10 روپے کی موت پر10 پیسے کی کہانی


\"raziخبر یہ آئی ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان 24اکتوبرکو 10 روپے کا سکہ جاری کررہاہے۔ ابھی یہ تو نہیں بتایا گیا کہ اس سکے کے اجرا کے بعد 10 روپے کا نوٹ کب تک کارآمد رہے گا لیکن ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ جب بھی کسی کرنسی نوٹ کو سکے میں تبدیل کیا گیا تو اس کے نتیجے میں اس نوٹ کی موت ضرور واقع ہوئی۔ اورنوٹ کی موت واقع ہونے کے بعد دراصل کرنسی کی اس مالیت کی موت بھی ساتھ ہی واقع ہوجاتی ہے۔ اس حوالے سے ایک روپے، دوروپے اور پانچ روپے کے نوٹوں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ جب تک یہ کرنسی نوٹ موجود تھے اس مالیت کی اشیاء بھی بازار میں دستیاب تھیں۔ جونہی یہ نوٹ سکوں میں تبدیل ہوئے اس مالیت کی اشیا بھی غائب ہو گئیں۔ کچھ عرصہ تک تو بازار میں ایک، دو یا پانچ روپے کے بقایا میں گاہکوں کو ٹافیاں اور بسکٹ دیئے جاتے رہے لیکن اس کے بعد یہ تردد بھی ختم ہوگیا۔ اب 10 روپے ختم ہوئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مالیت کی اشیا بھی رفتہ رفتہ ہمیں دیکھنے کو نہیں ملیں گی۔ ماہرین معیشت تو اسے کرنسی کی قدر میں کمی قراردیں گے ۔ اقتصادی صورت حال پر نظررکھنے والے افراط زر کی بات کریں گے۔ کساد بازاری کا ذکر کیا جائے گا لیکن یہ سب لفظ ہمارے لیے بے معنی ہیں۔ دس روپے کی موت پر ہمیں دس پیسے کا وہ سکہ یاد آ گیا جس کی موت تو کئی سال پہلے واقع ہوگئی تھی لیکن یہ سکہ مرنے کے بعد بھی ہماری یادوں میں زندہ ہے۔

آج کی نسل کے لیے، آج کے بچوں کے لیے اس سکے کا تذکرہ حیرت کی بات ہوگی۔ انہیں یہ تذکرہ اسی طرح کے قصے کہانیوں جیسا دکھائی \"pakistan-10-paisa-1964\"دے گا جو ہم اپنے بزرگوں سے سنتے تھے اور حبیب جالب کی نظم میں 20روپے من آٹے کا حوالہ دیکھ کر حیران ہوتے تھے۔ لیکن آج کے بچوں کو نہیں معلوم کہ ہمارے زمانے میں 10 پیسے خطیررقم شمارہوتے تھے۔ اور جسے جیب خرچ میں چونی یا اٹھنی ملتی تھی اسے تو مالدارسمجھا جاتا تھا۔ 10 پیسے 70ء کے عشرے میں طالب علموں کے لیے بس کا رعایتی کرایہ تھا۔ اور ہم 10 پیسے کا ٹکٹ لے کر سکول جاتے تھے۔ یوں آنے جانے کے لیے ہمیں ایک دن میں 20 پیسے ملتے تھے۔ 10 پیسے صرف بس کا کرایہ ہی نہیں تھا ۔ 10 پیسے میں اور بھی بہت کچھ آتا تھا۔ لچھے والا 10 پیسے میں ہمیں بہت سے لچھے تھما دیتا تھا۔ اور گَٹے والا 10 پیسے میں ہمیں ایک تنکے پر (جسے ہم عرف عام میں کانا کہتے تھے) چڑیا یا مور بنا کر دیتا تھا جو ہم مزے سے کھاتے تھے اورجب ہمیں بہت عیاشی کرنا ہوتی تو ہم گَٹے والے کو چونی تھما دیتے اور وہ بہت خوبصورت سا حقہ جس پر ایک چلم بھی ہوتی تھی، ہمیں یوں پیش کرتا جیسے اس میں تمباکو بھی موجود ہو۔ 10 پیسے میں بہت سی برف بھی آجاتی تھی۔ ہمارے محلے میں گھر سے کچھ ہی فاصلے پر نسیم شاہد کے بڑے بھائی برف فروخت کرتے تھے۔ اور جب وہ موجود نہیں ہوتے تھے تو ہم اسی پھٹے پر نسیم شاہد سے برف لینے جاتے تھے لیکن ہماری کوشش یہ ہوتی تھی کہ ہم بھائی صاحب کی موجودگی میں ہی برف خریدنے جائیں کیونکہ وہ کھلے ہاتھ سے ہرخریدارکوبہت سی برف دیتے تھے۔ نسیم شاہد کے ساتھ ہمارا اس زمانے میں کوئی تعارف نہیں تھا ۔ ہم توصرف یہ جانتے تھے کہ اگر اس نوجوان سے برف لی تو گھر پہنچنے تک پگھل کر ختم ہوجائے گی۔ یہ توبرسبیل تذکرہ ایک حوالہ آ گیا لیکن اس میں بتانے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ نسیم شاہد جیسے سیلف میڈ لوگ اس \"10-paise-back\"معاشرے کا حسن ہیں کہ جنہوں نے جدوجہد کے ذریعے اپنا مقام بنایا اورآج وہ ایک ادیب، شاعر اورماہرتعلیم کے طورپر پہچانے جاتے ہیں۔ واپس 10 پیسے کی جانب آتے ہیں اورآپ کو یہ بتاتے ہیں کہ اکثر اوقات ہم یہی 10 پیسے ہاتھ میں تھامے برف خانے تک چلے جاتے تھے جوکینٹ میں بجلی گھر کے قریب اب بھی واقع ہے اورہمیں وہاں سے 10 پیسے میں پانچ کلو برف مل جاتی تھی۔ ریوڑی ، تل شکری، گچک، مرنڈا، چورن، املی، میٹھی اور نمکین پھُلیاں یہ سب کچھ 10 پیسے میں وافر مقدارمیں دستیاب ہوتا تھا۔ سکول کی کینٹین سے 10 پیسے میں 10 ٹافیاں ملتی تھیں ۔ پانچ یا دس بسکٹوں والا پیکٹ بھی مل جاتا تھا جواگرچہ اتنا لذیذ نہیں ہوتا تھا لیکن ہمیں بہت خوش ذائقہ محسوس ہوتا تھا۔ ریلوے کا پلیٹ فارم ٹکٹ بھی شاید 10 پیسے کا ہی تھا لیکن ریلوے اسٹیشن پر وزن کرنے والی ایک مشین رکھی ہوتی تھی ہم جب بھی ریلوے اسٹیشن جاتے تو اس مشین میں 10 پیسے کا سکہ ڈال کر اپنا وزن معلوم کرنا ہمارا مشغلہ ہوتا تھا لیکن اپنے وزن کی تو ہمیں اس زمانے میں پرواہ بھی نہیں تھی۔ اس مشین سے جوگلابی رنگ کا ٹکٹ نکلتا تھا اس کے ایک جانب وزن اور دوسری جانب قسمت کا حال درج ہوتا تھا۔ سو ہم وزن سے زیادہ قسمت کا حال معلوم کرتے تھے اور کئی روز تک خوش رہتے تھے کہ مسافروں کی آسودگی کے لیے اس ٹکٹ پر قسمت کے حال میں کبھی بھی کوئی منفی جملہ برآمد نہیں ہوتا تھا۔ ہرمرتبہ اس ٹکٹ پر ہمیں کوئی اچھی خبر پڑھنے کو ملتی تھی۔ ”گھر میں مہمان آئیں گے، اگلے ماہ خوشی ملے گی، آمدن میں اضافہ ہوگا، بیماریوں سے بچنے کے لیے صدقہ دیں، مشکل کے دن کم ہی رہ گئے ہیں“ وغیرہ وغیرہ۔ اوراس زمانے کے 10 پیسوں کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ وہ کسی فقیر کو دیئے جاتے تو وہ ہمیں ڈھیر ساری دعائیں دیتا تھاکہ اس زمانے کے فقیر صرف دعائیں ہی دیتے تھے کبھی کسی پر طنز نہیں کرتے تھے۔\"50-paise\"

ان سکوں کے اور بھی بہت سے کمالات تھے۔ بہت سے کھیل تھے جن میں ہم ان سکوں کو استعمال کرتے تھے۔ کرکٹ اور ہاکی وغیرہ میں ٹاس کے لیے تو یہ سکے استعمال ہوتے ہی تھے لیکن فراغت کے لمحات میں کاغذ کے نیچے سکہ رکھ کر جب ہم اس کے اوپر پنسل پھیرتے تھے تو پورا سکہ اپنے خوبصورت کٹاﺅ کے ساتھ کاغذ پر ابھرآتاتھا۔ سو کاغذ پر مختلف سکے ٹریس کرہم ان کی ایک الگ کرنسی بناتے تھے۔ اور کھیل کے دوران کاغذ کے کٹے ہوئے یہ سکے خرید وفروخت میں استعمال کیے جاتے تھے۔ اورجن کے گھر ریلوے لائن کے قریب تھے وہ ٹرین کو آتا دیکھ کر یہ سکے پٹری پر رکھ دیتے تھے اور پھر جب ان کا حلیہ بگڑ جاتا تو اپنے دوستوں کو دکھاتے تھے کہ دیکھو کیا تم نے ایسا سکہ کبھی دیکھا ہے۔ اگرنہیں دیکھا تو 20پیسے میں مجھ سے لے لو۔ پریشانی کالمحہ وہ ہوتا تھا جب اچھلتے کوودتے بھاگتے دوڑتے 10 پیسے کا یہ سکہ ہمارے ہاتھ سے پھسل جاتا تھا۔ پھر ہم اس سکے کو ڈھونڈتے تھے۔ اور زمین پر نظریں گاڑھے دور تک جاتے تھے واپس آتے تھے اور بالاخریہ سکہ تلاش کرکے دوبارہ خوشی حاصل کرلیتے تھے۔ 10 پیسے کے اس سکے نے ہمارے بچپن کو جتنا خوبصورت بنایا وہ ہم ہی جانتے ہیں۔ ہمارے بچے شاید 10 روپے کے سکے سے وہ لطف حاصل نہ کرسکیں جو اس 10 پیسے کے سکے نے ہمیں عطا کیا۔ ہم جس طرح اپنے بچپن کی خوبصورت یادوں کو 10 پیسے کے مرے ہوئے سکے کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں ہمارے بچے اتنے خوش قسمت کہاں کہ وہ 10 روپے کے سکے کے ساتھ اتنی بہت سی خوشیاں اور خوبصورتیاں سنبھال سکیں۔ وہ تو ایسے زمانے میں پیدا ہوئے ہیں کہ جب بڑے بڑے جرنیل ، سیاستدان ، جج ، وکیل، مولوی، پروفیسر، شاعر ، کالم نگار ، صحافی اوراینکرجودیکھنے میں بہت بھاری بھرکم اور قیمتی دکھائی دیتے ہیں ان کی مالیت بھی اب صرف 10 پیسے رہ گئی ہے۔\"10rupees\"

 

Facebook Comments HS