بھارت کو ہمیشہ ہی خطے کا چوہدری بننے کا گھمنڈ رہا ہے، اس گھمنڈ کے تحت ہی اس نے لداخ پر قبضہ جمایا، 1962 میں چین نے بھارت کو ناک رگڑنے پر مجبور کر دیا مگر بھارت اپنی پرانی عادت چور مچائے شور کے پیش نظر اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے گیا اور معاملات کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی، بعد ازاں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا قیام ہوا
دونوں ممالک کے مابین لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر اختلاف رہا ہے۔ 2017 میں بھی سکم اور لداخ کے مقام پر بھارت اور چینی جھڑپیں رہی ہیں۔ 9 مئی 2020 کو سکم میں نکولا کے مقام پر بھارتی اور چینی فوجیوں کے مابین ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ”دونوں فریقوں“ کی جانب سے ”جارحانہ رویہ“ دیکھنے کو ملا جس کے نتیجے میں فوجیوں کو معمولی چوٹیں بھی آئیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ طے شدہ پروٹوکولز کے تحت مقامی کمانڈر کی سطح کے افسران کے مابین مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں میں معاملہ رفع دفع ہوگیا، مگر ایسا نہیں ہے چین بھارت میں 20 کلومیٹر سے زیادہ تک آگے چلا گیا ہے، اور بھارت کی بہادر سینا بینرز اٹھا کر چین کی پیش قدم کو اسٹاپ اسٹاپ کا کہہ رہی ہے، 15 جون کی شب لداخ میں ہونے والی اس جھڑپ میں بھارتی کرنل سمیت 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چین کی جانب سے تاحال جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
Read more