ایک خط: نادرہ مہرنواز کو مل کر ڈاکٹر فیضان علی کو ملے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نادرہ مہرنواز صاحبہ

“ہم سب ” میں آپ کی لکھی ڈاکٹر فیضان علی کی آپ بیتی ۔ “تین عورتیں، ایک مرد اور چھوٹا لڑکا” پڑھی۔

میں اسے ایک پر اثراور پردرد کہانی سمجھ کر پڑھتی رہی ۔ چونکی میں اس جگہ جہاں فیضان اپنا لکھا مضمون اپنی اردو ٹیچر کو دکھاتا ہے اور وہ اسے کہتی ہے کہ وہ یہ مضمون کسی اور کو دے دے۔ اور میرے آنسو نکل آئے۔ کیونکہ اس بچے کو یہ بات کہنے والی میں تھی۔ میرا بھی اس کہانی میں ایک چھوٹا سا منفی کردار رہا اور اس پر مجھے شدید ندامت ہے۔ میں اپنی صفائی میں یہی کہہ سکتی ہوں کہ یہ پرنسپل صاحبہ کا فیصلہ تھا۔ میں نے صرف پیغام دیا تھا۔ لیکن مجھے بحیثیت ٹیچر اس بات کا ادراک ہونا چاہیئے تھا کہ بچے حساس ہوتے ہیں ان کی بھی سیلف رسپیکٹ ہوتی ہے۔ ان کی کسی کمی کو یوں بیان کرنا ان کی شخصیت کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے۔

پرنسپل کا نام آپ نے یہاں نصرت جبین لکھا ہے تو میں بھی یہی لکھوں گی۔ انہیں امیر گھرانوں کے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا ہی تھا، کیونکہ ان بچوں کے والدین انہیں اسکول کے فنڈ کے لیئے رقم دیتے تھے۔ یہی بچے کلاسوں میں اچھے رینکز لاتے تھے، انہیں ہی تمام ایکٹیویٹیز میں شامل کیا جاتا تھا۔ بعد میں جب اسکول قومیا لیا گیا تو میڈم صاحبہ پر فنڈ کی خرد برد کا کیس بھی بناجو وہ آخری عمر تک بھگتاتی رہیں۔

نصرت جبین ایک خود پسند، اور احساس برتری کی ماری خاتون تھیں۔ میں گھریلو حالات سے مجبور ہو کر ملازمت کر رہی تھی اور انہوں نے میری اس مجبوری کا خوب فائدہ اٹھایا۔ اوور ٹائم دیئے بغیر مجھ سے کئی کئی گھنٹے اضافی کام لیا۔ اور احسان بھی جتاتی رہیں کہ مجھے کام پر رکھا ہوا ہے۔ بریک میں چائے بنانا اور کبھی کبھار قریبی دوکان سے سموسے، پکوڑے یا بسکٹ لانا بھی میری ذمہ داری میں شامل ہو گیا۔ اس کے علاوہ ان کے گھر میں کوئی دعوت ہوتی تو بھی مجھے کہا جاتا کہ آکر انتظامات دیکھ لوں اور اس کا مطلب یہی ہوتا کہ میں گھنٹوں وہاں رہ کر کھانے بناتی، میز لگاتی اور سمیٹتی۔ جب تک دعوت چلتی میں ان کے بچوں کی بے بی سٹنگ کرتی۔

انہوں نے تو میری ہمدردی میں میرے لیئے ایک رشتہ بھی بتایا۔ اپنے ڈرایئور کا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اگر اس سے شادی کرلوں تو میرے کئی معاشی مسئلے دور ہو جائیں گے۔ میں ان کے سرونٹ کوارٹر میں رہ سکوں گی۔ کرایہ بھی نہیں دینا پڑے گا۔ اسکول کی نوکری چھوڑ کر میں ان کا گھر سنبھال لوں، اسی تنخواہ پر۔

گھر سنبھالنے کا مطلب انہوں نے واضح بھی کیا کہ وہی سب کام جو گھریلو عورت کرتی ہے۔ صفائی، دھلائی، کھانا بنانا، جھاڑ پونچھ وغیرہ۔ اور شام میں ان کے بچوں کو ہوم ورک کرانا۔ وہ ایک تیر سے کئی شکار کرنا جانتی تھیں۔ فیضان کی طرح میں بھی محنت میں عار نہیں سمجھتی لیکن ان کا ڈرایئور ان پڑھ تھا۔ اور میں ڈگری یافتہ ٹیچر تھی۔ میرے والدین نے مجھے پیٹ کاٹ کر تعلیم دلائی تھی اور میں ٹیچینگ ہی کرنا چاہتی تھی۔ میرے انکار پر انہوں نے میری زندگی تلخ کر دی۔ مجھ سے وہ کام لیے جانے لگے جو میرے کرنے کے تھے ہی نہیں۔ تنخواہ دینے میں بھی ہمیشہ دیر کرتیں۔ مجھے بار بار مانگنے کی شرمندگی سے گزرنا پڑتا۔ ایک دن میں نے زچ ہو کر ملازمت چھوڑ دی۔

مجھے فیضان سے اتنا کہنا ہے کہ خدارا مجھے معاف کر دے۔ میری بات سے اس کا دل دکھا۔ اس بات کا احساس مجھے اس وقت بھی تھا اور اب تو اور بھی شدت سے ہے۔

فیضان بیٹا مجھے خوشی ہے کہ تم ایک کامیاب انسان بنے ۔ اس میں ضرور تمہاری ماں کی دعاوں کا ہاتھ ہو گا۔ تم نے ہمت نہیں ہاری ورنہ اسکول والوں نے تو تمہاری شخصیت کچلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔ مس ڈی سوزا کو میں نہیں جانتی وہ میرے آنے سے پہلے جا چکی تھیں۔ تمہاری باتوں سے لگا کہ وہ صحیح معنوں میں ایک استاد تھیں کاش وہ مل جائیں تو انہیں بتاوں کہ کہیں دور آسٹریلیا میں بیٹھا ڈاکٹر فیضان علی انہیں اب بھی یاد کرتا ہے اور موتیا کے پھولوں میں ان کا شفیق چہرا دیکھتا ہے۔

نادرہ صاحبہ ڈاکٹر فیضان کی طرح میں بھی آپ کو اجازت دیتی ہوں کہ آپ چاہیں تو میرے خط کو آپ اس کہانی کا حصہ بنا کرشائع کر سکتیں ہیں۔ اور اگر ہو سکے تو ڈاکٹر صاحب کا کونٹکٹ نمبر مجھے دے دیں۔

دعا گو اردو ٹیچر

٭٭٭    ٭٭٭

ٹیچر صاحبہ

آپ کا خط میں نے ڈاکٹر علی تک پہنچا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آپ کی مجبوری سمجھتے ہیں۔ ان کے دل میں آپ کے لیئے کوئی تلخی نہیں۔ آپ کا واٹس ایپ نمبر میں نے انہیں دے دیا ہے۔ ہاں اگر مس ڈی سوزا کا پتہ لگے تو ضرور اطلاع دیجیئے گا۔

نادرہ مہرنواز

یہ بھی پڑھیئے

تین عورتیں، ایک مرد اور چھوٹا لڑکا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *