتھ ساتھ گشت کا حکم دیا تھا اچانک انسانوں کے جتھے پہ بھیانک انداز میں بھونکتا ہوا پڑا تو ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ اب وہ ِگھر جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ روفے نے موقع دیکھ کے اپنے آدمیو ں کو باہر نکلنے کا کہا اور اگلے ہی لمحے بزدل دشمن اپنی جان بچا کر بھاگ رہاتھا۔ جانوروں نے کھیت کی حد تک ان کا پیچھا کیا اور جب وہ کانٹے دار باڑ سے رستہ بنا کر بھاگ رہے تھے تو ان پہ چند آخری دولتیاں برسائیں۔

وہ جیت چکے تھے مگر وہ زخمی اور مضمحل تھے۔ آہستہ آہستہ انہوں نے باڑے کی طرف لنگڑانا شروع کیا۔ گھاس پہ پڑے ان کے مردہ ساتھیوں کے لاشوں نے ان میں سے کچھ کورلا دیا۔ اور کچھ دیر کے لئے ایک درد ناک خاموشی میں وہ اس جگہ رکے جہاں کبھی پون چکی کھڑی ہوتی تھی۔ ہاں، وہ تباہ ہو چکی تھی؛ا ن کی محنت کا آخری نشان بھی ناپید ہو چکا تھا! حتیٰ کہ بنیادیں بھی جزوی طور پہ تباہ ہو چکی تھیں۔ اوراب اس کی تعمیر نو میں جیسا کہ انہوں نے پہلے کیا تھا، وہ گرے ہوئے پتھروں کو استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ اس بار پتھر بھی غائب ہو گئے تھے۔ دھماکے کی شدت نے انہیں سینکڑوں گز دور اچھال دیا تھا۔ اب ایسا تھا کہ جیسے پون چکی کبھی تھی ہی نہیں۔

جوں ہی وہ باڑے کی عمارت تک پہنچے، چیخم چاخ جو کہ جنگ کے دوران بے سبب غیرحاضر رہا تھا، کودتا پھاندتا، اپنی دم ادھر سے ادھر لہراتا، اطمینان سے دمکتا، ان کی جانب بڑھا۔ اور جانوروں نے باڑے کی عمارتوں کی طرف سے ایک بندوق داغنے کی گرج سنی۔

”یہ بندوق کیو ں داغی گئی ہے؟ “ باکسر نے پوچھا۔

”ہماری فتح کا جشن منانے کے لئے! “ چیخم چاخ چلایا۔

”کون سی فتح؟ “ باکسر نے کہا۔ اس کے گھٹنے زخمی تھے، اس کی ایک نعل کھو گئی تھی اور ایک کھر چر ِ گیا تھا اور اس کی پچھلی لات میں ایک درجن کے قریب چھرے پیوست تھے۔

”کون سی فتح کامریڈ؟ کیا ہم نے دشمن کو اپنی سرزمین سے مار نہیں بھگایا۔ جانور کے باڑے کی ارض ِ مقدس سے؟ “

”مگر انہوں نے پون چکی تباہ کر دی۔ اور ہم نے اس کے لئے کامل دو برس کام کیا تھا! “

”تو کیا ہوا؟ “ ہم ایک اور پون چکی بنائیں گے۔ ہم چھہ پون چکیاں بنائیں گے اگر ہم ایسا کرنا چاہیں گے۔ تم سراہ ہی نہیں رہے ہو کامریڈ جو کار ہائے عظیم ہم نے انجام دیا ہے۔ دشمن نے یہ قطعہئی زمین جس پہ ہم کھڑے ہیں ہتھیا لیا تھا۔ اور اب ہمارے کامریڈ نپولین کی قائدانہ صلاحیتوں کے صدقے، ہم اس کا چپہ چپہ دوبارہ واپس لے چکے ہیں! ”

”تب تو ہم نے وہی جیتا جو پہلے ہی ہمارا تھا۔ “ باکسر نے کہا

”یہ ہی تو ہماری فتح ہے۔ “ چیخم چاخ نے کہا۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: روفے جٹ کی دغا بازیجانور راج: کوئی بھی جانور زیادہ شراب نہیں پیئے گا!
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *