نصاب اور ٹی وی بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں

ابھی پچھلے ہفتے ہی کی بات ہے۔ ہم ایک کرم فرما کی ضیافت میں تھے۔ موصوف کا بڑا بیٹا او لیول سے نکل کر اسکالرشپ کے لیے اپنے پر تول رہا تھا۔ نصاب کے ساتھ بچے کو لبرٹی سے کتب لا لا کر پڑھنے کی خاصی لت لگی ہوئی تھی۔ یہ جدا بات ہے کہ اس کا باپ اس بات سے خاصہ پریشان دکھائی دیتا تھا۔ ہم ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے۔ نیٹفلیکس پر ہالی ووڈ کی مووی 300 چل

Read more

سائیں جی ایم سید: جنم دن کی بدھائی ہو

اپنے جسمانی قد کاٹھ کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ سید غلام مرتضیٰ شاہ جسے آگے چل کر پورا جنوبی ایشیا ”جی ایم سید“ کے نام سے جاننے لگا تھا، وہ پتلا اور چھوٹا تھا۔ لیکن شاہ بلوط جیسے قداور لیڈران کے سامنے اس کے دماغ کی اگر ناپ تول آج اس کی کتابیں پڑھ کر کی جائے تو وہ بلا کا مفکر، سلجھا ہوا اور جدید دور کا حقیقی صوفی لگتا ہے۔ پاکستان کی تخلیق کا اگر پہلا

Read more

قائدِ اعظم محمد علی جینا یا جناح؟

قازکستانی مفکر جناب سلیمان اولیانوف جو اکثر شاعری بھی کرتا تھا، اس نے ایک جگہ کیا خوب لکھا ہے کہ: ”کارواں میں ہمیشہ آخری اونٹ پر قافلہ کوچ کرنے سے پہلے کچھ لادا نہیں جاتا! ہاں البتہ جب منزل قریب آتی ہے تب دیکھتے ہیں کہ وہ ہی اونٹ سب سے زیادہ سامان اٹھائے ہوئے ملے گا۔ ایسا اس لیے کہ سفر کے دوران اگلے اونٹوں سے جو چیزیں گرتی جاتی ہیں، قافلہ والے وہ چیزیں اس آخری اونٹ پر

Read more

جلیل صاب، بہاری چپراسی اور ذلیل

جلیل صاحب کو جیسے ہی بڑا عہدہ اور نئی گول گول گھومنے والی کرسی ملی تو اس کا منہ دوسرے دن ہی اتر گیا۔ وجہ یہ تھی کہ اس کے دونوں چپراسی بہاری تھے جو اس کا اچھا خاصا نام ملیا میٹ کرکے ہر جگہ رٹ لگا کر یوں گویا ہوتے کہ: ”ذلیل صاب نے فلاں کام دیا ہے۔ “ ”ذلیل صاب کے ہُواں جا ریا ہوں۔ “ ”ذلیل صاب نے پھُلاں پھائیل بولا ہے۔ “ ”ذلیل صاب یوں ذلیل

Read more

ایک سسکتی ہوئی ثقافت کا المیہ

وہ ایک ڈچ انجنیئر تھا۔ انگریزی ہم سے بھی شکستہ بول کر ٹیلیوژن پر ایک لاہوری معلم جو کہ جدید پاپ گانے بھی گاتا ہے اس کے گانے پر جھوم کر مجھ سے پوچھا کہ کیا گا رہا ہے۔ میں نے بتایا کہ وہ اپنی محبوبہ کے گھر کی بات کر رہا ہے کہ جس جس کو بھی چلنا ہے آئے اور ٹکٹ کٹا کر قطار بنائے اور چلے۔ بتانے کے لیے تو میں نے بتادیا، لیکن بعد میں مجھے

Read more

عورت: سرکس کا ہاتھی

فطرت میں دیکھا گیا ہے کہ دیوہیکل اور بڑی جسامت والے حیوان اپنی بے پناہ طاقت کے باوجود کاہل اور سہل پسند ہوتے ہیں، جبکہ کم طاقت والے اجسام چست اور محنتی ہوتے ہیں۔ یہی اصول عورت اور مرد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مرد جسمانی طور پر عورت سے طاقتور ہونے کی وجہ سے کاہل اور کام چور ہوتا ہے اور ساتھ میں سہل پسند، آرام، عیش و عشرت کا دلدادہ۔ وہ ذرہ برابر بھی درد برداشت نہیں کرتا

Read more

ناصح لوگ، ایک لوک سامراج

میں نے سنا کہ: نہر کے کنارے پر ایک آدمی کا گھر تھا، سردی کا موسم تھا، وہ گھر کے باہر کنارے پر دھوپ کا مزہ لیتے لیتے چارپائی پر سو گیا۔ اچانک کسی ناصح ٹائیپ بندے کا وہاں سے گزر ہُوا، اس نے کچھ سوچ کر سوئے ہوئے آدمی کے پاؤں ہلاکر جگایا اور سلام دعا کی۔ میزبان نے آئے ہوئے مہمان کو چارپائی پر بٹھایا اور حال احوال لینے کے لیے مدعا پوچھا۔ تب اس بندے نے کہا:

Read more

صاعقہ عرف سائکو بیگم، اور پیکدان

کئی برس گزر گئے میں لاہور کے ایک علاقے شاہدرہ میں رہتا تھا۔ میں اور میرا دوسرا ساتھی اجمل ریلویز میں کام کرتے تھے۔ ہمارے گھر کے ساتھ جس صاحب کا گھر تھا اس کا نام محی الدین تھا اور اس کی بیوی کا نام صاعقہ جسے میرا دوست ”سائکو“ کہتا تھا۔ اور یہ ٹھیک نام تھا! میری نانی اللہ پاک اسے کروٹ کروٹ اپنے پیاروں کے ساتھ رکھے، کہتی تھی کہ نام کا اثر کردار پر بھی پڑتا ہے

Read more

نظریہِ اپیل: آ بیل مجھے مار

”آخر میں نے اس بوڑھی عورت کو ہی قتل کیوں کیا، کیا وجہ تھی کہ صرف اسے ہی قتل کیا؟ اگر قتل کرنا ہی مقصود ہوتا تو میرے اطراف لاکھوں افراد گھومتے ہیں، میں کسی کو بھی مار دیتا، لیکن صرف اسی بوڑھی عورت کو کیوں کیا؟ اور یہ کیا وجہ ہے کہ میرے خوابوں میں اس شرابی کی بیٹی سونیا ہی آتی ہے جو مجھے اپنے جسم کے بہت قریب لگتی ہے جس کے باپ کی میں نے مدد

Read more

ہم اگر ڈوبے ہیں تو کیوں نہیں تم ڈوبے ہو؟

”فلاں کی غلطی سے ہمارا ایک بازو کٹ گیا! “ ”فلاں نے ہمارے وطنِ عزیز کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا! “ ”فلاں کے ہاتھوں آج بنگال ہم سے جدا ہو گیا۔ “ نیز جتنے سیاستدان (یعنی منہ) اتنے جملے لیکن ان سب کے دکھڑوں کا لب لباب یہ کہ ”بنگال ہمارا بھائی ہم سے ٹوٹ گیا۔ “ چلیں ایک اور دھارا پر تصور کرکے دیکھتے ہیں کہ ہمارے وطنِ عزیز میں یہاں دن دگنی رات چوگنی گھریلو، اور

Read more

ذوالفقار بھٹو جونیئر یا بدھا کا نیا جنم

سن 2017 میں حیدرآباد بس اسٹاپ پر ایک نوجوان اپنے دو غیرملکی دوستوں کے ساتھ بھٹائی کے عرس میں شریک ہونے کے لیے بس کا انتظار کر رہا تھا۔ تینوں کے کاندھوں پر اسپورٹس بیگ لٹک رہے تھے۔ بہت شستہ انگریزی میں وہ نوجوان اپنے دوستوں کو انڈس تہذیب کے بارے میں بتا رہا تھا کہ جس کا یہ حیدرآباد شہر انگریزوں کے زمانے سے بھی پہلے کئی بار جنگوں کو دیکھ چکا ہے جس کے تنگ مکانات کے اوپر

Read more

ما بعد الجدیدیت کے مارے ہوئے پاکستانی نوجوان

یہ گذشتہ صدی کے ساٹھ اور ستر والی دہائی کی بات ہے، جب یورپ کے معاشرے میں ایسے گروہ پیدا ہوئے جنہیں زندگی بے مقصد لگی، انہیں اپنے عالیشان سماج کی ظاہری شکل سے گھن آنے لگی، وہ قانون کی سختیوں سے تائب ہوکر ”ہرے راما ہرے کرشنا“ اور اوم شانتی اوم ٹائپ کے نعرے لگا کر ”آوارگی“ کی وہ مثال قائم کرگئے کہ یورپ کیا پوری دنیا اچانک ایک نئے قسم کے سیاحوں سے بھرنے لگی۔ وہ چرس پیتے،

Read more

ہم جا کہاں رہے ہیں؟

سنا ہے کہ اِسی برس امریکا بشمول ناٹو کے فوجی افغانستان سے جا نہیں بلکہ بھاگ رہے۔ (ممکن ہے اگلے برس۔ لیکن وہ بھاگنے کی تیاریوں میں ضرور ہیں! ) اب ذرا امریکیوں کی سوچ کو سمجھیں تو وہ پاکستان کے لیے بالکل ٹھیک ویسے ہی خیالات رکھتے ہیں جو ہم امریکہ کے لیے۔ یعنی بہت برے۔ سو یہ جو صاحب بہادر امریکا تھوڑا بہت ہلکا ہاتھ رکھ رہا ہے پاکستان پر وہ بھی اس وقت تک ممکن ہے جب

Read more

جناب آصف علی زرداری آخر کون ہیں؟

ایک ایسا شخص جس کے لیے رائیونڈ کے شاھی محل میں پاکستان کے چنیدہ دبنگ صحافیوں کو اچھے خاصے روپے دیے گئے کہ اس کو ”بدنام“ کیا جاوے، اور ٹھیک اسی نشست میں اس کا نام ٹریڈ مارک طور پر ”مسٹر ٹین پرسنٹ“ تخلص طے کیا گیا۔ پھر کیا بنا! پاکستان کی طوائف میڈیا نے اس کا وہ ڈھول پیٹا کہ ہم سب اس ہٹلری پروپیگنڈا میں لٹو ہوگئے۔ پی پی کی حکومت ٹوپی سرکار کی مدد سے ہٹ جانے

Read more