سعودی عرب سے اچھی خبر: کلیوں سے پھول بننے تک تحفظ کا سائبان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ہنسیں یا روئیں اور اس سمجھ، ناسمجھ میں ممکن ہے کہ کپڑے چاک کر کے جنگلوں کو نکل جائیں، نیرنگی زمانہ پہ غور کریں اور گنگنائیں،

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

اور اگر طبعیت میں انتشار کچھ زیادہ ہی ہو تو اس گیت کی گت پر ٹھیکا لگانے میں بھی مضائقہ نہیں،

سانوں نہر والے پل تے بلا کے

ہماری یہ کیفیت اس خبر کا نتیجہ ہے جو ہم نے ابھی ابھی پڑھی ہے،

“سعودی عرب میں اٹھارہ برس سے کم عمر کی شادی پہ پابندی لگا دی گئی”

سعودی عرب نے پچھلے چالیس برس میں ہمارے معاشرے کی تشکیل میں ایک خاص کردار ادا کیا ہے۔ عرب کی تقلید میں عجم والے بھی حصہ بقدر جثہ کے ذمہ دار ہیں۔ کم عمری کی شادی ہمارے ہاں بھی ایک تازیانہ ہے جس کے خلاف بل ایک ایسا بھاری پتھر ہے جسے ہر کوئی چوم کے چھوڑ دیتا ہے۔ مخالفت کے لئے جید علماء کرام کے پاس اسلامی تاریخ سے بہت سی مثالیں ہمیشہ موجود رہتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں اس کی توجیہ کچھ یوں دی جاتی ہے کہ لڑکی شباب کی عمرکو پہنچنے کے فوراً بعد بیاہ دینی چاہیے۔ شباب کا مطلب حیض اور حیض شروع ہونے کا معنی کہ لڑکی حاملہ ہو کے بچہ پیدا کر سکتی ہے۔ سو اب لڑکیوں کی زندگی کا کوئی اور مصرف تو نظر نہیں آتا سوائے حاملہ ہو کے آبادی بڑھانے کے، سو شادی کی فکر کرنا لازم ٹھہرتا ہے اور اس سب قضیے کو اسلامی روایات کا نقاب پہنا دیا جاتا ہے۔

اس برس کچھ ماہ پہلے ہماری چھوٹی بیٹی کی اٹھارویں سالگرہ تھی۔ معصوم چہرے اور بچگانہ حرکات کے ساتھ وہ پورے گھر میں اچھلتی پھر رہی تھی۔ اسے دیکھ کے بے اختیار دل میں ایک خیال ابھرا، اگر ابھی میں اسے بیاہ کے ایک مرد کے حوالے کر دوں، ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دھکیل دوں تو کہاں جائے گا اس کا بے ساختہ الہڑ پن؟ پرندوں سی بے فکری، صبا سی شوخی وچنچل پن، اپنے آپ کو منوانے کا شوق اور اپنی پہچان، اپنی ذات کا غرور،اپنی آزادی، اپنی فکر و آدرش۔ کہاں سے لے گی یہ سر اونچا رکھ کے جینے کا مان؟ آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کا معروف شعر تو یاد ہو گا

کچھ نہیں مانگتے ہم لوگ بجز اذن کلام

ہم تو انسان کا بے ساختہ پن مانگتے ہیں

تو بھیا، انسان کے اس بے ساختہ پن پر لڑکوں کا اجارہ تھوڑی ہے؟ کیا ہم ایسے گئے گزرے ہیں کہ اپنی بچیوں کو انسان نہیں سمجھتے۔ کیا ہماری عقل پر ایسے پتھر پڑ گئے ہیں کہ کم سن بچی کو ادھیڑ عمر مرد سے بیاہ کے اس کے لئے خوشیوں کی دعا کرتے ہیں۔ دعا کا ایک مقام ہے، لیکن درد کی دوا بھی تو کرنی چاہیے۔

جو بچی ابھی اپنی زندگی جینے کا قرینہ نہیں جانتی، کیا سکھا سکتی ہے اپنے بچے کو؟ زمانے کے حوادث کا مقابلہ کرنا آتا نہیں، اگلی نسل میں کیا بانٹے گی؟ اپنے حقوق کا علم نہیں، اپنی اولاد کو کیا بتائے گی؟ ازدواجی زندگی کی پیچیدگیوں کو کیسے سلجھائے گی؟ بند گلیوں اور اندھے موڑوں سے کیسے گزر پائے گی؟ ازدواجی زندگی ناکام ہونے کی صورت میں کیا ٹھکانہ ہو گا ؟ پیٹ بھرنے کے لئے کس کے آگے ہاتھ پھیلائے گی کہ ہنر سیکھنے کا تو نہ موقع ملا اور نہ مہلت۔

ہم اپنے کلینک میں اٹھارہ برس سے کم عمر کی بے شمار بچیوں کو دیکھتے ہیں جو نوعمری کے جسمانی مسائل سے الجھ رہی ہوتی ہیں۔ جسمانی تبدیلیاں، ہارمونز کا طوفان، شخصیت کی تکمیل کا فقدان، بچپن اور لڑکپن کے درمیان کھنچی دھندلی لکیر، آنےوالی زندگی کا ذہنی بوجھ۔ انسانی نفسیات یہ کہتی ہے کہ دماغ کی مکمل نشوونما چوبیس پچیس کی عمر میں تکمیل پاتی ہے۔ کیا کرنا ہے؟ کدھر جانا ہے؟ زندگی کیسےگزارنی ہے؟ عقل اس عمر کے بعد ہی کچھ اشارے دینا شروع کرتی ہے۔

کیا مرد کو کم عمر لڑکی اس لئے پسند ہے کہ نہ عقل مضبوط ہے اور نہ رائے۔ نہ اعتماد سے بات کر سکتی ہے اور نہ ہی بات ماننے سے انکار۔ نہ آزادی کا معنی جانتی ہے اور نہ حقوق کی طلب اور پاسداری۔ نہ پاؤں تلے زمین ہے اور نہ سرکے اوپر آسمان۔ سو بھیڑ بکری جیسی ہوئی نا، جب چاہا، جہاں چاہا، باندھ دیا۔

ہم نے بات سعودی عرب سے شروع کی تھی۔ ہمارے یہاں شاید بہت لوگوں کو علم نہ ہو کہ ہم اپنے خطے میں ان نازک مرحلوں سے بہت پہلے گزر چکے لیکن عرب شریف کی محبت میں اپنی تاریخ ہی سے انکار کرتے آئے ہیں۔ تاریخ کے جھروکوں سےجھانکتے کچھ لمحات ہمیں یاد آتے ہیں۔

1929  میں ہندوستان کی لیجسلیٹو اسمبلی میں ایک بل چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کے نام سے پیش کیا گیا اور اس مسودہ قانون کو پیش کرنے والے تھے ہماری قوم کے نجات دہندہ، قائد اعظم محمد علی جناح۔ آج سے نوے سال قبل اس بل کے مطابق لڑکی کی شادی کے لئے کم از کم عمر اٹھارہ برس مقرر کی گئی تھی۔ ان گنت علمائے کرام، ہر فرقے اور رنگ کے پیشوا، اس قانون کی مخالفت میں لنگر لنگوٹ باندھ کر میدان مین اتر آئے۔ فتووں کی بہار اتر آئی۔ ان علما کی تقلید میں، برصغیر میں کم سن مسلم لڑکیوں پہ ظلم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ آنکھیں بند کر کے فتووں پہ عمل کرنے والے والدین نے علمائے کرام کی طرف سے اس قانون کی مخالفت کے فتوے پہ خوب عمل کیا تھا اور اس طوفان کی لپیٹ میں آنے والی ہزاروں کم عمر لڑکیاں اندھا دھند بیاہ دی گئیں۔

کاش آج وہ علمائے کرام زندہ ہوتے اور عرب کی سرزمین پہ ہونے والی فکری تبدیلی کو دیکھتے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ انہیں گریبان میں جھانک کے شرمندہ ہونے کا خیال آتا یا نہیں؟

یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں

پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *