کیسا ہونا چاہیے 2020، ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گز شتہ کئی عشروں سے پوری دنیا میں نئے سال کے جشن نے با قا عدہ تہوار کی شکل اختیار کر لی ہے۔ پوری دنیا میں اب اس تہوارکو بڑی دھوم دھام سے منا یا جا تا ہے۔ ریاستیں، حکومتیں، ادارے اور افراد اپنی تر جیحات کا تعین کر تی ہیں اور پھر سال بھر اس کو شش میں ہو تی ہیں کہ ان اہداف کو حا صل کر ے جن کا تعین وہ سال کے آغاز پر کر چکے ہیں۔ پوری دنیا کی طر ح پا کستان میں بھی نئے سال کو بڑے اہتمام کے ساتھ منایا جاتاہے۔ ریاست، حکومت، ادارے اور افراداپنے لئے تر جیحات طے کر تے ہیں۔ 2020 ء میں ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان کی تر جیحات کیا ہو نی چا ہئے۔ ایک مختصر سا خاکہ پیش کر نے کی کوشش کر تا ہو ں اس امید کے ساتھ کہ ہم نے اپنے حصے کا دیا روشن کر نا ہے۔

سیاسی استحکام :پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت سیاسی استحکام کی ہے۔ جب تک ملک میں سیاسی استحکام قائم نہیں ہوتا اس وقت تک ریاست کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ ملک میں سیاسی استحکام کی اولین ذمہ داری حکومت کی ہے، ان کا فرض بنتا ہے کہ سیاسی استحکام کے لئے پارلیمان میں مو جود تمام پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ بہترین روابطہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔ جو سیاسی جماعتیں ملک کی حقیقت ہے لیکن اس وقت پارلیمان میں ان کی نمائندگی نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے ساتھ بھی ملک میں سیاسی استحکام برقرار رکھنے کے لئے رابطے بر قرار رکھیں۔

پورے ملک میں سیاسی استحکام قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی سربراہوں کے ساتھ حزب اختلاف کے سربراہ کی کی سربراہی میں سال میں ایک مرتبہ ضرور ملاقات کرلیا کریں تا کہ قومی مسائل کی نشاندہی ہو اور اس کوختم کرنے کے لئے متفقہ طورپر کوششوں کا عزم بھی۔ اسی طرح چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کو بھی چاہیے کہ صوبائی مسائل کے حل اور صوبے میں سیاسی استحکام کے لئے صوبائی اسمبلیوں میں مو جود پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ حزب اختلاف کی سربراہ کی قیادت میں ملاقاتیں کیا کریں۔

حزب اختلاف سے دوستانہ تعلقات استوار کرنا:پارلیمان میں حکومت اور حزب اختلاف گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہے۔ جب تک حکومت حزب اختلاف کے ساتھ دوستانہ تعلقات نہیں رکھے گی، ان کو اہم قومی معاملات پر پارلیمان میں اتفاق رائے پیدا کرنے اور قانون سازی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مو جودہ صورت حال میں اس کی ضرورت زیادہ ہے اس لئے کہ حکومت نے کئی اہم معاملات پر قانون سازی کرنی ہے اور کئی اہم مسائل پر اتفاق رائے بھی پیدا کرنے ہیں۔

جب تک حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم نہ ہو تو حکومت اہم معاملات پر اکیلے کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ موجودہ حکومت کو اس پالیسی کو ترک کرنا ہو گا کہ ”ہم حزب اختلاف سے مشاورت نہیں کریں گے“۔ اگر وہ اس پالیسی کو ترک نہیں کرتے تو پھر پارلیمان کا چلنا مشکل ہوگا اس لئے کہ حکومت کی طرح حزب اختلاف بھی پارلیمان ہی کا حصہ ہوتا ہے۔

وفاقی وزراء کو اپنی وزارتوں اور کارکردگی تک محدود کرنا:اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہر وزیر اپنے محکمے سے بے خبر ہیں، لیکن جہاں پر حزب اختلاف یا کسی اور مخالف پر تنقید کرنا ہو تو پھر سب ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاملے پر ریلوے کے وزیر کو بولنے کی ضرورت نہیں، اس لئے کہ اس پر رائے دینے کے لئے وفاقی وزیر خارجہ مو جود ہے۔ اسی طرح آرمی چیف کی تو سیع کے معاملے پر کسی اور کو رائے دینے اور حزب اختلاف کو دھمکیاں دینے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے وفاقی وزیر قانون اور دیگر متعلقہ محکمے موجود ہیں۔

بھارت سے اگر جارحیت کا خطر ہ تو جواب کے لئے وزیر دفاع اور دیگر متعلقہ محکمے موجود ہیں لہذا ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان وفاقی وزراء کو پابند کریں کہ وہ اپنے محکموں پر توجہ دیں۔ دوسرے وزارتوں کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ اگر پھر بھی کچھ کہنا ہو تو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا کریں۔

پارلیمان اور قائمہ کمیٹیوں کو فعال کرنا: پارلیمانی نظام حکومت میں مجلس شوریٰ (قومی اسمبلی اور سینٹ) بنیادی اکائی ہے۔ تمام قومی معاملات دونوں ایوانوں میں زیر بحث آتے ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف دونوں مختلف قومی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ پھر اس پر اتفاق رائے سے قانون سازی کی جاتی ہے اگر کوئی معاملہ بہت ہی زیادہ اہمیت کا ہو تو اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جاتا ہے تا کہ اس پر مزید بحث ہو اور وہ اس اہم معاملے پر تجاویز مرتب کرکے پارلیمان کے سامنے پیش کریں۔

مو جودہ حکومت نے جب سے اقتدار سنبھا لا ہے پارلیمان اور قائمہ کمیٹیوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاری ہے جو ان کا آئینی حق ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ پارلیمان کے اجلاسوں میں خود بھی شریک ہوں جس کا اظہار انھوں نے خود بھی کیاتھا اور وفاقی وزراء کو بھی پابند کریں کہ وہ نہ صرف پارلیمان کے اجلاس میں باقاعدگی سے شرکت کیا کریں بلکہ سوالوں کے جوابات دینے کے لئے مکمل تیاری بھی کیا کریں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ تمام حکومتی ارکان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے ایوان میں شور شرابا کریں جس پر حزب اختلاف احتجاجا ایوان سے واک آوٹ کریں اور سپیکر کو کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس ملتوی کرنا پڑے۔

یہی صورت حال قائمہ کمیٹیوں کی بھی ہے۔ ماضی میں حزب اختلاف پارلیمان کی کارروائی نہ چلنے کی کوشش کیا کرتے تھے لیکن موجودہ دور میں حکومتی ارکان کی کوشش ہو تی ہے کہ ایوان کی کارروائی کو کسی نہ کسی طرح سے ملتوی کیاجائے۔ ماضی میں حزب اختلاف کے ارکان قائمہ کمیٹیوں میں شرکت سے گریز کرتے تاکہ حکومت کو قانون سازی میں مشکل ہو لیکن موجودہ حکومت میں یہی کام حکومتی ارکان سرانجام دے رہے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ سال 2020 ء کو پارلیمان اور قائمہ کمیٹیوں کی فعالیت کا سال قرار دیا جائے۔ پارلیمان اور قائمہ کمیٹیوں کی غیر فعالیت کا سب سے زیادہ نقصان حکومت کو ہی ہو رہا ہے اس لئے کہ اہم قومی معاملات پر قانونی سازی نہ ہونے کی وجہ سے آرڈیننس جاری کرنے پڑرہے ہیں۔ جاری

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *