سر سبز و شاداب، ایبٹ آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قدرت نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ بلندو بالا پہاڑ، ہر بھرے کھیت، گھنے جنگل، گہرا سمندر اور دریاؤں سمیت قدرت نے پاکستان کو ان گنت نعمتیں عطا کی ہیں۔

ایبٹ آباد اپنے پرفضا مقامات کی وجہ سے مشہور ہے۔ سر سبز مقامات سے گھرے ہونے کی وجہ سے گرمیوں میں بھی موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ مظفراباد، خنجراب، ہنزہ، گلگت، سکردو جانے کے لیے ایبٹ آباد ایک جنکشن کا کام دیتا ہے۔ اہم تفریحی مقامات میں ’ایو ہبیہ‘ رنو ”کالاباغ نتھیا گلی، کلندرآباد ا ور ایوبیہ بھی ’شامل ہے۔

یہ علاقہ 26 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور علاقے کی سیر کے لیے چیر لفٹ ہے جس سے علاقے کا نظارہ کیاجا سکتا ہے۔ ٹھنڈیانی، جس کا مطلب مقامی زبان میں سرد ہے ایک اہم تفریحی مقام ہے۔ پائن درختوں کے جھنڈ میں یہ ایک سطح مرتفع پر مشتمل پرفضا مقام ہے۔

ایبٹ آباد صوبہ خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک اہم شہر ہے۔ جو برٹش دور میں ایک چھاؤنی کی صورت میں تشکیل دیا گیا شہر ہے سطح سمندر سے اس کی بلندی 4120 فٹ ہے۔ راولپنڈی سے 101 کلومیٹر دور یہ پاکستان کا پرفضا مقام ہے۔ افراد کی مادری زبان ہندکو ہے۔

جنرل سر جیمز ایبٹ ایک برطانوی فوجی افسر تھے جو میں ہندوستان میں تعینات رہے۔ جیمز ایبٹ انگلستان میں پیدا ہوئے اور ان کے والد کا نام ہینری الیکسیس ایبٹ تھا، جو کلکتہ میں تعینات مرچنٹ نیوی کے بیڑے سے ریٹائر افسر تھے۔ جیمز ایبٹ نے بنگال آرٹلری میں سولہ سال کی عمر میں اپنی خدمات شروع کیں۔ جیمز ایبٹ ضلع ہزارہ کے پہلے ڈپٹی کمشنر بھی تعینات رہے جس کا دورانیہ 1849 ء سے 1853 ء تک ہے۔ بعد میں 1894 ء میں انھیں برطانوی حکومت میں کلیدی عہدے کے سی بی پر تعینات کر دیا گیا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد جو ضلع ایبٹ آباد کا صدر مقام ہے، کا نام بھی سر جیمز ایبٹ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ جیمز ایبٹ نے آباد کیا اور یہاں انہیں کے نام سے منسوب کیا گیا جنوری 1853 میں برطانوی راج کے دوران ضلع ہزارہ کا صدر مقام کی حیثیت سے اس شہر کو آباد کیا۔ میجر ایبٹ وہ 1849 سے اپریل 1853 تک ضلع ہزارہ کا پہلا ڈپٹی کمشنر رہا۔ میجر ایبٹ کی برطانیہ واپسی سے قبل ”ایبٹ آباد“ کے نام سے ایک نظم لکھنے کے لیے مشہور ہے، جس میں انہوں نے اس شہر سے محبت اور اس کے دکھ کی بات لکھی ہے۔ اسے چھوڑنا ہے۔ یہ چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں کے درمیان میں واقع ہے یہ پیالہ نما وادی ہے۔ میران جانی ضلع کا سب سے اونچا مقام ہے۔

نتھیاگلی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک پہاڑی قصبہ اور یہ 2501 میٹر کی بلندی پر زیریں ہمالیائی خطے میں واقع ہے، نتھیا گلی اپنے خوب صورت مناظر، ہائکنگ ٹریکس کے لیے مشہور ہے یہ پر فضا سیاحتی مقام ہے جو ضلع ایبٹ آباد میں مری کو ایبٹ آباد سے ملانے والی سڑک پر 8200 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اسلام آباد سے اس کا فاصلہ 80 کلومیٹر ہے۔ نتھیاگلی موسم سرما میں یہاں گرمیوں میں موسم نہایت خوشگوار ہوتا ہے۔ جولائی اور اگست کے مہینوں میں یہاں تقریباً روزانہ بارش ہوتی ہے۔

سردیوں میں یہاں شدید سردی اور دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں شدید برف باری ہوتی ہے۔ یہاں گورنر ہاؤس، سیاحوں کے لیے قیام گاہیں اور آرام گاہیں واقع ہیں۔ قصبہ میں کچھھ دکانیں اور تھوڑی بہت آبادی بھی ہے۔ گرمیوں میں یہاں سیاحوں کا رش ہوتا ہے اور قیام گاہوں اور آرام گاہوں کے کرائے بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ کوہ مکشپوری اور کوہ میرانجانی قریب ہی واقع ہیں۔ ڈونگا گلی یہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کی نتھیا گلی کی یونین کونسل ہے۔ گلیات کے علاقے میں ایوبیہ نیشنل پارک میں واقع ایک صحت افرا پہاڑی مقام ہے۔ اس کی بلندی 2، 500 میٹر ( 8، 200 فٹ) ہے۔

ٹھنڈیانی مطلب ’انتہائی سرد۔ ٹھنڈیانی ضلع ایبٹ آباد کے شمال میں واقع ہے۔ ایبٹ آباد شہر سے اس کا فاصلہ تقریبا 31 کلو میٹر ہے۔ اس کے مشرق میں دریائے کنہار اور کشمیر کا پیر پنجال سلسلہ کوہ واقع ہے۔ شمال اور شمال مشرق میں کوہستان اور کاغان کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ ٹھنڈیانی سطح سمندر سے 9000 فٹ ( 2750 میٹر) بلند ہے

پاکستان کی خوبصورت مساجد میں میں شمار کی جانے والی ایبٹ آباد کی تاریخی الیاسی مسجد کاریگروں کی فن تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مشرقی تہذیب و تمدن کی روشن مثال الیاسی مسجد کو 1932 میں تعمیر کیا گیا۔ اس مسجد کی مہرابوں اور دیواروں پر آیات کریمہ کو خو بصورتی سے نقش بھی کیا گیا ہے لیکن یہاں کے لذیز پکوڑے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔

شملہ پہاڑی کو سیاحتی مقامات میں ملکی سطع پر ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انگریز دور میں جب شہر کی بنیاد رکھی گئی تو پہلے ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد میجر جیمز نے اسی پہاڑی کے دامن میں اپنی رہائش اختیار کی۔ بلند و بالا دیودار اور چیڑھ کے دیوقامت درخت قدرت کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ شملہ پہاڑی کی تزئین و آرائش کے منصوبے نے ایبٹ آباد کے سیاحتی مقام کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔

ایبٹ آباد کے سیاحتی مقام کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

شملہ پہاڑی کی تزئین و آرائش

ایبٹ آبادتعلیمی اداروں کے حوالوں سے انتہائی قدیم گردانا جاتا ہے اٹھارہ سو پچپن سے یہ اسکول موجود ہے اور شہر میں کئی مشہوراسکول اور تعلیمی ادارے ہیں۔ برطانوی دور حکومت میں قائم شدہ آرمی برن ہال کالج اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول ان میں اہم تعلیمی ادارے ہیں جو فوجی اور سول تعلیم کے لیے پاکستان میں شہرت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے شہر کراچی کو جس طرح روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے اسی طرح ایبٹ آباد کو بھی اسکولوں کا شہر کہا جاتاہے۔ تعلیمی سرگرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہا۔ پاکستان کے ہر علاقے سے ہر سال سیکڑوں بچے پڑھنے آتے ہیں۔

مشہوراسکول اور تعلیمی ادارے ایوب طب کالج کامسیٹس ایبٹ آباد پبلک سکول یو ای ٹی ایبٹ آباد آرمی برن ہال کالج معہ ایبٹ آباد پاکستان فوجی اکیڈمی۔

ایوب میڈیکل کالج مکمل طور پر پاکستان میڈیکل کونسل، جنرل میڈیکل کونسل برطانیہ اور آیرلینڈ سے تصدیق شدہ ادارہ ہے۔ مزید براں یہاں فراہم کی جانے والی تدریسی سہولیات کی تصدیق اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے صحت نے بھی کی ہے۔ حکومت پاکستان کے ادارے ”کالج آف فزیشن اینڈ سرجن“ نے یہاں میڈیسن، جراحی، زچہ و بچہ کی صحت اور بیماریوں کی تشخیص کے حوالے سے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ کے نامی گرامی ادارے رائل کالج برائے صحت زچہ و بچہ نے یہاں واقع متعلقہ شعبہ کی مکمل تصدیق کر رکھی ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ کو طبی سہولیات و ٹریننگ فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے۔ اس درسگاہ سے فارغ ہونے والے طلبہ کو جامعہ خیبر برائے طب کی جانب سے طبی اسناد دی جاتی ہیں۔

پاکستانی بری فوج کے مستقبل کے افسران کا ابتدائی تربیتی ادارہ ہے، جو پاکستانی بری فوج اور پاکستانی اتحادی ممالک کی افواج کے افسر کیڈٹس کو دو سالہ تربیت فراہم کرتا ہے۔ یہ اکیڈمی ایبٹ آباد خیبر پختونخوا میں کاکول کے مقام پر واقع ہے۔ ہر سال، 34 سے زائد اتحادی ممالک کے 2000 کیڈٹس پی ایم اے میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *