مان لیجیے ہمارا ظرف بڑا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی معمولی بات ہو یا بہت خاص، کوئی حادثہ پیش آجائے یا سانحہ رونما ہو جائے، ہم تھوڑی دیر کے لئے اس کو لے کر بہت حساس ہوجاتے ہیں، اکٹھے ہوتے ہیں، روتے دھوتے ہیں، شور مچاتے ہیں، خوب سیاپا ڈالتے ہیں، بڑی بڑی بڑھکیں مارتے ہیں اور بھانت بھانت کی بولیاں بول کر اک نئے سانحے کو سہنے کے لئے منتشر ہوجاتے ہیں۔ ہم اس سانحے یا واقعے سے سبق نہیں سیکھتے، بلکہ کوشش اور ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں کہ اسے بھول جائیں، فراموش کردیں۔

کہ غموں اور تلخ یادوں کو سینے سے لگائے رکھنا اچھی بات نہیں۔ ہم ملکی سطح پر پیش آنے والے سانحات اورحادثات کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے ماضی سے خوش ہوتے ہیں نہ حال سے، البتہ مستقبل سے ہمیشہ پر امید رہتے ہیں، تبھی تو ہر نئے سال کی آمد پر گزرے سال کا مرثیہ پڑھ کر نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ چھوٹا سا کوئی حادثہ ہو جائے تو یہ کہہ کر تسلی دے لیتے ہیں کہ شکر ہے بڑے نقصان سے بچ گئے، اور اگر بڑا نقصان، بڑا سانحہ ہوجائے تو اس کا ملبہ دوسروں پہ ڈال دیتے ہیں، اغیار کی سازش کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

انفرادی طور پہ ہم جتنے چاہیں بغض پالیں لیکن مجموعی طور پہ ہم میں بھول جانے اور معاف کرنے کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے، کوئی بَُرا کردے تو کوشش کرتے ہیں اس کا جواب برائی سے نہ دیں۔ بچوں کی چھوٹی سی لڑائی میں پڑ کر اگر قتل جیسا بڑا جرم ہو جائے تو دیت لے کر معاف کرنا بھی ہمیں آتا ہے۔ ہم یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ ہمارا دل کشادہ ہے ظرف بڑا ہے۔ ہمارا ظرف اتنا بڑا ہے کہ ملک کو جھوٹی انا اور محض ضد کی بھینٹ چڑھا کر دو لخت کرنے والے کو الزام نہیں دیتے، نہ صرف ہندوؤں کی سازش کہہ کراُسے بری الذمہ کر دیتے ہیں۔

ہم اپنے لوگوں سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ مَٓرے ہوؤں کو بھی مرنے نہیں دیتے۔ ایک مخصوص طبقہ جو 250 ml کی پیپسی پینے پر بھی کفر کا فتوی لگاتا ہے اس معاملے میں ظرف بڑاکر لیتا ہے، دہائیوں سے مرے شخص کو زندہ کہنے پر کفر کا فتوی نہیں لگاتا۔ ہمارا ضمیر بے شک مردہ ہوجائے لیکن ہم مُردوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ وہ گھوسٹ ملازمین جو تنخواہیں تو وصول کرتے ہیں لیکن نظر نہیں آتے ممکن ہے ان سیٹوں پر یہی زندہ لوگ کام کرتے ہوں۔

ہم اتنے وسیع القلب کہ پھانسی چڑھنے والے کو تو شہید کہتے ہی ہیں، پھانسی چڑھانے والے کو بھی شہادت کے رتبے سے نیچے نہیں آنے دیتے۔ ایام جمہوریت میں جمہوریت کو مذاق بنانے والے تو ہماے محبوب ہیں ہی جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کو بھی سر پہ بٹھاتے ہیں۔ کوئی چیز چوری ہو جائے تو یہ کہہ کر مطمئن ہوجاتے ہیں جانے والی چیز تھی چلی گئی۔ چیزیں گم ہو جائیں یا انسان ہمارے محکمے ان کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ صبر کی تلقین کرتے ہیں، کہ صبر کا اجر بے شک بڑا ہے۔

دامن دل کی کشادگی کا یہ عالم کہ حکمران ملک لوٹ کر بھی کھا جائیں تو کہہ دیتے ہیں عوام کی خدمت کرتے ہیں اتنا حق تو ان کا بنتا ہے، عوام کے نام پر کی جانے والی خدمت خاندانی خدمت تک محدود ہو کر رہ جائے تو بھی برا نہیں مانتے۔ نہ صرف ملک لوٹ کر کھا جانے والوں کے لئے معافی کے عذر تلاش کرتے ہیں بلکہ کھانے پینے کے ایسے شوقین افراد پر جو ادارہ ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے ایسے خود مختار ادارے کو بھی بے اختیار کر دیتے ہیں اور ایسا چورن لاتے ہیں کہ کھایا پیا سب ہضم ہو سکے۔ جو منصب پر بیٹھ کر کام نہیں کرتے ان کے نا اہل ہونے پر واویلا کرتے ہیں کہ انھیں پھر سے کام نہ کرنے کے لئے اہل کیا جائے، کہ آخر ہم کسی کی دل آزاری نہیں کر سکتے۔

ہم اپنے دشمن کے مرنے کی دعا تو کرتے ہیں لیکن نرم دلی کا یہ عالم کہ وہ قریب المرگ ہو تو اسے مرنے بھی نہیں دیتے۔ بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی جان بچانے کی تدبیریں شروع کر دیتے ہیں، اگر ضرورت پڑے تو اس کی سلامتی کے لئے انگلستان کے سفر پر بھی روانہ کرنے میں دیری نہیں کرتے، کہ ممکن ہے تبدیلی آب و ہوا مریض کی صحت پر مثبت اثر ڈالے، جس کا مریض اور تیماردار دونوں پر خاطر خواہ اثر ہوتا ہے۔ ہم اتنے عالی ظرف ہیں کہ ہمارے ہیرے جیسے نایاب لوگ ہزاروں کے مجمع کے سامنے ماردیئے جائیں تو ہم ان پر مٹی ڈال کر صبر کر لیتے ہیں، یہ ظرف نہیں تو کیا ہے کہ سزا سے بچانے کے لئے مجرم کو تلاش ہی نہیں کرتے۔

ہمارا ظرف اتنا بڑا ہے کہ درندہ صفت لوگ بچوں سے جنسی زیادتی کر کے مار دیں تو بھی ان کو سر عام پھانسی کی سزا دے کر دوسروں کے لئے عبرت کانشان نہیں بناتے، بلکہ پھانسی کو اس قدر قبیح فعل سمجھتے ہیں کہ اگر کسی غدار کے لئے بھی پھانسی کا فیصلہ آجائے تو فیصلے کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کے ظرف کی مثال کیا ہوگی کہ آئین توڑنے والوں کو بھی معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں کہ آئین ایک کتاب ہے اور بے شک انسانی جان اس سے زیادہ قیمتی ہے۔ ہم تو اتنے عالی ظرف ہیں کہ جہاں مجرم کو سزا ملتی دیکھیں وہاں راضی نامہ ”مک مکا“ کرنے پہنچ جاتے ہیں، کئی معاملوں میں تو یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے ججز نے بھی مجرموں کو متاثرین سے جھپیاں شپیاں ڈال کر صلح کرنے کا حکم دے ڈالا، کہ صلح صفائی اچھی چیز ہے آخر لڑائی جھگڑوں میں رکھا کیا ہے

ہم اتنے سیانے، اتنے اہل نظر ہیں کہ نادیدہ قوتیں بھی نظر آجاتی ہیں لیکن ظرف اتنا بڑا ہے کہ سامنے پڑے ثبوت بھی نظر انداز کردیتے ہیں، کسی کو سزا نہیں ہونے دیتے۔ ہمیں ہماری نسلوں کو گروی رکھ کر بھاری شرائط پر قرض حاصل کر کے حکمران خود عیش کی زندگی گزار لیں تو بھی درگزر کر دیتے ہیں، تباہی کے ذمہ داروں کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھنا اور انھیں سر آنکھوں پہ بٹھانا ہمارا ہی کام ہے۔ تو مان لیجیے حضور، عالی جاہ ہم ایک عالی ظرف قوم ہیں، ہمارا ظرف بڑا ہے، کچھ بھی ہو جائے دل کشادہ رکھتے ہیں، کسی کا برا نہیں سوچتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *