عوام کیا اشارے کرنے والے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرمی ایکٹ میں ترمیم کے وقت شیریں مزاری کے ذومعنی اشارے ہر خاص و عام کی زبان پر ہیں اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنے پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نام نہاد سویلین بالادستی کے بیانیے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ان دونوں بڑی جماعتوں نے اپنے اپنے بچاؤ کی خاطر گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ بظاہر تو دونوں جماعتوں کی قیادتیں شدید احتساب اور بدنامی کے بعد آزاد ہیں مگر مستقبل میں ان کو بدلے میں کیا ملنے والا ہے اس پر ابھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ میاں صاحبان کو پنجاب اور زرداری صاحب کو سندھ میں آرام کے ساتھ ساتھ ان پر کوئی خاص مہربانی بھی کی جائے گی۔

کہنے والے تو کہتے ہیں کہ سویلین بالادستی پر دور بیٹھ کر لیکچر دینا تو بہت آسان ہے مگر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔ نیب، ایف آئی اے، احتساب عدالتیں اور جیل کی کال کوٹھڑی بڑے بڑے بدمعاشوں کو پیش امام بنا دیتی ہے جب بریگیڈیر (ر) اسد منیر جیسے لوگ نیب کے طریقہ واردات سے تنگ آکر خودکشی کر لیتے ہیں تو یہ تو بڑے نازوں سے پلے شریف اور زرداری ہیں۔ جب خاندان کے سربراہ سمیت کئی افراد جیل میں ہوں، بدنامی، سیاست اور ریاست سے اخراج آپ کا مقدر اور آپ کی بیٹی، بہن اور بیٹے کا احتساب کے صاحب بہادر سے بچنا مشکل ہو تو پھر طاقت کے منبع کے آگے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑتے ہیں۔

جب آپ کو پتہ ہو کہ وزیر اعظم ہاؤس سے جیل کس طرح جایا جاتا ہے اور حکومتیں کیسے بنتی اور گرتی ہیں تو پھر محفوظ مستقبل کے لیے لڑائی سے بچنا پڑتا ہے۔ جس طوطے میں آپ کی جان ہو اور اسے پکڑ لیا جائے تو پھر سویلین بالادستی کا راگ بھیروی چھوڑ کر راگ درباری گانا پڑتا ہے بھلے ہی کارکنان ناراض ہوں یا پھر جمہوریت کے چیمپیئن تنقید کرتے رہیں جن پر بیتے وہی جانتے ہیں کہ سویلین بالادستی کا راگ کتنا بھاری پڑتا ہے جو صرف اور صرف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اور حکومتوں میں رہنے والے ہی جانتے ہیں۔

بھلے ہی ہم طاقت کا سرچمشہ عوام اور پارلیمانی بالادستی کے بڑے بڑے نعرے لگائیں مگر حکومتیں بنانے اور چلانے کے لیے طاقت کے اصلی منبعوں کے سوا ایک قدم بھی نہیں چل سکتے۔ جس ملک میں جنرل مشرف ابھی تک جان پاکستان اور قومی ہیرو ہوں اور وہاں آئین محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہو تو کون مائی کا لعل چٹان سے ٹکرانے کی بھول نہیں کرے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کو سلیکٹیڈ کے طعنے دینے والے خود بھی سلیکشن کے چکر میں گھومتے نظر آ رہے ہیں مطلب ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز نہ بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز۔

وزیر انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری کے ذومعنی اشارے جنہیں بظاہر بد اخلاقی کا مظاہرہ سمجھا جا سکتا ہے مگر اصل میں ان گونگے بہرے ساستدانوں کو بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ اگر ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دیتے تو پھر تم لوگوں کا کیا حشر ہونا تھا۔ ملک کی تاریخ اور عوام گواہ ہیں کہ اس ملک کی اصل طاقت ان کرپٹ سیاستدانوں کو بنانے اور بگاڑنے والوں کے پاس ہے ان کو ہیرو بنانا ہے یا پھر زیرو یہ حالات و واقعات اور قومی مفادات کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

میاں نواز شریف کے ووٹ کو عزت اور سویلین بالادستی اور زرداری صاحب کے اینٹ سے اینٹ بجانے کے دعوے سے نتگ آکر قومی نظریہ تسلسل کے تحت قوم نے خان صاحب کو منتخب کیا مگر ملکی معاشی حالات اور مہنگائی کے سونامی نے لوگوں کو لنگر خانوں اور پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے لہذا یہ قوی امکان ہے کہ ماضی کے یہ کرپٹ سیاستدان بھی قومی حکومت کا حصہ بننے والے ہیں۔ عوام بیچارے تو کافی عرصے سے ملک کے آقاؤں کو اشارے کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ایسی تبدیلی سے اب ہماری توبہ، خدارا اب بس کرو بچے کی جان لو گے کیا۔ مگر مسئلہ کشمیر سے نکل کر اب ہم ایران، سعودی عرب اور امریکہ کی پہلے جنگ اور پھر دوستی کروا کے امن کا نوبل انعام لینے کے چکر میں کیا مزید قوم کا تیل نکالنے اور انہیں ذو معنی اشاروں پر مجبور کرنے کے انتظار میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *