حریم شاہ اور قندیل بلوچ میں مماثلت کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تو سچ ہے کہ میڈیا کو خبر چاہیے اوروہ بھی گرماگرم، مصالحے دار اورمصالحہ ذرا تیز ہو تو مال خوب بکتاہے، چاہے الیکٹرانک میڈیا ہو، پرنٹ ہو یا پھر انسانی اذہان پربھوت کی طرح سوارسوشل میڈیا ہو، آج کل حریم شاہ کی خبریں خوب گرم ہیں، قوم مزے لے لے کران خبروں کوپڑھتی اور شئیر بھی جی بھر کر رہی ہے حالانکہ اسے شئیر کرنے والے کو ٹکے کافائدہ نہیں مگر جب اور کام ہی کوئی نہ ہو تو حریم شاہ جیسے موضوعات ”وہیلے بندے“ کو وقت گزارنے کے لیے اچھا سہارا دیتے ہیں لیکن مجھے اس معاملے میں ایک ڈر ہے جس کاہم یہاں ذکر بھی کریں گے۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا ہے کہ میڈیاکی چاہے جوب ھی قسم ہو یہاں بیچنے کے لیے تازہ خبر چاہیے، پرانی خبروں سے نہ میڈیا کا کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی قوم اسے پسند کرتی ہے، میڈیا بھی وہی بیچ رہا ہے جس کی ڈیمانڈہماری قوم کررہی ہے، یہ الگ بات ہے کہ قوم میڈیا کو برا بھلا بھی کہتی جاتی ہے اورمصالحے دار خبریں دیکھنے، پڑھنے اورسننے سے باز بھی نہیں آتی۔ میں یہاں آپ کوایک اسی نوعیت کی پرانی خبرکاحوالہ دوں گا، شاید کسی کویاد ہو۔ ”ایک قندیل بلوچ ہواکرتی تھی، وہ قندیل جسے پہلے توجانتا کوئی نہیں تھا پھر اسے سب جانناشروع ہو گئے اورنہ صرف جاننا شروع ہوگئے بلکہ اسے ٹی وی پروگرامزاورتقریبات میں بھی بلایاجانے لگا، اس لڑکی کی پہچان کیا تھی؟

صرف اپنی مخصوص حرکتوں کی وجہ سے اس نے اپنی پہچان بنائی، میڈیامیں ان رہنے کے لیے آئے روزوہ شوشے چھوڑتی رہتی تھی، اب اسے یہ مشورے کون دیتات ھا، یہ کہانی الگ ہے اورہم بھی یہاں اس پرانی کہانی پرزیادہ وقت ضائع نہیں کریں گے، بس اتنا بتانا مقصود تھا کہ شہرت کی بلندیوں پر آگے بڑھتے بڑھتے وہ موت کے گڑھے میں گر گئی اوریوں قندیل بلوچ کا ذکر، قندیل بلوچ قتل کیس کے طورپر ہونے لگا ”۔

اگرآپ قندیل بلوچ کے منظرعام پرآنے اورحریم شاہ کے مشہور ہونے کاتقابلی جائزہ لیں تودونوں لڑکیوں میں ایک مماثلت ضرور ہے کہ دونوں نے شہرت کے لیے الٹی سیدھی حرکتوں کاسہارا لیا، قندیل کے دورمیں اسے جو کچھ دستیاب تھا، اس نے اپنے طور پر کوشش کی اوراب حریم شاہ نے اپنی خوبصورتی اور سیاسی تقریبات میں شرکت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے لوگوں سے سلام دعا بنا لی جس کے بل بوتے پراس کے لیے کسی بھی جگہ جانا مشکل نہیں رہا، بات صرف ملنے ملانے اور تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کی حد تک ہو تو مسئلے پیدا نہیں ہوتے مگرجب انہیں اعمال کو ”سکینڈلز“ کا عنوان دے کر سوشل میڈیا صارفین ٹرینڈ بنائیں گے تو یہ اس لڑکی اور سوشل میڈیا صارفین دونوں کے لیے ہی افسوسناک ہے۔

اس بات کو بالکل بھی بھولنے کی ضرورت نہیں کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں غیرت کے نام پرایک منٹ میں جان لے لی جاتی ہے، غیرت کے نام پرقتل ہونے والے زیادہ تر کیسز میں اگر دیکھا جائے تو مجرم صرف بات سنتے ہی غصے میں آ جاتاہے اور پھر وہ کر گزرتا ہے جس سے دوسرا انسان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے، ایسے معاملات میں بعض دفعہ حقائق کچھ مختلف بھی ہوتے ہیں مگرغیرت کے معاملے پر مجرم جرم کرنے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کرتا، اگروہ صرف اتنا ہی جان لے کہ کسی بھی انسان کو اس کے گناہ کی سزا دینے کاحق اللہ تعالیٰ کو ہے یا پھرانسان کے بنائے گئے قانون میں بھی سزائیں رکھی گئی ہیں، دونوں صورتوں میں معافی کی گنجائش ہے اوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی بہت زیادہ گنجائش ہے لیکن مجرم یہ سب باتیں جرم کے ارتکاب کے بعد سوچتا ہے جیسا کہ قندیل بلوچ کیس آپ کے سامنے ہے۔

میری نظر میں صورتحال اب اس خطرے کے قریب نظرآتی ہے، میں جب قندیل بلوچ کے معاملے کو دیکھتا ہوں تومجھے حریم شاہ کے معاملے بھی ڈر لگتا ہے کہ وہ ایک گاؤں سے اٹھ کر بچگانہ حرکتیں کر رہی ہے اور سننے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ حریم شاہ کے گاؤں والے اب کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ انہیں حریم شاہ کی وجہ سے شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے، یہ بھی سناجا رہا ہے کہ حریم شاہ کے اہل خانہ کو اس شہرت اور اس شہرت پر ہونے والی نازیبا گفتگو کی پرواہ نہیں مگر پھر بھی احتیاط لازم ہے۔

قندیل کے اہل خانہ کو بھی شروع میں اعتراض نہیں تھا مگرنجانے بعد میں بات قتل تک کیسے پہنچ گئی، یہ احتیاط حریم شاہ کوسب سے پہلے کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسامواد سوشل میڈیا پر شیئرنہ کرے کہ جس سے کسی کی دل آزاری ہو اورپاکستانی سوشل میڈیاصارفین کو بھی ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے کہ یہ ہم پرلازم نہیں کہ ہر پوسٹ کو دیکھ کرشیئرب ھی کریں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین میں سوشل میڈیا کے استعمال بارے آگاہی دینے کی بھی ضرورت ہے اور یہ ذمہ داری سب سے پہلے حکومت ادا کرے، پھرمختلف این جی اوز اور اہل دانش اپنی اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کریں تاکہ قوم کو درست سمت کی طرف لے جایا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *