غریب کی بجائے غربت ختم کی جائے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف حکومت قوم کو روزانہ خوش خبری سناتی ہے کہ معیشت مستحکم ہو گئی، 2020 ء استحکام کا سال ہوگا۔ اس استحکام کا مطلب کیا ہوتا ہے، یہ دعوے کرنے اورخوش خبریا سنانے والے ہی بہتر بتا سکتے ہیں، لیکن کچھ روز بعد ہی کوئی نہ کوئی ادارہ ساری خوش خبریوں اور سرکاری دعوؤں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارہ آدھا رہ گیا ہے، جبکہ مہنگائی 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، تاہم معیشت کسی حدتک مستحکم، لیکن پیداوری ہدف حاصل نہیں ہو سکا، برآمدات میں قابلِ ذکر نمو دیکھنے میں آرہا ہے۔

معیشت بتدریج مطابقت کی راہ پر گامزن ہے، جبکہ تعمیرات سے منسلک صنعتوں اور گاڑیوں کی صنعتوں کی نمو میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ اس صورت حال میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر عالمی، ایشیائی اور پاکستانی حصص بازار میں مندی، جبکہ عالمی سطح پر تیل مہنگا ہو گیا اور سونے کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جس سے پاکستان میں مزید مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے، اس کے بعد پہلے سے ہی مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کے لئے ضروریاتِ زندگی کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔

اس میں شک نہیں کہ ملکی معیشت کے حوالے سے سٹیٹ بینک سے زیادہ قابل اعتبارحقائق پر مبنی رپورٹ کسی اور ادارے کی ہو سکتی، جس نے معیشت کو آئی سی یوسے نکالنے کے بلند بانگ حکومتی دعوؤں کی نفی کر دی ہے جو حکومتی ماہرین معاشیات کے لئے لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ وزیراعظم، وزیر خزانہ سمیت وزیروں، مشیروں اور معاونین پر مشتمل حکومتی ٹیم معیشت کو ٹریک پر لانے کے دعوے کر رہی ہے۔ تحریک انصاف حکومت ملک میں معاشی انقلاب لانے کا نعرہ لگا کر بر سرِ اقتدار آئی تھی، لیکن معاشی انقلاب کیا آتا اب تو عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، بڑھتی مہنگائی کا عفریت ایک بدمست ہاتھی کی طرح سامنے آنے والی ہر شے کو پامال کرتا چلا جا رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے میں کمی اورملکی معیشت کا استحکام کی جانب سفر قابلِ ستائش عوامل ہیں، لیکنیہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسٹیٹ بینک کی سربراہی کون لوگ کررہے ہیں جوآئی ایم ایف کے پروگرام سے معاشی استحکام بڑھنے کی باتیں کرتے ہیں، جبکہ مہنگائی گزشتہ سات برس کی بلند ترین سطح پر ہے، پیدا وار میں کمی ہو رہی ہے، تعمیرات کی صنعت کو نقصان ہو رہا ہے اور پیٹرولیم کے شعبے میں پیدا وار کم ہو گئی ہے تو پھر اسے مستحکم معیشت کیسے کہہ سکتے ہیں۔

ہر دور اقتدار میں حکمرانوں نے عوام کو مذاق بنا رکھا ہے، وزارا ء ملکی ترقی و خوشحالی کی خوش خبریں سناتے رہتے ہیں، جبکہ ڈالر 106 روپے سے 154 روپے پر جما ہوا ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں لگا تار اضافے کے باوجود آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے نمائندے مستحکم معیشت کی نوید دیے جار ہے ہیں۔ شا ئد تمام حکومتوں کا طریقہ کار یہی ہوتا ہے کہ زبان زیادہ چلاتے ہیں اور کام کم کرتے ہیں۔ مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر ہونے کا مطلب یہی ہے کہ جن حکمرانوں کو تحریک انصاف چور لٹیرے کہتے تھے، ان کے دور میں مہنگائی کی یہ شرح نہیں تھی۔

اگر موجود دور کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو کچھ بھی بہتر نہیں ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران موازنہ کرنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں اور اب تو پوری پارلیمنٹ ہی اس صلا حیت سے عاری نظر آتی ہے۔ معیشت کے استحکام کا پیمانہ حکمرانوں اور اورعوام کا الگ ہوتا ہے۔ عام آدمی تو اپنی آمدنی اور اخراجات کے گوشواروں سے معیشت کا حساب لگاتا ہے اور یہ عام آدمی روزانہ غربت کی لکیر سے نیچے ہی گرتا جا رہا ہے۔ عوام کوغرض نہیں کہ زر مبادلہ کے ذخائر کہاں تک پہنچے اور روپے کی قدر میں کتنا استحکام آیا، وہ جب پیسے لے کر ضروریات زندگی خریدنے نکلتا ہے اور کئی چیزوں کی خرید سے دست بردار ہوتا ہے تو اسے روپے کی قدر میں کمی و استحکام کا تجربہ ہو تا ہے۔

غریب لوگ کل دو وقت دال روٹی کھا سکتے تھے، اب ایک وقت کا کھانا کھا نا مشکل ہو گیا ہے۔ گیس اوربجلی کی عدم دستیابی کے باوجودبڑھتے بلوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، حکومت ملک کی معیشت سنبھا لنے اور غریبوں کو استحکام دینے کے بجائے لنگر خانے کھولنے میں لگی ہوئی ہے، لنگر خانے کھولنا اچھی بات ہے، مگر اس وقت عوام کو ریلیف دینا سب سے زیادہ ضروری ہے، ملک میں رفاہی کام بہت سی فلاحی تنظیمیں کر رہی ہیں، حکومت کو مہنگائی کے خاتمے اور روز گار کی فر اہمی کے لیے سنجیدہ عملی اقدام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ امر واضح ہے کہ ملکی معیشت کو ٹریک پر لانے اور مہنگائی کم کرنے کے لئے باتوں، دعوؤں کی بجائے حکومت کو بہرصورت عملی اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ مہنگائی میں کمی ہو، عام آدمی کو ریلیف ملے اور لڑکھڑاتی معیشت سنبھل جائے، ورنہ ایسی صورتحال میں اپوزیشن کو تو سیاست کرنے کا موقع ملے گا۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے حالات پیدا ہی نہ ہونے دے کہ مہنگائی کے ستائے عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کو مجبور ہو جائیں۔

حکومت کو سٹیٹ بینک کی رپورٹ کو الارمنگ سمجھتے ہوئے ملکی معیشت کی بہتری اور مہنگائی میں کمی، جی ڈی پی میں اضافے کا ہدف حاصل کرنے کے لئے عملی اقدامات یقینی بنانا ہو ں گے، تاکہ عام آدمی کی زندگی آسان اور حکومتی وعدوں، دعوؤں کی تکمیل ہو سکے، اب تک تو زبانی کلامی صدقے واری جاؤں کے علاوہ کام کوئی نہیں ہورہا ہے، غربت کی بجائے غریب کوہی ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی نیک نیتی اور کاوشوں سے کسی کو انکار نہیں، لیکن اگرغریب کو مہنگائی سے ختم کرنے کی بجائے غربت کو دور کرنے کے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو حکومت کے تمام کارنامے اپنی افادیت کھودیں گے، حکومت کو وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر مہنگائی کے تدارک کے لئے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر موثر اقدامات کرنے چاہیے، احتساب اور کرپشن کے خلاف کارروائیوں کے نام پر انتقامی سیاست بہت ہو چکی، اب صرف ملکی معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، اس کے لیے وزیرا عظم کو اپنے وزرا اور کارکنوں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر سیاسی بیان بازیوں اور لڑائی جھگڑے کا ماحول پیدا کرنے کے بجائے اخلاقی اقدار اور سیاسی ذمے داری کا درس دینا چاہیے۔ اس وقت خطے کے کشیدہ حالات باہمی اتحاد و اتفاق کے متقاضی ہیں، گزشتہ پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کا قومی معاملات پر باہمی اتفاق رائے دیکھتے ہوئے عوامی معاملات پر باہمی اتحا د خارج امکان نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *