عمران خان  کی ثالثی سے پہلے ہی ٹرمپ نے جنگ سے انکار کردیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی تقریر کے بعد مشرق وسطی میں فوری جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے لیکن  آج عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملے اور اس سے پہلے جمعہ کے روز  امریکی ڈرون حملہ میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی  کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال  پوری دنیا کے لئے  بدستور تشویش اور پریشانی کا سبب  ہے۔

ایران نے جنرل سلیمانی کی موت کا انتقام لینے کے لئے آج علی الصبح عراق میں  صوبہ انبار کے عین الاسد اور اربیل کے فوجی اڈوں پر  22 میزائل داغے تھے۔ ایرانی ٹی وی نے دعویٰ کیا تھا  کہ اس حملہ میں  80 امریکی فوجی مارے گئے ہیں تاہم اپنے مزاج  کے برعکس امریکی صدر ٹرمپ نے فوری طور پر کوئی دھمکی آمیز انداز اختیار کرنے کی بجائے ایک مختصر ٹوئٹ پیغام میں کہا تھا کہ ’سب کچھ ٹھیک ہے۔ امریکی  افواج دنیا کی سب سے بہترین فورسز ہیں‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ  نقصان کا اندازہ کیا جارہا ہے اور وہ بدھ کے روز اس بارے میں بیان دیں گے۔ اس کے بعد سے  صدر ٹرمپ کے رد عمل اور ایران کے بارے میں امریکی  حکمت عملی کا انتظار کیا جارہا تھا۔    امریکہ  میں صبح کے وقت قوم سے خطاب کرتے ہوئے تھوڑی دیر پہلے صدر ٹرمپ کا رد عمل  سامنے آیا ہے۔

اس تقریر میں  صدر ٹرمپ   کا لب و لہجہ متوازن اور  اس اشتعال انگیزی سے  عاری  تھا ، جو ان  کا خاصہ رہا ہے۔ انہوں نے اگرچہ تقریر کا آغاز اس جملہ سے کیا کہ ’جب تک وہ صدر ہیں ، اس وقت تک ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔   اس کے بعد جنرل سلیمانی کو ہلاک کرنے کے فیصلہ کا دفاع کرنے کے  باوجود   انہوں  نے میزائل حملہ کے بعدایران سے انتقام لینے  کی بات  نہیں کی۔ انہوں نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا دعویٰ ضرور کیالیکن اس کے ساتھ ہی ایرانی عوام اور قیادت کو  پرامن اور باوقار زندگی  کے حق کا پیغام بھی دیا ہے۔  ایران   کو جوہری ہتھیار  بنانے کی اجازت دینے کا دعویٰ بھی  سیاسی  فقرے بازی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت خود ہی یورینیم کی افزودگی سے دست برداری کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 2018 میں جب امریکہ نے اس معاہدہ سے علیحدگی اختیار کی اور یورپین ممالک   امریکی پابندیوں سے ایران کو تحفظ دلوانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو ایران کی طرف سے یورینیم دوبارہ افزودہ کرنے کی دھمکیاں  دی جاتی رہی ہیں۔ جمعہ کے روز جنرل سلیمانی کی  ہلاکت سے پیدا ہونے والے اشتعال انگیز ماحول میں صدر حسن روحانی نے  جوہری معاہدہ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

ایران اگر پوری تیز رفتاری سے یورینیم افزودہ کرنے کا  کام شروع کردے تو بھی  اسے ایٹمی ہتھیار بنانے  میں  دس برس کا عرصہ لگ جائے گا۔ جبکہ صدر ٹرمپ اگر سال رواں کا صدارتی انتخاب جیت بھی جاتے ہیں تو بھی وہ 2024 تک ہی صدر رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح اس تقریر میں  اقتصادی پابندیوں میں اضافہ کی بات بھی دراصل امریکہ کا نرم ردعمل ہی کہا جائے گا۔   صدر ٹرمپ کے بدلے  ہوئے  لب و لہجہ سے   مشرق وسطیٰ میں فوری  جنگ  کا اندیشہ ضرور کم ہؤا ہے لیکن اس سے اس خطے میں صورت حال بہتر ہونے  کی قیاس آرائی کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کا زیادہ تر انحصار  ایران اور امریکہ کی طرف سے جنگ اور تصادم کی بجائے امن و مصالحت کے لئے کئے جانے والے اقدامات  پر ہو گا۔

صدر ٹرمپ کی تقریر کے بنیادی نکات میں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا، اقتصادی پابندیوں میں اضافہ کرنا، نیٹو سے مشرق وسطیٰ میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کے علاوہ  ایرانی عوام اور قیادت سے یہ کہنا شامل ہے کہ  ’ہم چاہتے ہیں کہ آپ وہ زندگی گزاریں جس کے آپ مستحق ہیں۔ جس میں ایرانی عوام کو خوشحالی نصیب ہو اور دنیا کے ساتھ اس کے خوشگوار تعلقات ہوں‘۔  اس طرح انہوں نے ایک متوازن تقریر میں دنیا کو فوری طور سے جنگ کے اندیشے سے  محفوظ کیا ہے اور ایران کے ساتھ مصالحت کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔  لیکن   یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ  اشتعال انگیزی  سے  مبرا  اس تقریر کے بعد مشرق وسطیٰ میں سب کچھ نارمل ہوجائے گا۔

امریکی صدر  نے  دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حملوں میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہؤا  ۔ تاہم انہوں نے فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔ ایران کے دعوے کے برعکس  یہ بات زیادہ قرین از قیاس ہے کہ ان حملوں میں امریکی یا حلیف ملکوں کے فوجی نہیں مارے گئے۔  امریکہ کے علاوہ  ان  تمام حلیف ملکوں نے جن کے فوجی دستے اس وقت  دہشت گردی کے خلاف  جنگ کے اتحاد  کے   تحت عراق میں موجود ہیں،  بھی یہی اطلاع دی ہے کہ ان کے فوجی محفوظ ہیں۔ امریکی صدر کے متوازن رد عمل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس حملہ میں کوئی بڑا  جانی نقصان نہیں ہؤا۔  اگر ایرانی دعوے  کے مطابق امریکہ کے کئی درجن فوجی مارے گئے ہوتے تو  انتخابی سال میں صدر ٹرمپ جیسے مقبولیت پسند لیڈر کے لئے نچلا بیٹھنا آسان نہ ہوتا۔   البتہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ایرانی میزائل حملوں سے امریکی فوج  کے اسلحہ کے ذخائر اور  تنصیبات   کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ امریکہ شاید کبھی  یہ  تفصیلات منظر عام پر نہیں لائے گا۔

اس کے باوجود امریکی تنصیبات اور اڈوں پر براہ راست حملہ  ایران کا انتہائی اقدام تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی بھی ملک نے کبھی امریکہ پر براہ راست حملہ نہیں کیا ۔ یہ بلاشبہ امریکہ کے لئے بڑی ہزیمت ہے جسے صدر ٹرمپ کو خود اپنے ہی ایک احمقانہ اور غیر ضروری فیصلہ کی وجہ سے  برداشت کرنا پڑا ہے۔  ممکنہ طور پر امریکی فوجی قیادت اور سیاسی لیڈروں نے صدر ٹرمپ کو اس وقت اشتعال انگیزی سے بچنے کا مشورہ دیا ہوگا جو بلاشبہ ایک خوش آئیند اقدام ہے۔  تاہم اب امریکی حکومت کو 2015 کے جوہری معاہدے کی  طرز پر ایران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس میں ایران کو انگیج کیا جاسکے اور وہ سفارتی اور اقتصادی تنہائی سے باہر نکل سکے۔  ماضی میں کسی بھی ملک کے  خلاف اقتصادی پابندیاں کارگر ہتھکنڈا ثابت نہیں ہوسکیں۔ ایران کے خلاف یہ طریقہ بہت سالوں سے استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔   اب وقت آگیا ہے کہ ایران کے ساتھ مواصلت و مصالحت کے دروازے کھولے جائیں تاکہ ایرانی قیادت بھی کوئی رعایت دینے پر مجبور ہوسکے۔

امریکی اڈوں پر حملے کے بعد ایران کے مذہبی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے  قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایران نے امریکہ کے منہ پر تھپڑ رسید کیا ہے‘ ۔ اس کے ساتھ ہی ان کا دعویٰ تھا کہ  جنرل سلیمانی کی موت کا انتقام ابھی باقی ہے۔  اس تقریر کے مقابلے میں وزیر خارجہ جواد ظریف کا یہ  بیان زیادہ امید افزا ہے کہ ایران  نے اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے ۔ جن اڈوں سے ان کے جنرل کو ہلاک کرنے  کے لئے ڈرون بھیجے گئے تھے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان ایک ٹوئٹ پیغام میں کہنا تھا کہ  اب امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے یا معاملہ ختم کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر نے ایرانی عوام کے خوشحال مستقبل کی  تمنا کرتے ہوئے  یہی پیغام دیا ہے کہ امریکہ  جنگ کو بڑھانے کی بجائے حالات کو بہتر کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں کو اشتعال انگیز بیان بازی  بند کرنا ہوگی۔    ایک  دوسرے کو کمتر  قرار دینے کی بجائے زمینی حقائق  کو تسلیم کرنے کے لئے اقدام کرنا ہوگا۔ امریکہ کو ماننا ہوگا کہ ایران ایک طاقت ور اور بڑا ملک ہے۔ اس کے عوام کو اقتصادی پابندیوں کے نام پر  سہولتوں سے محروم کرکے امن  و مصالحت کا مقصد حاصل نہیں  کیا جاسکتا۔ ایران کو مناسب احترام دے کر ہی امریکہ  مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے کسی منصوبہ پر کام کرسکتا  ہے۔  اسی طرح ایران کو بھی امریکہ کی  عسکری، اقتصادی، سفارتی اور سیاسی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے متوازن راستہ تلاش کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔

اس دوران پاکستان کے  وزیر اعظم عمران خان نے  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ایران، سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ کرنے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کہ وہ فریقین کو تصادم سے  بچانے کی  کوشش  کریں ۔  انہوں نے ایسی ہی ہدایت  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی کی ہے کہ وہ  متعلقہ ملکوں کے کمانڈروں سے  بات کرکے اشتعال انگیزی کو کم کروائیں۔  عمران خان کا یہ بیان بھی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان سفارتی یا سیاسی لحاظ سے اس پوزیشن میں  نہیں ہے کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کرسکے۔  یہ بیان صرف   پاکستانی عوام کو   گمراہ کرنے کے مقصد سے دیا گیا  ہے۔ بہتر ہوگا کہ وزیر اعظم حال ہی میں جنرل باجوہ کی خوشنودی کے لئے آرمی ایکٹ منظور کروانے کے بعد اب یہ تاثر دینے سے گریز کریں کہ آرمی چیف ان کی ہدایات کے پابند ہیں۔  یا پاکستان  امریکہ،  سعودی عرب اور ایران کو  اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا بھلا ہو کہ انہوں نے اپنی تقریر میں جنگ کی بجائے مصالحت کا پیغام دیا ہے۔ اب عمران خان  بھی ثالثی کے مشن کا سہرا اپنے سر باندھنے کی بجائے ملک میں اقتصادی سہولت اور  بنیادی آزادیوں کی بحالی کے لئے اپنا آئینی ، سیاسی اور اخلاقی فرض ادا کرنے کی کوشش کریں تو بہتر ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1420 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *