میں ایک کمزور شہری ہوں اور مجھے ایسا انصاف ہر گز نہیں چاہیے
پچھلے دنوں وزیر اعظم پاکستان نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں طاقت ور اور کمزور کے انصاف میں تفاوت ختم کر کے اس میں تطابق اور ہم آہنگی پیدا کریں۔ وزیر اعظم جب یہ مطالبہ کر رہے تھے تو ان کے ذہن میں یقینی طورپر ن لیگ اور پی پی کی قیادت تھی۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چند دن بعد خصوصی عدالت جنرل مشرف کو آرٹیکل 6 کے مقدمے میں پھانسی کی سزا سنا کر ان کے پاٶں تلے سے زمین کھینچ لے گی اور ان کے ساتھ ساتھ اصل حکمرانوں میں بھی غم و غصے کی شدید لہر دوڑ جائے گی۔ جناب وزیر اعظم کا اشارہ جن ”طاقتوروں“ کی طرف تھا ان کے ساتھ تین چار سال قبل شروع ہونے والے ”مثالی“ انصاف کے مظاہر دیکھ کر معاشرے کا عام اور کمزور آدمی تھرا اٹھتا ہے۔
عمران خان کے مطابق طاقتور کے خلاف بے لاگ ”انصاف“ کی بدترین مثالیں یوں تو جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں مگر تازہ ترین مثال رانا ثنا اللہ کی ہے۔ جسے سن اور دیکھ کر معاشرے کا کمزور آدمی ایسے انصاف سے توبہ کرتا ہے۔ پنجاب میں ن لیگ کے صدر اور ایم این اے رانا ثنا اللہ کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے 3 جولائی 2019 کو اے این ایف کی ٹیم نے ڈرامائی انداز میں منشیات سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا۔ 175 دن تک بدترین ماحول اور حالات میں رکھا۔
وزیر مملکت شہر یار آفریدی نے بارہا کلمہ پڑھ کر، اللہ، بچوں اور ضمیر کی قسمیں کھا کر اس کیس کی شفافیت کے دعوے کیے مگر عدالت میں رانا صاحب کے خلاف کوئی ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ ڈی جی اے این ایف نے بھی آفریدی کے ساتھ مل کر دبنگ کانفرنس کی اور ان کی سمگلنگ کے تانے بانے افغانستان تک جوڑے گئے۔ وہی اے این ایف اب وزیر مملکت کے واہیات بیانات سے لاتعلقی اختیار کر رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ رانا صاحب کو گھٹیا ترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ عدالت کا بھی یہی مشاہدہ ہے۔ میں معاشرے کا ایک کمزور آدمی ہوں مگر مجھے رانا ثنا اللہ جیسے ”طاقتور“ اور ”با اثر“ آدمی جیسا طرز انصاف ہرگز نہیں چاہیے۔
حنیف عباسی این اے 60 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے۔ حنیف عباسی کے خلاف 2012 سے ایفی ڈرین کا کیس چل رہا تھا۔ ان پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے ایفی ڈرین سمگلروں کو فروخت کی ہے۔ مگر استغاثہ عباسی صاحب کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ جس کی وجہ سے 2012 میں لاہور ہائی کورٹ کے دو ججز جسٹس صغیر احمد قادری اور جسٹس باقر نجفی نے حنیف عباسی کو بے گناہ قرار دے دیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے 2018 کے الیکشن سے قبل چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر اچانک اس کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سننے سلسلہ شروع ہو گیا۔
حالانکہ پی پی کے شہاب الدین اور موسٰی گیلانی جنہوں نے ایک کمپنی بنا کر نو ہزار گرام ایفی ڈرین لی تھی، نہ صرف آزاد تھے بلکہ الیکشن بھی لڑ نے کے اہل تھے۔ مگر پکڑے گئے تو پانچ سو کلوگرام ایفی ڈرین کوٹہ کے مطابق حاصل کرنے والے حنیف عباسی جنہوں نے ایفی ڈرین سے دوا بنانے اور اسے مارکیٹ میں فروخت کرنے کے سب ثبوت عدالت میں فراہم کر دیے تھے۔ اس کے باوجود رات بارہ بجے الیکشن سے محض چار دن قبل عدالت لگا کر حنیف عباسی کو منشیات سمگلنگ کیس میں عمر قید کی سزا سنا کر پس دیوار زنداں ڈال دیا گیا۔
یہ عجیب و غریب فیصلہ اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ ججوں نے گوگل سے مدد لے کر عباسی کو محض خیال اور گمان پر سزا دی۔ حنیف عباسی ایک سال سے زائد جیل میں رہے۔ ان کے اکاٶنٹس منجمد کر دیے گئے۔ کاروبار تباہ ہو گیا۔ خاندان بکھر گیا۔ قرض لینے پر پابندی لگ گئی۔ ساکھ لُٹ گئی اور صحت خطرناک حد تک گر گئی۔ دو ماہ قبل بڑی مشکل سے ضمانت ہوئی اور آج کل چپ کا روزہ رکھ کر گزارا کر رہے ہیں۔ میں ایک کمزور شہری ہوں اور مجھے حنیف عباسی جیسا انصاف ہر گز نہیں چاہیے۔
وزیر اعظم کے ”طاقتور“ کے خلاف ہونے ہونے والی سب سے بھونڈی، بدترین اور اذیت ناک مثال سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے کیس میں دیکھنے کو ملی۔ 3 اپریل 2017 کو پانامہ کا سکینڈل سامنے آیا۔ سب جانتے ہیں کہ اس میں ساڑھے چار سو پاکستانیوں کے نام شامل تھے مگر کارروائی صرف فرد واحد کے خلاف ہوئی۔ نواز شریف کے کیس میں وٹس اپ کے ذریعے جے آئی ٹی کی تشکیل سے لے کر وزارت عظمٰی سے معزولی، دس اور سات سال قید، بھاری جرمانے، سپریم کورٹ کو براہ راست ٹرائل کورٹ بنانے، اپیل کے حق سے محرومی، نیب عدالت پر سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی اور کیسوں کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت تک درجنوں نئی مثالیں قائم کی گئیں۔
28 جولائی 2017 کو محض نو ماہ کے اندر نواز شریف کو نا اہل کر دیا گیا۔ پھر تقریباً گیارہ ماہ کے بعد یعنی 6 جولائی 2018 کو انہیں دس سال قید کی سزا سنائی اور وہ اپنی بیمار اہلیہ کو لندن میں چھوڑ کر اپنی بیٹی کے ہمراہ سزا کاٹنے آ گئے۔ پھر دسمبر 2018 کو انہیں العزیزیہ ریفرینس میں سات سال قید اور تین ارب پچھتر کروڑ جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔ یہی نہیں بلکہ اس ”طاقتور“ شخص کو عدالت نے پارٹی کی صدارت سے بھی تا حیات نا اہل کردیا۔
اس کی پیاری بیٹی مریم نواز کو اس سے ملاقات کے وقت انتہائی تحقیر آمیز طریقے سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بیٹوں کے خلاف جھوٹے کیسز بنا کر انہیں جلا وطنی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ”طاقتور“ کے خلاف مثالی عدل و انصاف کا مظا ہرہ یوں کیا گیا کہ 10 اکتوبر 2019 کو نیب نے اسے چودھری شوگر ملز کیس میں سیل سے گرفتار کر کے نیب کے تفتیشی مرکز لاہور منتقل کر دیا جہاں اس ”طاقتور“ مافیا کا گھر کا کھانا بھی بند کر دیا گیا اور تمام سہولیات چھین لی گئیں۔
قید و بند کی صعوبتوں کی وجہ سے جب وہ جاں بلب ہوا تو ”انسانی ہمدردی“ کی بنیاد پر عدالت کے حکم پرباہر بھیج کر احسان جتلایا جانے لگا۔ میں ایک کمزور شہری ہوں اور مجھے ایسا انصاف ہر گز نہیں چاہیے۔ طوالت کے خوف کے باعث ن لیگ و پی پی کے دیگر ”طاقتور“ قائدین سے ہونے والے مثالی اور عبرت ناک انصاف کی تفصیل کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔


