میرا مسلک پاکستان ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بڑی دلچسپ صورتحال ہے جی، جب 26 فروری 2019 کو بھارت نے جھوٹی سرجیکل اسٹرائیک کرکے ہمارے چند درختوں کو نشانہ بنایا تھا اس وقت یہ فیس بکی تجزیہ کار بڑا اچھل کر اپنی ہی فوج کو ناکام قرار دے رہے تھے جبکہ اگلے ہی روز بھارت کے دو جنگی طیارے ایک ہیلی کاپٹر کی تباہی اور بھارتی سورما ونگ کمانڈر کی گرفتاری پر گونگے کا گڑ کھا کر خاموش ہوگئے تھے، گمان ہوا جسے زبان پر فالج اور ہاتھوں کو رعشے کا مرض لاحق ہوگیا ہے، یہ عناصر دو روز تک صدمے کی کیفیت سے دو چار رہے بعد ازاں جب دوبارہ پاکستان دشمنی پر بحال ہوئے تو جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے اور Say no war کا ہش ٹیگ کا سہارا لے کر اپنے آپ کو لبرل ظاہر کرنے کی منافقت پر مامور ہوگئے، اب یہ اپنے تئیں پرامن دیسی لبرلز امریکہ اور ایران کشیدگی پر سخت غصہ ہیں، پاکستان میں موجود شناختی کاڈر تک پاکستانی جبکہ ذہنی و روحانی طور پر مکمل ایرانی آپے سے باہر ہوکر سوشل میڈیا پر ایکٹو ہوگئے ہیں اور ایران سے اظہار یکجہتی ریلی کی پرزور حمایت کررہے ہیں جو کہ اچھی بات ہے مگر صاحب یہ بھی کیا عجب بات ہے کہ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی ریلی کا ایرانی و سعودی سوچ کا حامل ٹولہ بھرپور تمسخر اڑاتا رہا ہے۔

عجیب بات تو یہ بھی ہے کہ امریکہ اور ایران کی حالیہ کشیدگی پر یو ایس اے میں مقیم شیعہ مسلمانوں کی حمیت کو نہ جانے کیا ہوگیا ہے، ان گرین کاڈر ہولڈرز نے ایران کے ساتھ کسی قسم کا اظہار یکجہتی کا عملی مظاہرہ ہی نہیں کیا، یہ دیکھنے کو میری تو آنکھیں ترس رہی ہیں کہ کوئی شیعہ مسلمان وائٹ ہاؤس کے سامنے سراپا احتجاج ہو، کوئی تو شیعہ مسلمان گروپ یو ایس پارلیمنٹ کے سامنے امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے، میری ان سطروں کے ذریعے گزارش ہے کہ اگر کسی کے پاس امریکہ میں مقیم اہل تشیع کے جانب سے ٹرمپ کے پتلے نذر آتش کرنے اور اس کی تصاویر پھاڑ کر جوتوں سے مارنے کی کوئی ویڈیو ہو تو پلیز مجھے شئیر ضرور کیجئے گا۔ اس کے ساتھ یہ بھی جاننے کی متمنی ہوں کہ کیا امریکہ میں مقیم کسی شیعہ عالم نے سرکاری املاک کو نقصان پہچانے کی کوئی دھمکی دی ہے؟ اگر ایسا ہے تو برائے مہربانی وہ ویڈیو پیغام مجھے بھی عنایت کیجئے گا۔

تین جنوری 2020 کو امریکہ کی جانب سے عراق میں کارروائی کے نتجیے میں ایرانی انقلابی القدس فورس کے سربراہ سمیت سات ایرانی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع پر ہمارے سوشل میڈیائی تجزیہ کاروں نے ایک دم فیس بک کا میدان سجا کر پاکستان پر چڑھائی شروع کردی گویا پاکستان نے قاسم سلیمانی کا قتل کیا ہو، بہت سے نجومی تجزیہ کاروں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ اب پاکستان ڈالرز لے کر سعودی وفاداری کو لیبک کہے گا جبکہ اطلاعات ہیں کہ ایرانی جنرل خطے کے امن کی خاطرسعودی عرب سے ایران کے خیر سگالی تعلقات کا رشتہ استوار کرنے کے خواہشمند تھے، وہ یہ پیغام سعودی عرب تک پہچانا چاہتے تھے غالبا ان کی ملاقات بھی متوقع تھی جس کا علم امریکہ کو ہوگیا اور اس نے یہ پرمذمت کارروائی کر ڈالی۔

وطن عزیز میں مقیم شناختی کاڈر کی تک حد دلبرداشتہ طور پر زبردستی کے پاکستانی تاہم ذہنی و روحانی طور پر مکمل ایرانی جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے فوری بدلے کے خواہش مند ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ تو نہیں البتہ پاک افواج لبیک یا مہدی کی صدا بلند کر کے امریکا پر ٹوٹ پڑے اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان روز لیبک یاحسین کہہ کر قوم سے خطاب کرکے امریکہ کے صدر کے لتے لیں کیونکہ ظہور مہدی کے وقت صرف افواج پاکستان اور وزیراعظم پاکستان نے ہی تو منہ دکھانا ہے جبکہ سوشل میڈیا مجاہدین تو اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہیلو یا مہدی کا ہش ٹیگ کر کے انصاران امام کی اعزازی شیلڈ حاصل کرلیں گے۔

مجھے یاد نہیں پڑتا کہ پاکستان اور بھارت کی کشیدگی پر ایران کے صدر نے ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہو یا لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزی پر بھارت کو آنکھیں دکھائی ہو، یا جنرل ثنا اللہ نیازی کی شہادت پر صدمے سے دوچار ہوئے ہو یا اے پی ایس کے سانحہ پر ماتم کناں ہوئے ہو جبکہ یہ واقعات پاکستان میں رونما ہوئے ہیں، جنرل نیازی بھی پاکستان میں شہید ہوئے ہیں کسی دوسرے ملک کے بارڈر پر نہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جی مسلم مارا گیا ہے، سر جی مسلمان تو کشمیری بھی ہیں، فلسطینی بھی ہیں، شامی بھی ہیں، یمنی بھی ہیں، مسلمان تو لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کا شکار ہونے والا بھی ہے اور جناب دست بستہ کہتی ہوں مسلمان تو سعودی بھی ہے، قطری بھی ہے، یواے ای والے بھی ہیں۔

یاد دلانا چاہوں گی کہ آج سے چند سال قبل میانمار میں مسلمانوں پر قیامت ڈھانے کی اطلاعات تھیں جب کہاں تھا یہ درد یہ آہ و بکا؟ اطلاعات ہیں کہ ایران نے اپنا بدلہ لیتے ہوئے اسی امریکی فوجیوں کو مار ڈالا ہے، اس خبر پر سوشل میڈیا کی ایرانی بریگیڈ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی ہے ہاں جناب ہے خوشی کی بات مگر جناب ملال تو یہ ہے کہ 27 فروری 2019 کو ان عناصر کی جانب کوئی قابل تحیسن پیغام اپلوڈ نہیں ہوا تھا تاہم دو روز بعد Say no  to war کا ہش ٹیگ ضرور سامنے آیا تھا مگر آج ایرانی جوابی کارروائی کو مردانہ وار قرار دیا جارہا ہے، واہ صاحب واہ کیا کہنے۔ ارے اب کوئی کیوں نہیں خطے کے امن کے راگ گنگناتا، اب یہ دیسی لبرلز کیوں نہیں ساحر لدھیانی کی نظم لہک لہک پڑھ رہے ہیں جس میں انہیں نے جنگ کو مسائل کا انبار کہا تھا۔

بدقسمتی ہے کہ مادر وطن میں کثیر تعداد ایرانی اور سعودی نواز ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ممالک ان انتشار پسندوں کو شہریت تک نہیں دیتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ میرا ملک ہی نہیں بلکہ مسلک بھی پاکستان ہے، پاکستان زندہ باد۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *