نیب ترمیمی آرڈیننس یا این آر او؟ نواز شریف اور آصف زرداری سمیت کس کس کو فائدہ پہنچے گا؟
وفاقی حکومت کی جانب سے نیب آرڈیننس 2019 جاری کردیا گیا ہے جس کے باعث بہت سے مقدمات نیب کے دائرہ اختیار سے نکل جائیں گے۔ اس آرڈیننس کے ذریعے نہ صرف کاروباری افراد بلکہ سیاسی قیادت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے سابق صدر آصف زرداری، سابق وزرائے اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، یوسف رضاگیلانی، راجہ پرویز اشرف مستفید ہو سکیں گے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، سابق وفاقی وزرا احسن اقبال، مفتاح اسماعیل، سعد رفیق، تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی علیم خان، سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد بھی نیب ترمیمی آرڈیننس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نیب ترمیمی آرڈیننس کی منظوری کے بعد نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس کی سزا عدالت کے ذریعے ختم ہو سکے گی۔ آصف زرداری کا جعلی بینک اکاؤنٹس کیس بھی ترمیمی آرڈیننس کے باعث غیر موثر ہو جائے گا۔
نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت نیب کے اکثر مقدمات دیگر عدالتوں کو منتقل ہو جائیں گے۔ نئے آرڈیننس میں بد نیتی یا طریقہ کار کے باعث بے ضابطگی کرپشن تصورنہیں ہوتی۔ تمام سیاسی رہنماؤں کے خلاف نیب مقدمات بد نیتی ہی کی بنیاد پر بنائے گئے تھے، جن مقدمات میں کرپشن کا عنصر ثبوت کے ساتھ موجود ہو گا وہ بدستور قائم رہیں گے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کا اطلاق عدالتوں میں زیرسماعت اور نیب میں زیرتفتیش مقدمات پر بھی ہو گا۔ نیب مقدمات میں ٹرائل کورٹ سے سزا پانے والے اعلیٰ عدالتوں میں دادرسی کے لئے اپیل کر سکیں گے۔


