کنول پاؤں کا مضروب حسن اور پورے پاؤں پر کھڑی عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“اماں! کنول کسے کہتے ہیں “

ریڈیو کے مختلف چینیلز ڈھونڈتے ڈھونڈتے یک لخت کسی بھولے بسرے اردو گیت کے مانوس لفظ فضا میں بکھر گئے جو ہماری بیٹی کے لئے قطعاً اجنبی تھے اور وہ بے اختیار بول اٹھی تھی۔

” اف یہ انگریزی دان بچے” ہم زیر لب بڑبڑائے،

” کنول ایک پھول ہے جسے تم لوٹس کے نام سے جانتی ہو گی”

کنول یا لوٹس کا ذکر ہمیں اوائل عمری کا ایک دن یاد دلا گیا جب ہم نے پرل ایس بک کا ناول  “ The Good Earth”پڑھ کے لوٹس کا اردو نام جاننا چاہا تھا۔ وقت کے پہیے کی الٹی گردش میں آج ہم کنول کو لوٹس میں بدل رہے تھے۔

ایشیا کے قدیم باشندوں سے لے کر آج تک کے معاشرے کے لئے کنول اجنبی نہیں۔ کنول کا پھول جوہڑ میں کھلنے کے محاورے سے لے کر آنکھ کنول اوربہت سی تشبہیں اردو ادب میں بہت عام ہیں۔ کنول کا پھول حسن اور پاکیزگی کی علامت تو ہے ہی لیکن تاریخ میں ظلم و بربریت کی کچھ داستانیں بھی اس سے جڑی ہیں۔

ان داستانوں سے آگہی ہمیں پہلی دفعہ پرل بک کی پلیٹزر ایوارڈ یافتہ اس کتاب سے ہی ہوئی اور ہمارے پاؤں میں ان تمام عورتوں کا درد اتر آیا جو اس ظلم کا شکار ہوئی تھیں۔ ہمیں آج بھی اپنی نوعمری کی وہ کیفیت یاد ہے جب ہم نےانتہائی دکھ میں مبتلا ہو کے پنجوں کے بل چلنے کی کوشش کی تھی اور لڑکھڑا کے گر پڑے تھے۔

عورت کے پاؤں میں کشش پا کے عاشق ہونے والوں کی تو آج بھی کمی نہیں لیکن اسے کنول روپ میں ڈھالنے کا تصور صدیوں قبل کے قدیم چین نےاختیار کیا۔ عورت کے جسم کو اپنی ملکیت سمجھ کے اپنی مرضی سے تراش خراش کرنے والے تصور کاروں کے بنیادی خیال کی زمین وہی تھی، کیسے اس ملکیت سے زیادہ سے زیادہ حظ اٹھایا جائے؟

چلیے چھٹی صدی عیسوی کے شہنشاہ زیاؤ بھاؤ ژان کے دربار میں چلتے ہیں جہاں محبوب ملکہ پانو کنول کے سنہری پتوں کے نقش و نگار سے سجے فرش پہ محو رقص ہے کہ شوہر کا دل لبھانا ہے۔ رقص کرتی ملکہ کے سروں پہ تھرکتے پاؤں اتنےزیب نظر ہیں کہ شہنشاہ کہہ اٹھتا ہے ” تمہارے پاؤں سے کنول پھوٹ رہےہیں ” اور شاید یہیں سے سنہری کنول یا کنول پاؤں کی اصطلاح کا آغاز ہوا۔

وقت آگے بڑھا۔ گیارہویں صدی میں شہنشاہ لی یو نے مقدس کنول کا چھ فٹ اونچا ہیرے موتی سے مزین مجسمہ بنوایا اور اپنی محبوبہ سے فرمائش کی کہ وہ اپنےپاؤں پہ سلک کی پٹی لپیٹ کے پنجوں کے بل اس مجسمے پہ رقص کرے۔ جکڑے ہوئے قدموں کے ساتھ اعضا کی یہ شاعری اس قدر دل کش تھی کہ مرد کی آنکھمیں عورت کی خوبصورتی کا پیمانہ پنجوں کی مانند چھوٹے پاؤں قرار پائے۔ شروع میں امراء کے طبقے نے اپنی چاہت کو زبان دی اور رفتہ رفتہ پورے معاشرے میں یہ بدصورت خواہش پھیل گئی۔

پھر آغاز ہوتا ہے اس ظالم رسم کا جو نو صدیوں تک چینی معاشرے میں رائج رہی اور عورت کو اپنی مرضی کا حسن و دلکشی دینے کے لئے بچپن سے معذور کر دیا گیا۔

ہر چھوٹی بچی جونہی چار پانچ سال کی عمر پار کرتی، اس کے پاؤں پر یہ عمل شروع کیا جاتا کہ اسی عمر کے پاؤں کا حجم معاشرے کے ناخداؤں کو مطلوب تھا۔ پہلے پاؤں کو جڑی بوٹیوں اور جانوروں کے خون سے بنے محلول میں ڈبو دیاجاتا، پاؤں پہ لپیٹنے کے لئے دس فٹ لمبی پٹی کو بھی بھی اسی محلول میں بھگویا جاتا۔

جب پاؤں نرم ہو جاتے تو پاؤں کا سائز کم رکھنے کے لئے انگلیوں کو پوری قوت سے موڑ کے تلوے کے ساتھ لگایا جاتا۔ انگلیاں ٹوٹ کے تلوے میں پیوست ہو جاتیں۔ پھر پاؤں کو ٹانگ کے ساتھ سیدھا بنانے کے لئے تلوے کا خم توڑا جاتا۔ اس ٹوٹے پھوٹے پاؤں پہ پٹی لپیٹی جاتی اور اوپر سے تنگ جوتا پہنا دیا جاتا جو لوہے یا لکڑی کا بنا ہوتا۔ اس پٹی کو روزانہ چیک کیا جاتا کہ ڈھیلی پڑنے کی صورت میں پاؤں مطلوبہ شکل اختیار نہ کر پاتا۔ جب کبھی پٹی تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی، پاؤں کو پھر محلول میں ڈبویا جاتا اور پھر نم پاؤں پہ ضربیں لگائی جاتیں کہ جوڑوں کی ہڈیاں ٹوٹ کے نئی شکل اختیار کرسکیں۔ بندھے اور مضروب پاؤں میں اکثر انفیکشن ہو جاتی اور انگلیاں مردہ ہوکے جھڑنے لگتیں۔ جھڑتی ہوئی انگلیاں ایک خوش آئند بات ہوتی کہ پاؤں سےایک فالتو بوجھ اتر جاتا لیکن گینگرین ہونے سے دس فیصد لڑکیاں جان کی بازی ہار جاتیں۔

یہ عمل کئی برس جاری رہتا۔ شباب کی عمر کو پہنچنے والی لڑکی کے پاؤں کی ہڈی اگر سخت ہو جاتی، مزید ضربیں لگا کے اسے پھر توڑا جاتا تاکہ پاؤں کا سائز تین یا چار انچ سے بڑھنے نہ پائے۔

کنول پاؤں رکھنے والی لڑکیوں کی چال عام لوگوں سے مختلف ہوتی۔ ٹوٹے ہوئے پاؤں وزن سہارنے میں ناکام رہتے سو لڑکی چھوٹے چھوٹے قدم آہستہ آہستہ اٹھاتے ہوئے ڈگمگاتی اور اس چال کو جنسی کشش کی علامت سمجھ کےکنول چال پکارا جاتا۔

شادی کے لئے موزوں ترین امیدوار کا تعین کنول چال اور کنول پاؤں کے حجم سے کیا جاتا۔ تین انچ کے پاؤں رکھنے والی کو سنہری کنول سمجھا جاتا اور چاہنےوالوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی۔ دوسرے نمبر پہ چار انچ پاؤں والی ٹھہرتی اور اسے چاندی کنول کا نام دیا جاتا اور پانچ انچ پاؤں والی سب سے کمتر جان کے فولادی کنول کہلائی جاتی۔

کسی بھی مرد کے لئے سنہری کنول سے شادی اس کے اعلی معاشرتی مقام کی ضامن ہوتی۔ لڑکیوں کے والدین کے سر پہ بھی یہ سہرا سجتا کہ انہوں نے ایک جیتی جاگتی انسان کے پاؤں کئی برسوں کی محنت کے بعد کنول بنا دیے ہیں۔ اس سارے عمل میں لڑکی کی جسمانی اور ذہنی اذیت ایک مرد کی جنسی خواہش کے پیچھے چھپ جاتی۔

بالآخر بیسوی صدی کے سورج نے ان اندھی روایات کو بدلنے کی خواہش کا آغاز دیکھا۔ نسائی برابری کی سوچ رکھنے والی خواتین نے اس تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کی ممبر خواتین نے اپنی بیٹیوں کو اس رواج سے مبرا قرار دیا اور اپنے بیٹوں پہ کنول پاؤں رکھنے والی لڑکیوں سے شادی پہ پابندی لگائی۔

قلم کار دانشوروں نے اس کے خلاف لکھ کے لوگوں میں شعور پیدا کیا۔ عورت کو اپنی تسکین کے لئے زندگی بھر کی معذوری دینے کے ظالمانہ عمل کو چیلنج کیا گیا۔ محنت رنگ لائی اور نو سو سال سے رائج ایک بربریت بھرا عمل بیسویں صدی کے وسط میں اپنے اختتام کو پہنچا۔

عورت کنول پاؤں کی بدصورتی سے تو آزاد ہوئی لیکن اسے ارزاں جنس سمجھ کے اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے والوں کی نہ کل کمی تھی نہ آج ہے۔ عورت کا جسم مضروب کل بھی ہوتا تھا اور آج بھی بند دروازوں کے پیچھے گھٹی ہوئی چیخیں، سسکیاں، کراہیں سنائی دیتی تھیں۔ عورت کو وفا شعاری، پاکیزگی، اعلی کردار کے بھجن سنا کے کل بھی دیوار میں چنا جاتا تھا، آج بھی مذہب، اقدار، اخلاق اور روایت کی بیڑی پہنا کے ملکیت کے خانے میں بند کر دیا جاتا ہے۔

کبھی احساس کا جگنو چمکے تو سوچیے گا، کیا کبھی کوئی مرد ان اذیتوں کوجھیل سکتا ہے؟ کیا کبھی ان حکایات کو پڑھ کے آپ کو اپنے مرد ہونے سے نفرت محسوس ہوئی؟ کیا آپ اپنے جیسوں کے مکروہ افعال و افکار پہ شرمندگی محسوس کرتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *