سانحہ ہے مارکیٹ اور پیرس کمیون

شاعر مشرق نے اپنی نظم میں جب لینن کو خدا کے حضور پیش کیا تو لینن خدا سے کچھ یوں شکوہ کناں ہوا: تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات اگرچہ اقبال کے کہے گئے ان الفاظ میں ایک مزدور کے اوقات سے مراد اس کی پوری زندگی ہے لیکن مزدوروں کے یہی وہ اوقات کار تھے جن کو تبدیل کرانے کی جدوجہد میں شکاگو کے مزدور پھندوں پر جھول گئے

Read more

نیا سال اور ہماری ترجیحات

حسین تاج رضوی نے کہا تھا ڈھلی جو شام نظر سے اتر گیا سورج سورج غروب ہونے کا منظر مجھے ہمیشہ سے بہت پسند رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں دو منظر میرے پسندیدہ ترین مناظر ہیں۔ ایک، نیلگوں سمندر کے کنارے بیٹھ کر سورج کو غروب ہوتے دیکھنا اور دوسرا کسی بلند پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر سورج کو ڈوبتے دیکھنا۔ پچھلے چند سالوں سے میرا یہ معمول رہا ہے کہ میں بطور خاص سال

Read more

ہماری یونیورسٹیاں اور تنوع

گزشتہ دنوں ہمارے دارالحکومت کی ایک بڑی یونیورسٹی میں طلبہ نے ہولی کا تہوار منایا۔ اس تہوار کی تصویری خبر جب اخبارات میں آئی تو ہمارے ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی چیئر پرسن صاحبہ نے جھٹ سے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جس کی رو سے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں ہولی منانے پر پابندی لگا دی گئی۔ کاش ہمارا یہ ادارہ ہماری یونیورسٹیوں میں گرتے تعلیمی معیار کو سدھارنے کے لیے بھی کوئی نوٹیفیکیشن جاری کرے، جو کہ اس ادارے کا

Read more

بلاول کا دورۂ بھارت اور ایک خواب

شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کے آٹھ ممالک پر مشتمل ایک انتہائی اہم تنظیم ہے۔ یہ تنظیم، اپنے ممبر ممالک کی آبادی اور اس کے جغرافیہ کے اعتبار سے، دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے اور اس تنظیم کے ممبر ممالک کا مشترکہ جی ڈی پی دنیا کے ٹوٹل جی ڈیپی کا بیس فیصد ہے۔ اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر شنگھائی میں ہے اور جب یہ 1996 میں قائم ہوئی تو اس وقت اس کو شنگھائی فائیو کا نام دیا

Read more

یکم مئی اور سانحہ "ہے مارکیٹ”۔

شاعر مشرق نے اپنی نظم میں جب لینن کو خدا کے حضور پیش کیا تو لینن خدا سے کچھ یوں شکوہ دراز ہوا: تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات اگرچہ اقبال کے الفاظ تو ایک مزدور کی پوری زندگی کا احاطہ کرتے ہیں لیکن انیسویں صدی میں جب دنیا صنعتی دور میں داخل ہو رہی تھی تو اس وقت دنیا بھر کے مزدوروں کے اوقات واقعی بہت تلخ ہو چکے

Read more

جنرل مشرف اور بندوق کی نوک

موت تو برحق ہے۔ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات کے اس چھوٹے سے ذرے پر، جس کو زمین کہتے ہیں، آنکھیں کھولنے والی ہر ذی روح کو ایک دن آنکھیں بند کرنی ہی ہوتی ہیں۔ یہ دنیا ایک کلائیڈو سکوپ ہے جس میں مختلف رنگوں کے سماج اس دنیا کی خوبصورتی میں نہ صرف اضافہ کرتے ہیں بلکہ دیکھنے اور سوچنے والوں کی سوچ کو ایک نئی جلا بھی بخشتے ہیں۔ ہمارا یہ خطہ جس کو

Read more

شیر شاہ سوری اور قلعہ روہتاس

ایک انسان جس خطے میں رہتا ہے، وہ اس کے گھر کی طرح ہوتا ہے۔ اپنے خطے سے انسان کی وابستگی ایک قدرتی عمل ہے اور اس خطے سے پیار کرنا اس کی سرشت میں شامل ہے۔ جس طرح اپنے گھر کے بارے میں ایک انسان کو مکمل جانکاری ہوتی ہے عین اسی طرح اپنے خطے کے متعلق اور اس کے ماضی کے متعلق آگاہی رکھنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کا ایک طریقہ یہ

Read more

ایورسٹ نئی بلندیوں پر

ماؤنٹ ایورسٹ اس کرۂ ارض کا سب سے بلند پہاڑ ہے۔ دنیا کا یہ بلند ترین مقام، نیپال اور تبت (چین) کی سرحد پر واقع ہے۔ اور یہ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے، ہمالیہ کا ایک حصہ ہے۔ نیپال بلندو بالا پہاڑوں کی دولت سے مالا مال ایک خوبصورت ملک ہے۔ دنیا کے پہلے دس بلند پہاڑوں میں سے آٹھ پہاڑ اسی خوبصورت دھرتی کے سینے پر ایستادہ ہیں۔ انیسویں صدی ( 1865 ) میں دنیا کے اس بلند

Read more

صدیق سالک کی کتاب "ہمہ یاراں دوزخ”: جنگی قیدی کا روزنامچہ

دسمبر جاڑے کا شباب ہے۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں اس ماہ کا بڑی بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے۔ مغرب کا سب سے بڑا تہوار اس انتظار کی ایک وجہ ہے جہاں سفید روئی کے گرتے گالوں کے درمیان زندگی ہنستی، کھیلتی یہ مہینہ بتاتی ہے۔ وطن عزیز کے درو دیوار میں بھی ایک چاشنی سی اتر آتی ہے۔ درخت اپنے زرد پتوں کو زمین کا ایندھن بنا ہی رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پربت اور کہسار سفید

Read more

دلیپ کمار۔ ایک صدی کا قصہ

تھیسپیس ایک یونانی شاعر تھا۔ قدیم روایات کے مطابق اس کو یونانی ڈرامے کا پہلا اداکار بھی مانا جاتا ہے۔ لیکن تھیسپیس کا اصل کارنامہ ڈرامے کو ٹریجڈی جیسی بڑی صنف سے متعارف کروانا تھا اور اسی لیے تھیسپیس کو ٹریجڈی کا موجد مانا جاتا ہے۔ اگر برصغیر کی بات کی جائے تو دلیپ کمار صاحب کو بلا مبالغہ برصغیر کا تھیسپیس کہا جا سکتا ہے اور آج اس عظیم اداکار کو اپنی زندگی کی بہاروں کی ایک صدی پوری کرنے کے لیے صرف دو بہاریں مزید دیکھنا رہ گئی ہیں۔

یوسف خان نے گیارہ دسمبر 1922 کو پشاور کے محلہ قصہ خوانی بازار کے لالہ غلام سرور خان کے ہاں آنکھ کھولی۔ لالہ سرور خان پشاور کے ایک معروف تاجر ہونے کے ساتھ اسی علاقے کے بھشیشورناتھ کپور کے بھی دوست تھے۔ لالہ سرور اکثر اپنے اس دوست سے جھگڑا کرتے تھے کہ تم نے اپنے بیٹے پرتھوی راج کپور کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت کیوں دی ہے۔ لالہ کو کیا معلوم تھا کہ ایک دن ان دونوں دوستوں کے بیٹے ہندوستان کی تاریخ کی سب سے بڑی فلم ”مغل اعظم“ میں اکٹھے کام کر رہے ہو گے۔

Read more

علامہ خادم کا چھوڑا ہوا ترکہ

اقبال نے دنیا کو کسی معرکۂ روح و بدن کے پیش آنے کا ذکر کیا تھا اگر وہ آج کے زمانے میں ہوتے تو نجانے ہمارے دیمک زدہ معاشرے کے بارے میں کیا لکھتے جہاں آئے روز کوئی نہ کوئی ہنگامہ برپا رہتا ہے۔ غالب یاد آ گئے ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی آج ایک مرتبہ پھر ہمارے معاشرے میں تقسیم گہری ہو چلی ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج

Read more

گلگت بلتستان۔ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

آج سے تہتر سال پہلے اسی ماہ نومبر کا پہلا سورج گلگت بلتستان کی آزادی کے ساتھ طلوع ہوا تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد گلگت سکاؤٹس اور مہاراجہ کشمیر کی فوج کے مسلمان سپاہیوں اور افسران نے مہاراجہ کے نمائندہ گورنر کے خلاف بغاوت کر دی تھی جس کی قیادت انگریز کمانڈنٹ میجر ولیم براؤن نے کی تھی اور یوں اس خطے کو آزادی نصیب ہوئی۔ آزادی کے بعد یہاں کی عوام کی خواہشات کے مطابق پاکستان کی حکومت کو الحاق کے لیے پیغام بھیجا گیا جس پر حکومت پاکستان نے پس و پیش سے کام لیا۔ اسی اثنا میں ہندوستان قبائلی لشکروں کی کشمیر پر یلغار کے نتیجے میں سلامتی کونسل پہنچ گیا اور گلگت بلتستان کے آزاد خطے کو بھی کشمیر کے تصفیے سے نتھی کروا دیا۔ یوں پاکستان کی حکومت کی نالائقی اور بدقسمتی کی وجہ سے یہ خطہ آج تک پاکستان کا آئینی حصہ نہ بن سکا۔

Read more

ہالووین۔ ایک ڈراؤنا تہوار

ہر سال اکتوبر کی اکتیس تاریخ کو ہالووین کا تہوار منایا جاتا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے گلی کوچوں سے نکلتا یہ تہوار اب دنیا کے بیشتر خطوں میں منایا جاتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں رہنے والے کمزور دل حضرات آج کے دن دو باتوں کا بہت خیال رکھتے ہیں ایک تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اس دن گھر سے باہر قدم نہ رکھیں اور دوسرا یہ کہ اگر اس دن ان کے دروازے پہ دستک ہوتی ہے تو وہ دروازہ خود کھولنے کی بجائے گھر کے کسی کونے میں ہی دبکے رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔

ان کے اس ڈر کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ آج باہر قدم رکھتے ہیں تو گلی کے کسی کونے سے کوئی چڑیل ان کے سامنے آ سکتی ہے یا راہ چلتے کوئی جن ان پر حملہ آور ہو سکتا ہے یا راستے میں نظر آنے والا کوئی بھوت ان کی دوڑیں لگوا سکتا ہے اور اگر بے دھیانی میں وہ کسی ایسے گھر کے سامنے سے گزر رہے ہیں جس کے باہر ایک خوفناک ڈھانچہ کھڑا ہے تو ان کے قریب آتے ہی اس ڈھانچے سے نکلنے والا ایک خوفناک قہقہہ ان کے اوسان خطا کر دینے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ آج کے دن یہی ساری مافوق الفطرت مخلوقات ان کے گھر کے دروازے پر خود چل کر بھی آ سکتی ہیں۔ اسی لیے اس تہوار کو ایک ڈراونا اور بھیانک تہوار بھی کہہ سکتے ہیں۔

Read more

پہاڑوں کی ایک ننھی شہزادی

آئیے، آج آپ کی ملاقات پاکستان کی ایک ننھی سی کوہ پیما سے کراتے ہیں۔ کوئی تین سال قبل میں اور میرا دوست، ظہیر عباس گلیات کی سب سے اونچی چوٹی، میرانجانی کی ہائیکنگ کر رہے تھے۔ پائن کے گھنے درختوں کے درمیان ان خوبصورت چڑھائیوں کو چڑھتے ہوئے ہم کچھ پل سستانے کے لیے رکے۔ دور سے ایک دبلا پتلا آدمی ایک چھوٹی سی بچی کے ہم راہ ہماری اور آتا دکھائی دیا۔ پل بھر میں نا صرف وہ دونوں ہمارے پاس سے گزر چکے تھے بلکہ اگلا موڑ مڑ کر ہماری آنکھوں سے اوجھل بھی ہو چکے تھے۔

ان دونوں کی رفتار دیکھ کر ہم چونکے بغیر نہ رہ سکے۔ اور جب ہم میرانجانی کی چوٹی کے قریب پہنچے، تو وہ دونوں چوٹی سے ہو کر واپس نیچے کی طرف رواں دواں تھے۔ ہم نے کچھ لمحے رک کر ان صاحب سے سلام دعا کی۔ انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ ان کا نام یوسف خواجہ تھا جو کہ ایبٹ آباد میں مکین تھے اور ایبٹ آباد میں ایک فٹنس سینٹر چلاتے تھے۔ وہ چھوٹی سی آٹھ سال کی بچی، ان کی بیٹی تھی، جس کا نام سلینہ خواجہ تھا۔ یوں ہمارا سلینہ سے پہلا تعارف ہوا۔

Read more

مری جو اک شہر تھا

یو ٹیوب پر تاکا جھانکی کا بھی اپنا مزہ ہے کہ کبھی کبھی بہت نایاب چیزیں مل جاتی ہیں۔ آج یہی کام کرتے ہوئے اپنے شہر مری کی ایک پرانی ویڈیو نظر آ گئی۔ ویڈیو تو اگر چہ چند منٹ کی تھی لیکن ہم جیسے ناسٹلجیا کے شکار لوگوں کو چند منٹ تو کیا چند پل ہی ماضی کے دھندلکوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ ویڈیو میں نظر آتی پرانے مری کی مال روڈ کی خوبصورتی اور سادگی میری نسل کے نصیب میں تو اگر چہ نہیں تھی لیکن جو بدحال مری اب ہے اسی اور نوے کی دہائی میں یقیناً ایسا نہیں تھا۔

کرونا وبا کی تباہ کاریوں کے ہنگام اگر کوئی خیر کی خبر تھی تو وہ یہی تھی کہ ہمارے سیاحتی مقامات کچھ عرصے کے لیے سیاحوں کی دست برد سے محفوظ رہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران راقم کو مری جانے کا اتفاق ہوا تو مال روڈ پر معدودے چند لوگوں کو دیکھ کر گئی مری کے وہ مناظر یاد آ گئے جب سخت جاڑے کے موسم میں یہاں پر چند لوگ ہی پائے جاتے تھے۔ صاف ستھرا اور بارش میں بھیگا جی پی او جس کی سیڑھیوں پر عام حالات میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی، آج وہاں چڑیاں اچھل کود کر رہی تھیں۔ آج ان خالی اور اداس سیڑھیوں نے میرے اندر بھی ایک اداسی بھر دی تھی۔ یوں لگا جیسے لمحۂ موجود نے میری انگلی پکڑی اور مجھے زمانوں پیچھے چھوڑ آیا جب آج سے تین دہائیاں قبل انہی سیڑھیوں سے میں اپنی نانی اماں کی انگلی پکڑے گزرا کرتا تھا۔ میں ان کے ساتھ ان کی پنشن لینے یہاں آیا کرتا تھا۔

Read more

گیارہ اگست اور ہماری اقلیتیں

آج سے تہتر سال قبل جب یہ مملکت وجود میں آئی تو یہاں کے باشندوں کی ایک بڑی اکثریت تو ظاہر ہے مسلمانوں کی تھی لیکن اس کی ساتھ ایک بہت بڑی تعداد یہاں بسنے والے غیر مسلم باشندوں کی بھی تھی۔ تقسیم کے ہنگام جب سرحد کے دونوں طرف بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی تو اس کے باوجود بھی غیر مسلموں کی ایک قابل ذکر تعداد نے اسی سر زمین کو اپنا مسکن بنایا اور یہیں کے شہری بن کر رہنے کو ترجیح دی۔ پاکستان کی پہلی کابینہ کے ارکان پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس میں اقلیتوں کی بھر پور نمائندگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اس ملک کے بانیان کے اذہان میں یہ بات بالکل واضح تھی کہ اس ملک میں مذہب کی بنیاد پر کسی سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

ہمارے قومی پرچم کا سفید رنگ بھی اسی بات کی تصدیق کرتا نظر آتا ہے اور سب سے بڑھ کر بابائے قوم کی سن سنتالیس میں آج کے ہی دن کی گئی تقریر سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پاکستان کے شہریوں میں کسی بھی قسم کی کوئی تقسیم نہیں ہو گی۔ آئیے ایک مرتبہ پھر آپ کو بور کرتے ہیں اور بابائے قوم کی اس تقریر کا وہ اقتباس پیش کرتے ہیں جو آج ہمارے ملی اور مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔

Read more

پاکستان میں سیروسیاحت سے جڑے مسائل

ہماری موجودہ سرکار جو تبدیلی کے نام پر ”لائی گئی“ کو دو سال پورے ہونے کو آئے لیکن ”ہنوز دلی دور است“ کے مصداق ابھی تک وہ سحر کوسوں دور ہے جس کا وعدہ عوام سے کیا گیا تھا۔ اس تبدیلی سرکار نے تبدیل تو کیا خاک کرنا تھا الٹا کاروبار گلشن کو مزید برباد کر کے رکھ دیا۔ دیکھا جائے تو کیسے کیسے خوشنما نعرے تھے جن کی لوری عوام کو سنائی گئی اور انہی پرفریب نعروں میں ایک

Read more

امارات اور کرونوی عید

کرونا کے خونی پنجوں میں آئی یہ دنیا اب پھڑپھڑا رہی ہے اور پھر سے اپنی اصل کی طرف لوٹنے کو بے تاب لیکن نجانے یہ کیسا پنجہ ہے کہ ڈھیلا پڑنے کا نام تک نہیں لے رہا۔ اگر چہ کہیں پر اس کے پنجے کچھ ڈھیلے پڑتے نظر آ رہے ہیں لیکن وہاں پر بھی اس عفریت سے مکمل خلاصی کب ہو گی کسی کو نہیں معلوم۔ جس طرح دنیا اب آہستہ آہستہ اپنے بند کواڑوں کو کھولنا شروع

Read more

ایک عظیم اداکار: عرفان خان

وہ اپنی ایک الگ ہی ڈَگر کا مسافر تھا۔ اس کی اپنی ایک لائن تھی۔ اس کے پاس شاہ رخ جیسا سٹارڈم نہیں تھا اور نہ ہی اس کے پاس ہریتک روشن جیسا بالی ووڈ چہرہ۔ لیکن اس کے پاس کچھ تو تھا جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔ اس کی موجودگی آپ کو سکرین پر نظریں جما کر رکھنے پہ مجبور کرتی تھی۔ اس لیے کہ اس کی اداکاری صرف الفاظ کی ادائیگی کا نام نہیں تھا بلکہ

Read more

راکھ۔ مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین تارڑ صاحب کو پہلی دفعہ پی ٹی وی کی سکرین پر دیکھا جب وہ صبح کی نشریات کی میزبانی کرتے تھے۔ پھر جب کچھ عرصے بعد طبیعت پڑھنے کی طرف راغب ہوئی تو ابنِ انشا کا سفرنامہ ”چلتے ہو تو چین کو چلیے“ پڑھا اور جس کو پڑھنے کے بعد سفرناموں کی پسندیدگی کی ایک لو بھڑک اٹھی اور یہ لو ہمیں تارڑ صاحب تک لے گئی۔ نوے کی دہائی کے آخر کی بات ہے جب تارڑ صاحب

Read more

وبا کے دنوں میں دیکھی جانے والی فلمیں ( دوسرا حصہ)

راقم نے چند دن پہلے جب اسی نام سے انگریزی فلموں کی ایک فہرست بنا کر آپ کی خدمت میں پیش کی تھی تو میرے بھائی احسن عباسی صاحب نے مشورہ دیا تھا کہ ایک فہرست ہندی اور پاکستانی فلموں کے حوالے سے بھی ہو جائے۔ میں نے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے ایک ہندی فلموں کی فہرست بنائی جو آپ کے پیشِ خدمت ہے۔ آوارہ۔ 1951 مکیش کا یہ لازوال گیت ”آوارہ ہوں، یا گردش میں ہوں آسمان کا

Read more

وبا کے دنوں میں دیکھی جانے والی فلمیں

آنے والا مؤرخ لکھے گا کہ اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے کے شروع ہوتے ہی دنیا پر ایک ایسی وبا نے حملہ کیا جس نے چند دنوں کے اندر ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ جس سرعت سے اس وبا نے دنیا کو اپنے پنجوں میں دبوچا اس کے نتیجے میں ایسے شہر جو راتوں کو بھی جاگتے تھے وہ دن میں بھی آنکھ کھولنے کے قابل نہ رہے۔ راقم کا تعلق درس و تدریس سے ہے۔ تعلیمی اداروں

Read more

صحراؤں کے دیس میں کوہ نوردی ( آخری حصہ )

اج دن چڑیا ترے رنگ ورگا صبح کی شدید دھند کے بعد اب صاف، شفاف دھوپ بہت بھلی لگی رہی تھی۔ مرد و خواتین، بچے اور کچھ بوڑھے، ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ سیڑھیوں پر چڑھ رہے تھے اور یوں ہم نے بھی اوپر جانے والوں کے ساتھ قدم ملا لیے۔ کچھ جوڑے ایسے بھی ملے جو صبح سے تین سے چار مرتبہ ان سیڑھیوں کے ذریعے پہاڑ کی چوٹی پر جا کر واپس آ چکے تھے۔ ان کی ہمت

Read more

صحراؤں کے دیس میں کوہ نوردی

مشرقِ وسطیٰ کے ملک متحدہ عرب امارات نے بہت قلیل مدت میں اقوامِ عالم میں اپنا ایک مقام بنایا ہے۔ آج شاید ہی کوئی بین الاقوامی سیاح ہو جس نے یہاں قدم رنجہ نہ فرمایا ہو۔ بہت سارے عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہ خطہ دنیا کے نقشے پر تیزی سے ابھرا ہے اور یہی عوامل اس خطے کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ یہ ملک جہاں آسمان کو چھوتی بلند و بالا عمارات کی وجہ سے دنیا میں

Read more

وادئی سوات میں ایک دن ( آخری حصہ )

جمال احسانی نے کہا تھا گھر بھی عزیز، شوق بھی دل میں سفر کا ہے یہ روگ اک پل کا نہیں عمر بھر کا ہے تو ہم بھی اسی روگ کا کچھ مداوا کرنے کے لیے صرف ایک دن کے لیے وادئی سوات دیکھنے نکلے تھے اور سوات ایکسپریس وے پر سفر کرتے اب ہم چکدرہ پہنچ چکے تھے۔ اگر چہ ایکسپریس وے پر سفر کرنے سے بہت آسانی ہو گئی ہے لیکن اس طرح تھوڑی سی قربانی یہ دینی

Read more

وادئی سوات میں ایک دن (حصہ اول)

اکیسویں صدی کا پہلا عشرہ وطنِ عزیز کے لیے پہاڑ جیسے مسائل لے کر نازل ہوا تھا۔ خدا شاہد ہے کہ کیسے کیسے آلام و مصائب کا سامنا کرتے اس ملک کے عوام نے وہ عشرہ بِتایا۔ نئی صدی کی شروعات ہوئیں تو ایک آمر اس بدقسمت ملک کے آئین کو اپنے بوٹوں تلے روندتا ہوا مسندِ اقتدار پر فائز تھا۔ ایک اور آمر سے جان چھڑاتے اور جمہوریت کی جنگ لڑتے اس ملک کے بدقسمت عوام کو ایک رہنما

Read more

ایک باپ کا نوحہ

آج پھر ایک اور جنوری درپیش ہے اور میں اس سوچ میں گم کہ یہ جنوری ہر سال کیوں چلا آتا ہے اور دل کے چھپے زخموں کو پھر سے ہرا بھرا کر دیتا ہے۔ جیسے تارڑ صاحب کے ناول راکھ میں ایک کردار دوسرے سے کہتا ہے ”سردیوں کا موسم ڈھکے چھپے اور پوشیدہ زخموں کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔ “ میرا دل چاہتا ہے کہ کاش یہ جنوری کسی طرح ایک آن میں گزر جایا کرے یا پھر

Read more

”دی آئرش مین“۔ ایک ماسٹرپیس

پچھلے ایک مہینے سے میں ایک فلم کے لیے وقت نکالنے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ وہ کوئی معمولی فلم نہیں تھی بلکہ ساڑھے تین گھنٹے پہ محیط ایک لمبی چوڑی فلم تھی۔ آج کی مصروف زندگی میں اتنی لمبی فلم دیکھنے کے لیے وقت نکالنا آسان کام نہیں ہے۔ بالآخر وقت نکالا، فلم دیکھی اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ پلک جھپکنے والا محاورہ اگر میں یہاں استعمال کر سکوں تو میں کہوں گا کہ ساڑھے تین گھنٹے کیسے

Read more

نیا سال اور اس کے منصوبے

ایک سال اور گزر چلا اور نئے سال کی آمد آمد ہے۔ آنے والا سال صرف ایک نیا سال ہی نہیں ہو گا بلکہ یہ ایک نیا عشرہ بھی ہو گا۔ ہر گزرتا سال اپنے دامن میں ایک پورے سال کی یادوں کو سمیٹتا رخصت ہوتا ہے اور نئے سال کی آمد پر ہر چہرہ خوش ہوتا ہے لوگ مسکرا کر اور ایک دوسرے سے گلے لگ کر آنے والے سال کا استقبال کرتے ہیں۔ ہر گزرتا سال ہم سب

Read more

بے نظیر اور تین دریا

افتخار عارف نے کہا ہے ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں آج اُس بدقسمت ستائیس دسمبر کو گزرے بارہ سال ہونے کو آئے لیکن وہ ساعتیں اب بھی نہیں بھولتی جب میں اور میرا کزن مانچسٹر کے سٹاک پورٹ ٹاؤن میں لگی کرسمس کی سیلوں سے خریداری کر رہے تھے تب یہ اندوہناک خبر سننے کو ملی تھی اور ہم سب کچھ چھوڑ کر گھر کی طرف بھاگے تھے کہ

Read more

راولپنڈی میں کرکٹ کی کچھ یادیں کچھ باتیں

گیارہ دسمبر کا دن جب سری لنکا کے بہادر کھلاڑی ایک دفعہ پھر ہمارے کرکٹ کے سونے میدانوں کو آباد کر رہے ہیں اور پنڈی کی سر زمین کو پندرہ سالوں بعد کسی ٹیسٹ میچ کی میزبانی کا شرف حاصل ہو رہا ہے تو یوں یہاں کے ترسے باسی آخر کار اپنے سامنے اپنے کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھ سکیں گے۔ پنڈی نے کراچی اور لاہور کے مقابلے میں ایک چھوٹا شہر ہونے کے باوجود ہمیشہ کھیلوں کی آبیاری میں بڑھ

Read more

پوپ فرانسس کا دورۂ متحدہ عرب امارات اور رواداری کا سال

متحدہ عرب امارات میں 2019ء کو رواداری کے سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں کی حکومت بہت سے اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے کی سب سے بڑی کڑی رومن کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کا یہاں کا تین روزہ دورہ تھا۔ پوپ فرانسس آٹھ صدیوں کے بعد اس جزیرہ نما عرب کا دورہ کرنے والے پہلے پاپائے روم ہیں۔ پوپ متحدہ عرب امارات کے دارلخلافہ ابو ظہبی میں تین فروری بروز اتوار

Read more