ڈان اور حمید ہارون: “ریاست مدینہ” کے آخری کافر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے حمید ہارون کو بلایا کیونکہ مجھے اوپر سے آرڈر ملا تھا اور سخت آرڈر ملا تھا۔ میں نے انہیں بہت سمجھایا اور انہیں یہ احساس دلانے کروانے کی پوری کوشش کہ جنرل صاحب بہت آپ سیٹ ہیں اور یہ ڈائریکٹ ان کا حکم ہے مگر حمید ہارون صاحب کسی طرح“ لائن پر ”نہ آئے۔ میں ان سے سوری کہہ کے ایک منٹ کے لئے ریٹائرنگ روم میں گیا اور پریذیڈنسی کنٹیکٹ کیا، مجھے پریذیڈنٹ صاحب سے ڈائریکٹ بات کرنے کے لئے ہاٹ لائن دی ہوئی ہے۔

میں نے انہیں بتایا کہ وہ نہیں مان رہے اور واپس اپنی سیٹ پہ آکے حمید ہارون صاحب سے گپ شپ شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر میں کچھ لوگ میرے کمرے میں آئے اور ہارون صاحب کو اپنے ساتھ کہیں لے گئے۔ کچھ وقت گزر گیا تو وہ ہارون صاحب کو واپس لے آئے اور میرے پاس چھوڑ کر چلے گئے، میں نے چائے بنوا کر حمید ہارون صاحب کو پیش کی تو کپ ان کے ہاتھ میں لرز رہا تھا۔ یہ واقعہ اواخر 2007 میں اسلام آباد میں خوشنود اختر لاشاری نے پنجاب ہی کے ایک دوسرے اعلیٰ بیوروکریٹ کو خود سنایا تھا جو ان دنوں بطور جوائنٹ سیکریٹری تعینات تھے اور غالباً پہلی بار فیڈرل پوسٹنگ“ بھگت ”رہے تھے جبکہ لاشاری صاحب کو صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدہ سے وفاق میں لے جا کر وزارت اطلّاعات میں بطور پرنسپل سیکرٹری تعینات کیا ہوا تھا۔

لاشاری صاحب نے بتایا کہ صدر صاحب چاہتے تھے کہ ”ڈان“ میں سابق اعلیٰ بیوروکریٹ روئیداد خان کا کالم شائع کرنا بند کر دیا جائے، اور اسی مقصد اور ایوان صدر سے ملے ایک ارجنٹ آرڈر کے تحت ”ڈان“ اخبار کے مالک حمید ہارون کو پرنسپل سیکرٹری انفارمیشن کے دفتر بلوایا گیا تھا تاکہ پہلے انہیں ”آرام سے“ سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ لاشاری صاحب نے فوجی حکومت کی یہ ”واردات“ جس اعلیٰ بیوروکریٹ دوست کے ساتھ شیئر کی تھی، ان صاحب نے یہ واقعہ انہی دنوں اپنے لاہور کے ایک وزٹ کے دوران میرے ساتھ براہ راست شیئر کیا تھا کیونکہ میں ان کے قابل اعتماد اور نہایت بے تکلّف دوستوں میں شامل ہوں لیکن۔۔۔

رواں مہینے (8 جنوری) ایک چینل پر ایک غیر معمولی ٹاک شو دیکھ کر یہ واقعہ لکھنے پر مجبور ہوا۔ ٹی وی کا ریموٹ کنٹرولر گھماتے ہوئے متذکرہ چینل پر شروع ہو رہے ایک ٹاک شو کا جلی حروف میں لکھا موضوع گفتگو دیکھ کر ٹھٹھکا کہ یہ کیسا سطحی موضوع ہے جو ایک ایسے شخص کی کردار کشی پر مبنی ہے، جو لائم لائٹ میں ہی نہیں ہے، پھر آج تو ویسے بھی پارلیمان میں اتنی اہم قانون سازی کا معرکہ سر ہوا ہے اور ملک بھر کا میڈیا اسی کو زیر بحث لائے ہوئے ہے مگر۔۔۔

شاید یہ ”مہم“ بھی اسی سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ دو ایک سال پہلے ”ڈان لیکس“ اور اس کے بعد کئی بار پھر سرل المیڈا جیسے دبنگ صحافی کی دھانسو رپورٹس چھاپنے والے انگریزی روزنامے ڈان اور ”جنگ جیو گروپ“ اور HUM ٹی وی کا داخلہ ملک بھر کے مخصوص علاقوں کی حدود میں بند کردیا گیا تھا، ذرائع ابلاغ کے ان تینوں بڑے اداروں سے وابستہ شہریوں یا ایسی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں جن پر ان اداروں کے نام کا سٹکر بھی لگا ہوتا، ان کے لئے بھی مخصوص علاقوں کو ”نو گو ایریاز“ قرار دے دیا گیا تھا۔

لاہور میں ڈان کو مارکیٹ تک پہنچنے سے روکنے کی غرض سے اخباری تقسیم کاروں یعنی نیوز ایجنٹس کے مرکز ”اخبار مارکیٹ“ سے ”ڈان“ اخبار ہاکرز کو دیے جانے سے سختی سے روک دیا گیا تھا، ”ڈان“ کے ورکرز نے جن میں ورکنگ جرنلسٹس شامل تھے، اخبار مارکیٹ کے باہر اخبار ہاکرز میں تقسیم کرنے کی کوشش کی تو اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی، حتیٰ کہ جب کارکنوں نے لبرٹی مارکیٹ اور ایم ایم عالم روڈ سمیت بعض پوش ایریاز میں خود اسٹال لگا کر اخبار بیچنے کی کوشش کی تو ”نامعلوم افراد“ نے وہاں فوری پہنچ کر سٹال اٹھوا دیئے مگر۔۔۔

حمید ہارون اپنے ادارے کا تاریخی اور روایتی کردار نبھانے سے باز نہ آئے۔ انہوں نے اپنے انگریزی اخبار ڈان کو لگام ڈالنے سے گریز کرتے ہوئے بھی نہ سوچا کہ ملک کے اردو انگریزی تمام اخبارات میں معتبر ترین مانا جانے والا ان اخبار تمام سول و ملٹری بیوروکریٹس کے علاوہ تمام غیر ملکی سفارت خانوں، قونصل خانوں اور سفارتی مشنز تک پہنچتا ہے، اور یہ کہ۔ ۔ ۔ ان کا Dawn بعض ”شریف شہریوں“ کے لئے Don بنا ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *