ہماری سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہوں، تو ان کے پیٹ میں عوام کے درد کا مروڑ، بہت تیزی سے اٹھتا ہے۔ اس لیے آج کل اپوزیشن کو عوام کی حالت زار بہت مخدوش نظر آنے لگی ہے اور اس مخدوش صورت احوال کے پیش نظر تحریک چلا کر حکومت گرانا ضروری ہو گیا ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے قائد، بیرون ملک بیٹھ کر قومی اداروں کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں، تو دوسری جانب پیپلز پارٹی کے اکابرین کراچی میں ریلی نکال کر سندھ کو ٹوٹنے سے بچانے کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ ملک کی سیاست میں جب ایسی سوچ کے حامل لیڈر موجود ہوں گے تو دشمن کو قطعی کسی سازش کی ضرورت نہیں، کیوں کہ ایسی قیادت کی موجودگی میں ملک ٹوٹنے سے بچا ہوا ہے تو اسے ایک معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ اپوزیشن کو عوام کے مسائل کے تدارک اور ملکی یک جہتی کی پریشانی نہیں، بلکہ خود کو بچانے اور اقتدار کے حصول کی فکر لاحق ہے۔ اس لیے حکومت گرانا متفق ایجنڈا بن گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا بجا ہے کہ تمام بے روزگار سیاستدان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ جتنا مرضی لوٹ مار کریں، ڈاکے ڈالیں، کوئی ہاتھ نہ ڈالے۔ عدالت جب فیصلہ کرتی ہے تو رونے لگتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا، جب کہ حکومت کو بلیک میل کرنے کے لئے فوج کے خلاف زبان استعمال کی جاتی ہے۔ یہ بھارتی ایجنڈا نہیں تو کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کی وجہ سے ہی پاکستانی عوام اور ملک کی سرحدیں محفوظ ہیں۔ در اصل اپوزیشن کا فوج سے اختلاف یہی ہے کہ فوج حکومت کے ساتھ کیوں کھڑی ہے۔ حالاں کہ ترجمان افواج پاکستان نے بالکل واضح کیا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، مگر اپوزیشن بیرونی ایجنڈے پر گامزن، فوج کے خلاف بیان بازی سے باز نہیں آ رہی۔
Read more