جنرل سلیمانی کی موت:پاکستان کے لئے چیلنجز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلکی سوچ نے ہمیشہ مسلمانوں کو ان شخصیات کا احترام کرنے سے روکا جو پوری امہ کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے دشمن کے ہاتھوں شہید ہوئیں۔ جنرل قاسم سلیمانی کا مسلک اور عقائد اگر مجھ سے مختلف تھا تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ میں ان کی خدمات سے انکار کر دوں۔ مسلمان سمجھتے ہیں کہ مقدس سرزمینوں پر تمام مذاہب کا یکساں حق ہے۔ یہودی‘ عیسائی اور مسلمان ارض فلسطین کے مشترکہ وارث ہیں لیکن جب یہودی تمام فلسطین پر قابض ہو گئے اور ملکیت کا دعویٰ کر دیاتو مسلمانوں کی کمزوری جھلکنے لگی۔ وہ اتنے کمزور ہو گئے کہ ہزاروں میل دور بیٹھا طاقتور دشمن انہیں جب چاہے اور جہاں چاہے تقسیم کر دیتا ہے۔ مدت ہوئی حجاز نے کوئی رہنما پیدا نہیں کیا۔

اب تو یاد بھی نہیں کہ کب عرب قبائل نے آخری بار کوئی دانشمند اور بہادر پیدا کیا۔ شریف مکہ ہو یا شاہ سعود‘ دونوں کی اولاد کو اپنا اقتدار عزیز ہے۔ ایک کی نسل کو اردن مل گیا دوسرے کی اولادنے حجاز کو ریاست بنا لیا۔ عرب دنیا میں اگر کہیں جمہوریت ہے اور تمام عقاید کے لوگ مل جل کر ایک نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہوئے تو وہ لبنان ہے۔ یہاں کا صدر عیسائی ہوتا ہے‘ وزیر اعظم سنی العقیدہ مسلمان اور سپیکر ہمیشہ شیعہ مسلمان ہو گا۔

یہ آئین میں لکھ دیا گیا ہے اور لبنانی اس آئینی حوالے کا احترام کرتے ہیں۔ لبنان اسرائیل کا ہمسایہ ہے۔ سب سے زیادہ اسرائیل کی جھڑپیں اگر کسی ہمسایہ ریاست سے ہوتی ہیں تو وہ لبنان ہے۔ یہ وہی لبنان ہے جہاں حسن نصراللہ کی قیادت میں حزب اللہ موجود ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی پر امریکہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کی مدد کرتے تھے۔ جنرل سلیمانی اگر ایسا کرتے تھے تو کیا وہ وہی کچھ نہیں کر رہے تھے جس کی ہم سب اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرتے ہیں۔

اسلامی تحریکوں کی تاریخ کے معاملے میں میرا علم بہت محدود ہے مگر میں یہ جانتا ہوں کہ زیادہ تر تحریکیں کسی پرعزم شخصیت کا نام ہی تھیں۔ اخوان المسلمین جیسی بہت کم تحریکیں ہیں جن کی قیادت بدلنے سے تحریک کے مقاصد اور عزم میں کوئی فرق آیا ہو۔ اسامہ بن لادن کا سرمایہ اور ذاتی خلوص جب تک فراہم تھا ان کے ساتھی جہاد کو تحریک کی صورت میں پھیلانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس تحریک کے مقاصد امہ کے مجموعی مفادات سے ہم آہنگ نہیں تھے‘ اسامہ بن لادن نے فلسطین یا اسرائیل کو میدان بنانے کی بجائے افغانستان کو ٹھکانہ بنایا۔

ان کی ابتدا امریکی تعاون کے ساتھ ہوئی۔ بہرحال اسامہ بن لادن امریکی کارروائی میں مارے گئے اس لئے ان کا آخری حوالہ مزاحمت کا رہے گا اور وہ لائق احترام ہیں۔ جنرل قاسم سلیمانی نے فلسطین میں مزاحمتی‘ جہادی تحریک حماس سے مضبوط تعلقات استوار کئے۔ حماس کی فلسطینیوں کے حوالے سے حیثیت ہمیشہ شکوک سے بالا رہی ہے۔ پورے مشرق وسطیٰ میں قاسم سلیمانی نے جہاں اور جن گروہوں سے تعلق استوار کیا وہ فکری اور تنظیمی لحاظ سے مضبوط پس منظر رکھتے ہیں۔ جنرل قاسم سلیمانی کو معلوم تھا کہ افراد ہمیشہ دشمن کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں اسی لئے وہ داعش کو مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں سمجھتے تھے۔ صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کی موت کا اعلان کرتے ہوئے جب یہ دعویٰ کیا کہ ’’ایرانیوں نے کبھی جنگ جیتی نہیں اور مذاکرات میں ناکام نہیں ہوئے‘‘توشاید وہ تاریخ کو عراق ایران جنگ تک کا عمل سمجھ رہے ہیں۔

کوئی امریکہ کے اس عقل کل کو بتانے والا نہیں کہ بہت سی جیتی ہوئی جنگیں مذاکرات کی میز پر ہار دی گئیں۔ جیسے امریکہ انیس سال سے افغانستان پر فتح کا دعویٰ کرتا آ رہا ہے مگر گزشتہ برس طالبان کے ہاتھوں کئی بار رسوا ہونے کے باوجود امریکہ ان کی شرائط کے مطابق مذاکراتی عمل آگے بڑھانے پر مجبور ہوا۔ کل پاکستان کے ہمسائے افغانستان میں امریکہ آ گھسا تھا۔ آج ٹرمپ دوسرے ہمسائے ایران کے خلاف کارروائی کے لئے پاکستان کا تعاون چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے صرف اطلاع تو نہیں دی ہو گی کہ ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو مار دیا۔ پومپیو نے پاکستان سے کچھ طلب کیا ہو گا۔ عراق میں سی آئی اے کا ایک افسر جان میگوائر ہے۔ اس افسر نے کسی صحافی کو بتایا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی نے پورے مشرق وسطیٰ کا ماحول ایران کے حق میں کر دیا ہے۔ انہوں نے خطے میں مداخلت کرنے والے سینکڑوں غیر ملکی فوجیوں کے خلاف موت کا شکنجہ تیار کیا۔ جنرل سلیمانی افغان حریت پسند احمد شاہ مسعود کے ذاتی دوست تھے۔

امریکہ سمجھتا ہے کہ اس کا مفتوحہ عراق اب تک اس کے کنٹرول میں ہے۔ تیل کے ذخائر اور بعض انتظامی حوالوں سے یقینا ایسا ہی ہے مگر جنرل سلیمانی نے عراق کو بالکل وہ شکل دیدی جو طالبان نے افغانستان کو دی ہے۔ امریکی سکیورٹی اہلکار بیرکوں تک محدود ہیں۔ امریکی باشندوںکے لئے کھلے عام عراق میں پھرنا ممکن نہیں رہ گیا۔ جنرل قاسم سلیمانی ایرانی انقلاب کے پاسدار تھے ان کی کوششوں میں اسلامی انقلاب کو دوسرے ممالک تک پھیلانا شامل تھا۔ اس لئے انہوں نے بحرین اور کویت جیسی ریاستوں میں بھی اپنا نیٹ ورک قائم کیا۔

اس حکمت عملی کے کچھ مضمرات بھی ظاہر ہوئے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایرانی انقلاب کو مسلکی غلبے کی کوشش کے طور پر ابھارا۔ یوں ایک استعمار مخالف تحریک کو متنازع اور فرقہ پرست شکل دے کر مسلمانوں کی طاقت تقسیم کر دی گئی۔ ایران اور سعودیعرب دونوں نے اس تقسیم کی حساسیت کو سمجھنے کی کوشش نہ کی اور اس کا فائدہ دوسروں نے اٹھایا۔ جنرل قاسم سلیمانی یقینا شہید ہیں۔ ان کو امریکی فوج نے مارا‘ صدر ٹرمپ نے ان پر حملے کی اجازت دی۔جنرل قاسم سلیمانی کی موت سے بیلنس آف پاور کی ضرورت پھرسے آ پڑی ہے۔ اس بار پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا امتحان ہے۔ دنیا ہماری دفاعی صلاحیت کی معترف ہے۔ سفارتی سطح پر کامیابی طے کرے گی کہ خطے میں ہم ایک طاقت کے طور پر رہنا چاہتے ہیں یا پھر علاقائی طاقتوں کے آلہ کار کا طوق پہننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *