اسلامی، غیر اسلامی کالم اور اعزازیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میم جی السلام علیکم۔ کیسی ہیں آپ۔
میں۔ الحمد للّہ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔
میم جی۔ میں نا کالم لکھنا چاہتا ہوں، وہ بھی اسلامی کالم۔ میں اسلامی کالم نگار بننا چاہتا ہوں۔
( اسلامی اسکالر کی ٹرم تو عام ہے یہ کالم نگار۔ میری حیرت کا عالم دیدنی تھا) ۔

میں۔ آپ کی تعلیم کتنی ہے اور اس سے پہلے کچھ لکھا ہے؟ روز کتنے قومی اور عالمی جراید کا مطالعہ کرتے ہیں؟ کس کالم نگار کے کالم پسند کرتے ہیں؟ اسلام پر لکھنا چاہتے ہیں تو قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ اور اس کی تفسیر میں کس کس کو پڑھا ہے اور اس حوالے سے کتنے اسلامی اسکالرز کی تحاریر پڑھتے ہیں؟

میم جی۔ ( اب لہجے میں ذرا لڑکھڑاہٹ تھی) ۔ وہ ایم اے اسلامیات کر رہا ہوں۔ اخبار تو ریگولر کوئی بھی نہیں پڑھتا۔ کتابیں نسیم حجازی کے ناول شوق سے پڑھتا تھا کبھی۔ ( ہائے نسیم حجازی کی اسلامی تاریخ، جس میں حقیقت کا واضح رخ ضیاء تسنیم بلگرامی اور الیاس سیتاپوری کی تحاریر سے ملتا ہے، میری رائے میں ) اور کالم تو صرف آپ کے پڑھتا ہوں۔

میں۔ اچھا ابھی حال ہی میں کس موضوع پر لکھا ہے میں نے۔ ( یہ رواں سال شاید مئی کی بات ہے جبکہ 25 مارچ کے بعد سے لے کر اکتوبر تک، میں نے ریگولر کالم نگاری نہیں کی)

میم جی۔ وہ شاید۔ یہاں پر چند منٹ کی خاموشی۔
میں۔ بیٹے میری وال کا وزٹ بعد میں کر لینا۔ مگر پتر موصوف آف لائن چلے گئے تھے۔

کچھ دن بعد پھر سے۔ میم جی السلام علیکم۔
وہ آپ سے پوچھنا تھا کہ ایک کالم کا معاوضہ کتنا ملتا ہے ( ہائے ہماری سادہ دلی۔ ہم تو اسے اعزازیہ سمجھتے رہے۔ )

اصولی طور پر اب میرا غصے میں آنا بنتا تھا ( یہ دکھتی رگ تھی صاحب، جس پر اس ناہنجار نے بھرپور نمک پاشی کی تھی) ۔ مجھے اپنے لہجے میں کڑواہٹ محسوس ہوئی مگر نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا۔ لکھنا شروع کر دیا ہے کیا؟

میم جی۔ جب بھی لکھوں گا اسلام کے بارے میں لکھوں گا اور ہاں بتا دوں کہ معاوضہ اپنی مرضی کا لوں گا ( کنفرم ہے کہ یہ شاہ بودم کی نسل کا نمائندہ میرا چیزا لے رہا ہے وہ بھی پولی پولی ڈھولکی بجا کر) ۔

میں۔ دیکھو بچے پہلے تعلیم مکمل کرو۔ پھر جس موضوع پر لکھنا چاہتے ہو اس کو فائنل کرو۔ پھر موضوع کے حوالے سے مکمل مطالعہ کرو کیونکہ اسلام بھی خالی ایک موضوع نہیں ہے بلکہ کروڑ ہا عنوانات سے پر ہے۔ اس کے بعد میرے ساتھ رابطہ کرنا۔

اچھا میم جی۔ بس یہ بتا دیں کہ معاوضہ کتنا ملے گا ( میرے جیسے فری لانسر کے لیے معاوضہ ایک حساس موضوع ہے اور وہ مسلسل مجھے زچ کر رہا تھا۔ میں نے اسے اس وقت تک بلاک نہیں کیا تھا کیونکہ اس سے زیادہ وہ کبھی بات نہیں کرتا تھا۔ مگر اس وقت میرا سارا تحمّل اور بردباری جواب دینے لگی تھی۔ اس سے پہلے کہ میرا غصّہ کچھ خطرناک القابات کی صورت اختیار کرتا۔ میں نے آف لائن ہونا مناسب سمجھا) ۔

مگر ایک دن حد ہو گئی۔ سلام میم جی آج میرا پیپر ہے۔ مجھے بس یہ بتا دیں کہ یہ اوصاف حمیدہ کیا ہوتا ہے۔ چیدہ چیدہ نکات بتا دیں باقی میں خود لکھ لوں گا۔ پہلے میں نے اگلا پچھلا غصّہ نکالا اور پھر اسے بلاک کر دیا۔ اوصاف حمیدہ اور ایم اے اسلامیات کے طالب علم کی لا علمی۔ بہت سارے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، نجی یونیورسٹیوں یا کسی استاد کے بغیر گھر بیٹھ کر پڑھنے والے اکثریتی طلبہ کی معلومات عامہ بھی واجبی سی ہیں۔

یہ دو ہزار گیارہ کی بات ہے میں چینل فائیو میں تھی۔ کہ رائے ونڈ روڈ پر واقع ایک نجی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکشن کے طلباء کا گروپ آیا۔ طارق بھٹی شفٹ انچارج تھے۔ انہوں نے کہا ان سے بات کرو اور چینل کا وزٹ بھی کروا دو۔ میں نے پہلے تو ان سے بات چیت کی۔ میرا پہلا سوال تھا۔ او سی، وی او کے بارے میں بتائیں۔ انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ پروڈکشن کے بنیادی اصولوں سے بھی لاعلمی ظاہر کی تو مجھ سمیت نیوز روم میں موجود دیگر افراد کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔

دو سال قبل میں ایک تعمیراتی فرم کے میڈیا سیل کو دیکھ رہی تھی کہ گلبرگ لاہور میں واقع ایک نجی یونیورسٹی سے انٹرن شپ پر طلباء آئے۔ جنہیں یہ نہیں پتہ تھا کہ جنہیں لاہور اور پنجاب کے حوالے سے بھی مستند معلومات نہیں تھیں کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب لاہور کا دارالحکومت ہے۔ بلوچستان اور ایجنسیوں میں دہشتگرد گروہ رہتے ہیں۔ ایک ہفتہ لگا ان کی معلومات عامہ بہتر کرنے میں۔ اور انٹرن شپ کے دوران ان کا مطالبہ بیس ہزار سیلری کا تھا۔ وہ بھی کم از کم۔ زیادہ سے زیادہ کی تو بات نہ کی جائے۔ یہ طلبہ تعلیمی اداروں میں کرنے کیا جاتے ہیں یا آج کا استاد بے بس ہے یا نا اہل جو اپنے طالب علم کو نہ صرف اچھا طالب علم بلکہ اچھا انسان بنانے سے بھی قاصر ہے۔

موضوع اسلامی اور غیر اسلامی کالم کی ٹرم کی تھی۔ جبکہ ہمارے لیے کالم ادارتی صفحہ کے بعد ایڈیشن کی بنیاد پر ہوتے تقسیم ہوتے تھے۔ جیسے جمعہ ایڈیشن، تعلیمی ایڈیشن، شوبز یا پھر خصوصی دنوں پر شائع ہونے والے ایڈیشنز۔ پھر اہم ترین کہ جس موضوع پر لکھنا ہے اس کے بارے میں مکمل مطالعہ بھی ہونا چاہیے۔ اخبارات، جرائد اور کتب کا مطالعہ کرنے کی اہم ترین وجہ یہ سمجھائی گئی تھی کہ اس سے آپ کے پاس خیالات اور الفاظ کا ذخیرہ جمع ہوتا جائے گا۔ دنیا میں کہاں کیا ہو رہا ہے آپ باخبر رہیں گے۔ ایک لکھاری کا جنرل نالج اور مطالعہ اچھا ہونا چاہیے۔

کالم میں عالمی اور تاریخی واقعات، بر محل اشعار، ضربِ المثال اور محاورات کا تہذیبی استعمال کب اور کیسے کرنا ہے۔ اس کا شعور ہونا چاہیے۔ سماج میں اٹھتے بیٹھتے ہم بہت کچھ دیکھتے ہیں، ان واقعات کو، حتیٰ کہ اپنے ساتھ بہت کچھ ہو جاتا ہے۔ ان کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، مطالعہ، مشاہدہ اور مراقبے جیسے عوامل آپ کو اچھا لکھاری بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ مگر سیڑھی پر قدم رکھتے ہی معاوضہ کی بات کرنا میرے نزدیک نامناسب ہے ( قلم اسی لفظ کا متقاضی ہے اگرچہ ذہن و لب پر کچھ اور ہی الفاظ گردش میں تھے ) ۔ الفاظ کا شعور اور ان کا استعمال قدرتی ہے اور مسلسل مطالعہ اور لکھنا آپ کی لکھائی میں نکھار لاتا ہے۔ جیسے انگریزی میں

Practice makes man Perfect

کہتے ہیں۔ معاوضہ کے لیے لکھیں گے تو قلم آزاد نہیں رہے گا۔ آزادی سے لکھنا چاہتے ہیں تو رزق کہیں اور تلاش کیجئے۔ لفظوں کی آبیاری اپنے فکر کے لہو سے کی جاتی ہے نہ کہ نوٹوں کی گرمی سے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *