سال 2019 ڈائری


سال 2019 کی ابتداء شہر اقتدار میں ہوئی چونکہ جامعہ میں امتحانات جاری و ساری تھے، 7 جنوری 2019 کو امتحانات سے نا صرف چھٹکارا پایا اسی کے ساتھ ہی ڈگری کے پہلے سیمسٹر کو خیرباد کہہ کر گھر کی طرف لوٹ پڑا۔

نواز علی جلبانی جوکہ میرے یونیورسٹی میں سینئر اور ایک اچھے دوست ہیں انہوں نے کچھ عرصہ قبل اپنے کزن ڈاکٹر مشتاق جلبانی کے ساتھ مل کر ایک تنظیم لسبیلہ لٹریری سوسائٹی کے نام سے بنائی تھی جس کا نواز جلبانی نے مجھے تعارف کروایا اور اس تنظیم میں ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت بھی دی، ہمارے درمیان یہ پہلے سے ہی تہہ پاگیا تھا کہ اس سیمسٹر کی جیسے ہی چھٹیاں ملیں گی ہم کچھ روز گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ گزار کر لسبیلہ لٹریری سوسائٹی کے مقاصد پر کام کریں گے۔

کچھ ایام آرام کے بعد ہم نے لسبیلہ لٹریری سوسائٹی کے ساتھ مل کر لسبیلہ میں کریئر کاونسلینگ کے حوالے سے سیشنز کے انعقاد کا سلسلہ جاری کیا۔ جس میں مختلف اسکولز و کالجز بشمول گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول حب، بوائز ہائی اسکول گڈانی، ٹی سی ایف ہائی اسکول گڈانی، بوائر ماڈل ہائی اسکول اوتھل اور لوامز انٹر کالج اوتھل شامل تھے۔ جس میں ہم نے سینکڑوں طلباء و طالبات کو نا صرف مختلف ڈیپارٹمنٹس کے متعلق آگاہ کیا بلکہ پاکستان بالخصوص اسلام آباد و پنجاب میں بلوچستان کے طلباء و طالبات کے لئے اسکالرشپس کے متعلق بھی معلومات فراہم کی۔ اسی طرح اپنے ایک ماہ کی چھٹی سرزمین لسبیلہ کو دے کر دوبارہ یونیورسٹی کا 15 فروری کو رخ کیا۔

جامعہ میں دوسرے سیمسٹر کی ابتداء کا بڑے زور و شور سے آغاز تھا، ہم نے بھی کلاسز لینے کے ساتھ اسلام آباد میں مختلف سماجی تنظیمات کے ساتھ رضاکارانہ خدمات کو دوبارہ جاری رکھا اور اسی طرح پازیٹو پاکستان کی جانب سے 31 مارچ 2019 میں منعقدہ 18 ویں ینگ لیڈرز کانفرنس میں بطور ایمبیسیڈر شرکت کی۔

دوسرے سیمسٹر کے اختتام کے بعد عیدالفطر کی چند چھٹیاں گزارتے ہی 15 جون کو لسبیلہ لٹریری سوسائٹی کی جانب سے ضلع بھر کے طلباء و طالبات کے لئے کریئر کاونسلینگ کے حوالے سے نواز علی جلبانی و ایل ایل ایس کی ٹیم کے ساتھ ایک اعلی سطحی پروگرام کا انعقاد گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول حب میں کیا جس میں ضلع بھر سے آئے ہوئے طلباء و طالبات کو ان کی تعلیمی منزل سے آگاہ کیا اور اسی پروگرام کے فورا بعد ہی اپنے علاقے کے قریب واقع دودا گوٹھ میں ایک سیشن کی صدارت اور طلباء سے مخاطب ہونے کا موقع ملا جس میں تعلیمی سفر کو آگے بڑھانے کے حوالے سے گفتگو کی۔

2019 میں سماجی سفر کو کافی نئی منزلیں ملی جس میں حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان، اسکول آف لیڈرشپ و دیگر این جی اوز کے اشتراک سے کوئٹہ کلب میں منعقدہ دو روزہ یوتھ لیڈ پالیسی فارم میں نا صرف شرکت بلکہ لسبیلہ کے نوجوانوں کی نمائندگی کا موقع ملا، پاکستان ریڈ کریسنٹ ضلع راولپنڈی کی جانب سے منعقدہ 2 روزہ فرسٹ ایڈ ٹریننگ حاصل کرنے کے موقع کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مشہور بلوچی چینل وش نیوز کے ایک پروگرام وش صوب میں بطور مہمان نا صرف شرکت کی بلکہ بلوچستان بلخصوص لسبیلہ کے تعلیمی مسائل پر گفتگو کی۔ اسی سال ہی پاکستان ڈبیٹنگ سوسائٹی لسبیلہ کے دوستوں کی جانب سے منعقدہ آل لسبیلہ تقریری مقابلے میں بطور اسٹیج سیکریٹری بھی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔

2019 جہاں سماجی حوالے سے میرے لئے اہمیت کا حامل رہا اسی طرح یہ سال سیاسی شعور کے حوالے سے بھی میرے لئے انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے، جس کے بعد میں نے علاقائی مسائل کے حوالے سے مہم چلانے کے عزم کے ساتھ ساتھ اپنے قلمی جنگ کا ناصرف آغاز کیا بلکہ ہر فورم پر علاقائی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی مختلف تحاریر و اخباری بیان کے ذریعے خواب غفلت میں سوئے ہوئے حکمرانوں کو جگانے کی کوشش کی، بلوچستان میں ڈبل روڈ، میڈیکل طلباء پر زیادتی و یونیورسٹی آف بلوچستان میں ہراسمنٹ جیسے مسائل سمیت لسبیلہ کے چیدہ چیدہ مسائل جن میں حب لائبریری کی فعالیت، حب میں طلباء کے لئے ہائی اسکول کی کمی و حب میں بڑھتی ہوئی ٹریفک سے پیش آنے والے مسائل پر تحاریریں لکھ کر حکمران طبقہ کو متوجہ کرنے کی کوششیں کی۔

سماجی پروگرامات کے ساتھ ساتھ سیر و تفریح بھی اس سال کا حصہ رہی اسی طرح اسلام آباد کی ایک سماجی تنظیم بی دی چینج کے ساتھ 2 پکنکوں کا موقع ملا جس میں پنج پیر اور خان پور ڈیم کا دورہ کیا اور یوتھ ایمپیکٹ کی جانب سے منعقدہ عالمی ماؤنٹین ڈے کے حوالے سے مرگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں پر ہائیکنگ کا بھی لطف لیا۔ اس طرح تقریر و تحریر کے ساتھ ساتھ کیمرہ کے سفر کا بھی رخ کیا اور اپنا پہلا ویڈیو ولاگ بھی ریکارڈ کیا۔ اسی سال کے آخر میں اسلام آباد میں زیر تعلیم بلوچ دوستوں کے ساتھ برفباری کا مزہ لینے مری و ایوبیہ کی سرسبز و برف سے ڈھکی وادیوں کی بھی سیاحت کی۔

پورے سال کی سرگرمیوں کو ایک چھوٹی سی تحریر میں یقیناً قلم بند کرنا ایک مشکل نہیں بلکہ ناممکن امر ہے۔ لہذا گزشتہ سال کے چند ایک واقعات آپ احباب کے زیر نظر رکھے ہیں۔ دعاگوں ہوں کہ اس نئے عیسوی سال میں بھی سماجی خدمات اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق نصیب ہو اور اللہ پاک اس نئے سال کو امت مسلمہ کے لئے خیر و بھلائی والا فرمائیں آمین۔

Facebook Comments HS