ہم اگر ڈوبے ہیں تو کیوں نہیں تم ڈوبے ہو؟
”فلاں کی غلطی سے ہمارا ایک بازو کٹ گیا! “
”فلاں نے ہمارے وطنِ عزیز کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا! “
”فلاں کے ہاتھوں آج بنگال ہم سے جدا ہو گیا۔ “
نیز جتنے سیاستدان (یعنی منہ) اتنے جملے لیکن ان سب کے دکھڑوں کا لب لباب یہ کہ ”بنگال ہمارا بھائی ہم سے ٹوٹ گیا۔ “
چلیں ایک اور دھارا پر تصور کرکے دیکھتے ہیں کہ ہمارے وطنِ عزیز میں یہاں دن دگنی رات چوگنی گھریلو، اور اجتماعی پیداواری صلاحیتیں بڑھتی جا رہی ہیں، یہاں ہمارا ملک نہ تو آئی ایم ایف کے قرضوں تلے دبا ہوا ہے اور نہ ہی ورلڈ بینک کے اشاروں پر ہم ناچتے ہیں، امن اتنا کہ یہاں سب کے سب شہری رات کو ویران سڑکوں پر بے خوف و خطر گھوم رہے ہیں، کوئی دہشتگردی نہیں، یہاں زراعت میں اتنی اصلاحات کی گئی ہیں کہ پورے ملک کے کسانوں کی حالت کسی بھی اوسط شہری سے کم نہیں، سیاسی ادارے اتنے مضبوط اور مستحکم ہیں کہ یہاں کسی مائی کے لال کو یہ جرئت تک نہیں کہ وہ پچھواڑے کے کسی دروازے سے گھسنے کا سوچے بھی، تعلیم کا یہ عالم ہو کہ یہاں ننانوے فیصد سے آگے لٹریسی ریٹ جا رہا ہے، زرمبادلہ بڑھتے بڑھتے اتنا ہو رہا ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی برقیائی کمپنیاں ہمارے ملک میں اپنی صنعتیں لگانے کے لیے ترس رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
جب کہ اس کے برعکس بنگلادیش میں روز بروز معیشت گردن توڑ قرضوں اور ان پر سُود کی وجہ سے گرتی جا رہی ہے، امن کا یہ عالم ہے کہ ہر روز اوسط کے حساب سے دس لوگ ٹارگٹ کلنگ سے قتل ہو رہے یا اچانک کہیں پر خودکش بمبار کی وجہ بیسوں لوگ مرجاتے ہیں، صحت کی یہ حالت ہے کہ پوری دنیا میں واحد یہ ملک ہے جس میں بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہے، ہسپتالوں میں مدے خارج دوائیں امراض کو اور پھہلا رہی ہیں تو تعلیم کا یہ عالم ہے وہاں ہر تحصیل میں سینکڑوں اسکول بند ہیں اور دن بدن تعلیم کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی، قدرتی آفات سے منہ دینے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں کہ ہر برس یہاں کوئی نہ کوئی آفت آتی ہے جس سے سینکڑوں لوگ دربدر ہوکر یا تو مر کھپ جاتے ہیں یا تو ان کا رکارڈ بھی نہیں ملتا، سیاست کی حالت یہ ہے کہ لوگوں کو کچھ نہیں پتہ کہ ہو کیا رہا ہے۔ اس لیے ہر روز یہاں نیا چرواہا پیدا ہوتا ہے جو انہیں اِدھر سے اُدھر ہانکتا رہتا ہے۔
ہاں اگر ٹھیک ایسی حالتیں واقعی ہوتی پھر وطنِ عزیز میں بسنے والے تمام لوگوں کی سوچ مندرجہ بالا جملوں کو بار بار دہراتی تو بات بھی بنتی۔
لیکن درحقیقت میرے اچھے دوستو حقائق بالکل الٹ ہیں۔ میں نے اول الذکر صفات بنگلادیش کی بتائی تھی اور آخر الذکر پاکستان کی۔
اور اگر اب یہاں پر کوئی یہ کہے کہ ہمارا بھائی جدا ہوگیا تو ہم کیا سمجھیں؟ کیا وہ یہی چاہتا تھا کہ جس طرح آج ہم ڈوب رہے ہیں ٹھیک اسی طرح وہ ڈوبتا؟
بجائے اس کے ہمیں خوشی ہونی چاہیے کہ وہ ہم سے جدا ہوکر ایک بہتر زندگی گزار رہا ہے ہم قحبہ خانے کے اس دلال کی طرح کیوں سوچ رہے جس کے ہاتھ سے کوئی متاثر عورت نکل کر کسی گھر گرہستی کی مالکہ ہو کر فہم و فضیلت والی زندگی گزار رہی بجائے اس کے کہ وہ ہر رات اپنا گاہک بدلتی!
لیکن بڑی مصیبت ہے، ہم اپنی گریباں میں جھانکنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ ہم ہر وقت اوروں سے اپنی شناخت ڈھونڈنے کا کب رویہ بدلیں گے! 47 سے اپنے اوپر شناخت کی قلعی بدلے بقول میر صاحب کے کہ: ”ہمارا ملک 47 میں پیدا ہوا تھا، جس کا ختنہ بنگال ٹوٹنے کے بعد ہوا تھا! “
میں نے اس سے بڑا چبھتا جملہ اب تک نہیں سنا!


