نیا سال اور اس کے منصوبے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک سال اور گزر چلا اور نئے سال کی آمد آمد ہے۔ آنے والا سال صرف ایک نیا سال ہی نہیں ہو گا بلکہ یہ ایک نیا عشرہ بھی ہو گا۔ ہر گزرتا سال اپنے دامن میں ایک پورے سال کی یادوں کو سمیٹتا رخصت ہوتا ہے اور نئے سال کی آمد پر ہر چہرہ خوش ہوتا ہے لوگ مسکرا کر اور ایک دوسرے سے گلے لگ کر آنے والے سال کا استقبال کرتے ہیں۔

ہر گزرتا سال ہم سب کی زندگیوں پر اپنے اپنے طریقے سے اثر چھوڑتا رخصت ہوتا ہے۔ جیسے کسی کا کوئی بچھڑتا ہے یا کسی کو کوئی ملتا ہے، کسی کو نوکری ملتی ہے، کوئی بیرونِ ملک سفر کرتا ہے، کسی نے نئی جگہ دیکھی ہوتی ہے، کسی نے نیا گھر بنایا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

بہت سے لوگوں کی زندگی میں سال کا آخری دن اس پورے سال کے گزرے دنوں کی طرح ایک عام سا دن ہوتا ہے اور وہ اسے ایک عام دنوں کی طرح ہی گزار دیتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس آخری دن پورے اہتمام سے نہ صرف گزرے سال کو یاد کرتے ہیں بلکہ اپنا احتساب بھی کرتے ہیں۔ بقول فیض صاحب

کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب

آج تم یاد بے حساب آئے

سال کی آخری ساعتوں میں وہ یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ اس سال میں انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ ان سے کیا غلطیاں سرزد ہوئی اور کون کون سی کامیابیوں نے ان کے قدم چومے۔ یہاں ظاہر ہے ہر کسی کی کامیابی، ناکامی، کھونے اور پانے کا اپنا اپنا معیار ہو گا۔ ایک کاروباری آدمی یہ سوچے گا کہ اس سال میں کتنا منافع یا نقصان ہوا۔ ایک پردیسی یہ سوچے گا کہ اس سال کے کتنے شب و روز وہ اپنے چاہنے والوں کے ساتھ اور ان کے درمیان رہا۔ ہماری طرح سے جو کوہ نورد ہو گا تو وہ یہ سوچے گا اس سال میں اس نے کتنے پل پہاڑوں کے درمیان گزارے یا کون کون سی نئی جگہ دیکھی۔ ایک کتابیں پڑھنے کا شوقین یہ سوچے گا اس نے اس سال کتنی کتابیں پڑھی۔

دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں تو یہ ایک طرح سے رواج ہے کہ جب دوست احباب سال کی آخری ساعتوں میں ایک جگہ اکٹھے بیٹھتے ہیں تو نہ صرف سال بھر کے اپنے تجربات شئیر کرتے ہیں بلکہ آنے والے سال میں اپنے اپنے ٹارگٹ بھی بیان کرتے ہیں۔ ان سب باتوں کے ساتھ وہ سامانِ روحانیت سے لطف اندوز ہوتے، سال کی آخری ساعتیں عجب سرور و مستی کے عالم میں گزارتے اور نئے سال کا استقبال کرتے ہیں۔ اب ہمارے ہاں چونکہ اس طرح کا کوئی بھی رواج سختی سے منع ہے اس لیے کون بیٹھ کر یوں نفع نقصان والی باتیں کرتا رہے۔ اور جو یار لوگ چوری چھپے اپنی روح کی تسکین کا کوئی بندوبست کر لیتے ہیں ان کے ہاں تو یہ اور بھی فضول سی بات مانی جاتی ہے کہ ایسی گھڑیوں کو نفع، نقصان یا کسی ٹارگٹ کی باتیں کر کے خراب کیا جائے۔

مہذب اور تہذیب یافتہ معاشروں میں نیو ایئر ریزولوشن کا رواج بہت پرانا ہے اور معاشرے کے بہت سے افراد آپ کو یہ کرتے نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پر اساتذہ سے لے کر والدین تک اور گھر کے بڑوں سے لے کر رشتے داروں تک ہر ایک اس پریکٹس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ نئے سال کے آغاز میں اپنے لیے ٹارگٹ متعین کیے جائیں۔

اس گزرے عشرے نے دنیا کو بہت تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے خاص طور پر دنیا کو واقعی ایک عالمی گاؤں کی شکل دے دی ہے۔ اب یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ دنیا سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکیں۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں گزرے چند سالوں میں یہ مثبت تبدیلی آئی ہے کہ لوگ یہاں بھی نئے سال کے ریزولوشن نہ صرف بناتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پہ دوسروں کے ساتھ شئیر بھی کرتے ہیں اور یوں دوسروں کو بھی یہ کام کرنے کی تحریک ملتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک کام جو دنیا میں ڈھیروں لوگ کرتے ہیں اس کی کامیابی کا تناسب کیا ہے یہاں پر اعداد و شمار بالکل بھی حوصلہ افزا نہیں ہیں کیونکہ عالمی راہِ عامہ جاننے والے بہت سے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق اسی فیصد سے زیادہ لوگ فروری کے درمیان تک اپنے ریزولوشن بھول چکے ہوتے ہیں یا ان کے مطابق عمل نہیں کر رہے ہوتے۔ اب قدرتی طور پر اگلا سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے تو میرے خیال میں اس کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ہم اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کر پاتے۔

سب سے پہلی وجہ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ بہت سے لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنے لیے ٹارگٹ سیٹ کر لیتے ہیں اور ان کو پورا کرنے میں وہ بالکل بھی اپنے آپ سے سنجیدہ نہیں ہوتے۔ اس لیے ہمیں صرف دوسروں کی دیکھا دیکھی یہ کام نہیں کرنا چاہیے جب تک کہ ہم خود اپنے ساتھ سنجیدہ نہ ہو۔

ہماری ٹارگٹ حاصل نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بغیر سوچے سمجھے اپنے لیے ایسے ٹارگٹ رکھ لیتے ہیں جو کہ عملی طور پر ممکن نہیں ہوتے جیسے ایک انتہائی مصروف انسان یہ ٹارگٹ رکھ لے کہ وہ روزانہ دو گھنٹے جم جائے گا تو ہو سکتا ہے وہ چند دن تک جا سکے مگر چند دنوں سے زیادہ اس کے لیے ممکن نہیں ہو پائے گا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے لیے ٹارگٹ منتخب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ آیا یہ ہمارے لیے ایک لمبے عرصے تک کرنا ممکن بھی ہو گا کہ نہیں۔

ایک اور وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم فالو اپ نہیں کرتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک خاص عرصے کے بعد دیکھیں کہ ہم کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں۔

اپنا احتسابی پارٹنر بنائیں جو آپ کا وقتاً فوقتاً احتساب کرتا رہے۔ جیسا کہ اگر آپ کا ٹارگٹ ہفتے میں پانچ دن جم جانے کا ہے تو آپ اپنی شریکِ حیات کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ آپ کا احتساب کرتی رہے اور یوں جونہی آپ ڈھیلے پڑیں وہ آپ کو آپ کا ٹارگٹ یاد دلائے اور آپ کو دوبارہ راہِ راست پر لائے۔

ہمارے ٹارگٹ حاصل نہ کرنے کی ایک اور وجہ ہمارے رویوں میں توازن کا نہ ہونا ہے۔ جیسے اگر آپ نے صحت مند ڈائٹ کا ٹارگٹ رکھا ہے تو سال کے پہلے ہی دن اپنے کچن پر حملہ آور نہیں ہونا اور ساری غیر صحت مند چیزوں کو اٹھا کر باہر پھینک دینا ہے یا اپنے ریفریجریٹر کو سبز پتوں سے بھر دینا ہے بلکہ آپ نے آہستہ آہستہ یہ کام کرنا ہے مثلاً اگر آپ دن میں دو کپ چائے کے پیتے ہیں تو آپ پہلے ایک کپ پر آئیں یا اگر آپ ایک کپ میں دو چمچ چینی ڈالتے ہیں تو آپ ایک چمچ چینی ڈالنے سے شروع کریں۔ وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں ”گو بِگ یا گو ہوم“ تو یہ ذہنیت یہاں پر آپ کے کسی کام نہیں آنے والی۔

جب آپ اپنے لیے ایک گول رکھیں تو آپ کے پاس ایک پورا منصوبہ ہونا چاہیے کہ اس پر عمل کیسے کرنا ہے۔ اور اگر آپ اپنا ایک گول بھی حاصل کر لیتے ہیں تو آپ کامیاب ہیں۔

آخر میں یہ دعا کہ نیا سال سب کے لیے ڈھیروں خوشیاں لے کر آئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply