جنرل باجوہ کی توسیع کیوں ضروری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لگتا ہے کہ حکومت کو اپنے کسی بھی اقدام پر سو فیصد اعتبار نہیں ہوتا ، اسی لئے ایک فیصلہ کے بعد مختلف راستہ اختیار کرنے کی فوری کوشش بھی سامنے آجاتی ہے۔ تحریک انصاف کی اسی سرکاری پالیسی کو یو ٹرن کا نام دیا جاتا ہے۔

مخالفین نے اگرچہ یہ اصطلاح طنزیہ استعمال کرنا شروع کی تھی لیکن عمران خان نے اپنی ’ سیاسی بصیرت ‘ کی بدولت اسے ڈاکٹرائن کی شکل دے دی ہے۔ اور قرار دیا ہے کہ ہر بڑا لیڈر فیصلے تبدیل کرتا ہے۔ جیسے دیوار سامنے آجائے تو اس سے سر ٹکرانے کی بجائے راستہ بدل لیا جاتا ہے۔ راستے تبدیل کرنے کا یہ عمل اب اس قدر تواتر اور تیزی سے ہورہا ہے کہ اس وقت حکومت کی کوئی حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ اضطراری کیفیت میں کئے گئے فیصلوں کی بنیاد پر معاملات چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کی تازہ مثال گزشتہ شب کابینہ کا اجلاس اور اس کے فوری بعد چوبیس گھنٹے کے اندر سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا واقعہ ہے۔

کابینہ کے اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی گئی ہے اور پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنے کا مقصد ان ترامیم کو ایوان سے منظور کروانا ہے۔ بظاہر ان ترامیم کا مقصد سپریم کورٹ کے 28 نومبر کے فیصلہ کے مطابق آرمی چیف کی تقرری، توسیع و مراعات کا تعین کرنا ہے۔ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی قیادت میں سہ رکنی بنچ نے اس فیصلہ میں پارلیمنٹ کو مناسب قانون سازی کا مشورہ دیا تھا۔ کیوں کہ عدالت کے خیال میں اس وقت کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت آرمی چیف کی تقرری کی جاسکے یا انہیں توسیع دینے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس فیصلہ پر چیں بچیں ہونے کے باوجود حکومت نے یہی اشارے دیے تھے کہ حکمران جماعت اس سوال پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر مناسب قانون سازی کرلے گی۔ اٹارنی جنرل نے بھی سپریم کورٹ کو یہی یقین دلوایا تھا۔ خیال تھا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جنرل باجوہ کو ملنے والی 6 ماہ کی توسیع اور حکومت کو اتنے ہی وقت میں قانون سازی کی مہلت کا فائدہ اٹھا کر کوئی سیاسی راستہ نکال لیا جائے گا۔

پھر اچانک 26 دسمبر کو آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اپیل میں حکومت کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ نے 28 نومبر کے حکم میں اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے اور قانون سازی کا معاملہ ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئین کی روح کے خلاف اور حکومت کے انتظامی اختیار پر حملہ کے مترادف ہے۔ اسی لئے سپریم کورٹ سے نظر ثانی کے علاوہ اس معاملہ پر فل کورٹ بنانے اور اس کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی اس اپیل پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ اب حکومت نے ایک اور قلابازی کھاتے ہوئے آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے اس کی منظوری کے لئے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا ہے۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ حکومت اور وزیر اعظم پارلیمنٹ کو گزشتہ کچھ عرصہ میں رونما ہونے والے اہم واقعات کے بارے میں اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔ البتہ جس طرح پارلیمنٹ کے اجلاس سے پہلے کابینہ نے عجلت میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی ہے، اس کی روشنی میں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ حکومت اس بل کو ایوان منظور کروانے کی کوشش کرے گی۔ نئے سال کے آغاز پر اجلاس طلب کرنے پر اپوزیشن کے بیشتر لیڈر حیران و ششدر ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بہت سے ارکان خراب موسم کی وجہ سے شاید بر وقت اجلاس میں شریک بھی نہ ہوسکیں لیکن حکومت کے نمائیندے اس اقدام کو جمہوریت نوازی اور پارلیمنٹ کے احترام کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

اس بحث سے قطع نظر کہ حکومت کس حد تک پارلیمنٹ پر اعتماد کرتی ہے یا اسے فعال بنانا ضروری سمجھتی ہے ، یہ دیکھنا چاہئے کہ ایک معاملہ پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے فوری بعد اب اس میں قانون سازی کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے۔ کیا حکومت نے ایک بار پھر اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بجائے پارلیمنٹ سے فیصلہ کروانے کا عزم کیا ہے۔ اگر یہ فیصلہ درست ہے تو کیا وجہ ہے کہ صرف چند روز پہلے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی تند و تیز درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس سوال کا جواب شاید عمران خان یا ان کے قریب ترین معتمدین کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن اس طرح عجلت میں فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کرنے کی کوشش سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کو حکمرانی کے رموز سیکھنے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ حکومت کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں خلفشار و انتشار، بے چینی و پریشانی کی بجائے اعتماد اور یک جہتی کی کیفیت پیدا ہو۔ اسی صورت میں درپیش معاشی مسائل اور خارجہ محاذ پر چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن حکومت اقتدار سنبھالنے کے ڈیڑھ برس بعد بھی اس بنیادی اصول کو سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ پارلیمنٹ میں معاملات حکومت کی مرضی و منشا کے مطابق ہی طے پاجائیں۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن ارکان کی غیر موجودگی کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے حکومت اپنی علامتی اکثریت کی بنیاد پر یہ قانون منظور کروا لے اور فوج کو راضی رکھنے کے عمومی مزاج کی وجہ سے اپوزیشن بھی اس پر کوئی احتجاج سامنے لانے کی ضرورت محسوس نہ کرے لیکن اس اہم معاملہ کو کسی مناسب بحث یا مشاورت کے بغیر ’طے ‘ کروانے کے عمل سے پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوگی اور نہ ہی اپوزیشن کے ساتھ اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ شاید اس وقت عمران خان اور حکومت کا یہ مسئلہ بھی نہیں ہے۔ وہ کسی نہ کسی صورت جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین برس کے لئے فوج کا سربراہ بنوانے کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہی طرز عمل شبہات بھی پیدا کرتا ہے۔

عمران خان اور ان کی حکومت نے پہلے دن سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے کے معاملہ پر عجلت اور گھمنڈ ہی کی وجہ سے غلط طریقہ اختیار کیا۔ جنرل باجوہ کے عہدے کی مدت نومبر کے آخر میں مکمل ہورہی تھی۔ اس لئے توسیع دینے کا اعلان اس وقت سے چند روز پہلے بھی کیا جاسکتا تھا۔ اس طرح اس توسیع کے مخالفین کو شاید اس حکم کے نقائص تلاش کرنے، اس پر رد عمل دینے یا اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا موقع ہی نہ ملتا۔ اسی لئے سیاسی امور میں ٹائمنگ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ البتہ عمران خان نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اگست میں ہی اس بارے میں حکم جاری کردیا۔ بعد میں سپریم کورٹ میں اپیل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وزیر اعظم تو توسیع دینے کا مجاز ہی نہیں ہے۔ اس کا حکم تو صدر مملکت کی طرف سے جاری ہونا چاہئے تھا۔ سپریم کورٹ کو مطمئن کرنے کے لئے کابینہ کے اجلاس اور نوٹی فیکیشن تیار کرنے کی لگاتار کوششوں کی کہانی اب تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ آخر عمران خان کیوں ہر قیمت پر جنرل قمر جاوید باجوہ کو ہی فوج کی سربراہی پر متعین رکھنا چاہتے ہیں؟

نومبر میں سپریم کورٹ میں اس معاملہ پر غور کے دوران بھی حکومت توسیع کا حکم واپس لے کر خود کو، فوج کو اور سب سے بڑھ کر جنرل باجوہ کو ایک مشکل صورت حال سے نکال سکتی تھی۔ اس طرح کوئی دوسرا جنرل آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہوجاتا اور معاملات اتنے پیچیدہ نہ ہوتے۔ نہ یہ سوال کھڑا ہوتا کہ آخر اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے والے جنرل کو ہی کیوں یہ عہدہ مزید تین برس کے لئے دینا ضروری ہے۔ حکومت نے البتہ اس بارے میں عقل سلیم کی بجائے جذباتی طریقوں اور ہٹ دھرمی سے کام لیا۔ اس طرح ایک طرف وزیر اعظم کے نامزد ہونے والے طعنے کو یقین میں تبدیل کیا گیا ، دوسرے منتخب حکومت کے اختیار کے حوالے سے سوالات پیدا ہوئے۔ فوج میں موجود احساسات پر چونکہ بات نہیں کی جاتی اس لئے وہ پہلو زیر بحث نہیں آیا لیکن اس حوالے سے ہونے والی سرگوشیوں اور قیاس آرائیوں کو نہیں روکا جا سکتا۔ یہ صورت حال ملک کی سلامتی کے حوالے سے خوش آئند نہیں ہے۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حکومت اس قدر بے چین تھی کہ پہلے تو وزیر قانون فروغ نسیم نے استعفیٰ دے کر اس مقدمہ میں پیروی کرنا ضروری سمجھا۔ پھر اٹارنی جنرل نے آرمی چیف کی توسیع کو جائز ثابت کرنے کے لئے کبھی یہ دعویٰ کیا کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتا اور کبھی یہ قرار دیا گیا کہ جب آئین میں وضاحت نہ ہو تو حکومت فیصلہ کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔ نظر ثانی کی اپیل میں بھی یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب 70 برس سے آرمی چیف کی تقرری انتظامی روایت کے تحت ہوتی رہی ہے تو سپریم کورٹ اب اس میں تبدیلی کیوں کرنا چاہتی ہے؟

جنرل قمر جاوید باجوہ کو ہر قیمت پر توسیع دینے کا حکومتی فیصلہ شبہات اور بے یقینی پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ حکمت عملی فوجی قیادت کے مورال اور کام پر بھی اثر انداز ہو گی۔ حکومت کے علاوہ جنرل باجوہ کو خود اس پہلو سے بھی صورت حال کا جائزہ لینا چاہئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1425 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *