گدھا کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم لو گ سالانہ تعطیلات کا ایک طے شدہ حصہ دادی جا ن کے سا تھ گزار کر بذریعہ ٹرین اپنے گھر لاہور پہنچے تو لکڑی کے گیٹ پر سُرخ سرخی والے نوٹس کو چسپا ں پایا۔ بنام مبارک احمد کے نیچے فوجداری زبا ن میں تحریر کے معنی تھے کہ اہلکا ر کے بارہا چکر لگا نے اور گھر کے مقفل ہو نے پر آخر ی بار انتباہ کیا جا تا ہے کہ جنا ب اصا لتاَ زیر ِدستخطی کے رو برو حاضر ہوں۔ جب تک ہم دستخط اور اُ نکے نیچے قاضی اسلم پڑھتے ہما رے ہا تھ پا ؤ ں پھو ل چکے تھے۔

ابا نے دائیں با ئیں دیکھتے ہو ئے کا غذ دھجیو ں صورت اُتار ا اور کہا ”یہ شرارت نہیں بلکہ پا گل پن کا عملی آ غا ز ہے، مگر تمہا را اُ ن سے ڈرائینگ سیکھنے کا ارادہ ایک علیحدہ با ت۔ “ یہا ں علیحدہ با ت سے مراد تھی کہ امی جا ن اور بہن بھا ئی جو ابھی تک تا نگے میں سوار تھے ان سے اس کا تذ کرہ میر ے لئے مشکلا ت پیدا کر سکتا ہے۔ یو ں تو اُ س زما نے کی گھڑی کے پھیر میں عدد با رہ ہی تھے مگرہمیں اپنی عمر سے زیا دہ عقلمند ی اور ہنر مند ی سے دو سر و ں کو چونکانے کی لت پڑ چکی تھی، لہٰذا امورِخانہ داری، رفوگری، پتنگیں بنانے اور خس کی ٹٹیاں بُننے کے اپنے تئیں ماہر ہونے کے بعد ہمارا ارادا بقایا چھٹیوں میں ڈرائینگ ماسٹر بننے کا تھا۔

لہٰذا اگلے روز بیس انچ کی سائیکل پر قا ضی صاحب کے مال روڈپر واقع دفتر کو روانہ ہوئے۔ دفتر کے باہر انگریزی حرف ڈی (D) کی طرز پر دیوار میں پیوست لوہے کی سلاخوں بیچ قاضی صاحب کی کوئیکلی (Quickly) کے برابر اگلا پہیہ داخل کر کے تالا لگایا۔ جیسے شہرت بخاری کو لمبی چوڑی موٹر سائیکل پر سوار دیکھ کر اچنبھا ہوتا کہ اس پر قابو کیسے رکھتے ہیں، ویسے ہی قاضی صاحب کو ننھے منے انجن اور پیڈل والی موٹر سائیکل جسے ہنگامی صورت حال میں بطور سائیکل بھی استعمال کیا جا سکتا تھا، پر لدے پھندے دیکھ کر دماغ سوچنے پر مجبور ہوجا تا کہ بیچاری یہ سب کچھ کیسے جھیلتی ہو گی۔

قاضی صاحب کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ میرے دروازہ تھپکانے پر انہوں نے گھڑی دیکھی، مسکرائے اور مال روڈ کی طرف کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے ”فیروز سنز سے گراف پیپر لے آؤ“ میری واپسی پر کاغذ کو میز پر بچھایا، اُسے ہموار کیا، تیر کی رفتار سے ایک لکیر کھینچی اور کہا ”دیکھ کر بتاؤ کہ میری لکیر ہر خانے کو چیرتی ہوئی عین درمیان سے گزری ہے یا نہیں؟ “ چپڑاسی دو کپ چائے اور ایک عدد پیسٹری لے کر آیا تو قاضی صاحب نے پیسٹری میری طرف بڑھا دی۔

میں نے لکیر کوہر خانے میں پرکھا اور ایمان لے آیا۔ جونہی آنکھیں اٹھائیں انہوں نے اشارے سے چھوٹی میز پر جانے کو کہا۔ لکیر کی ایمانداری کا انہیں یقیناً پہلے سے علم تھا۔ مسکراتے ہوئے پنسل تھامنے کا طریقہ دکھایا اور بولے ”تیزی سے ایسی ہی لکیریں دونوں اطراف سے لگاؤ، جب فی صفحہ چار لکیریں گِنواؤ گے تو دائرہ شروع ہوگا“ پھر دراز سے کاپی نکالی، کچھ لکھنے لگے مگر ارادہ بدل دیا اور ہنستے ہوئے کہا ”اس میں یاروں کے نام اور وہ پیسے درج ہیں جو میں ان پر خرچ کرتا ہوں، اور اگر وہ بھی ایسا کریں تو صبح آکر منہا کر دیتا ہوں، تمہارا نام فی الحال نہیں لکھ رہا۔ “ اسکول کھلنے تک میں اوسطاً پانچ یا چھ سیدھی لکیریں اور دائرے کھینچنے لگا تھا اور برابر کی بیڈن روڈ پر اُن کے کنبہ کا لاڈلا، برخوردار۔ آخری روز نصیحت کی کہ مشق جاری رکھو، اگر کچھ اندر ہوا تو کاغذ پر آجائے گا اور اگلے سال میں تمہیں رنگوں کی تمیز اور استعمال بتاؤں گا۔

اب قاضی صاحب گھر پہ آتے تو ابا کے ساتھ میں بھی گفتگو میں شریک ہوتا جو بیشتر فنونِ لطیفہ، باغوں اور عمارات کی تنزل پذیری پر ہوتی۔ منگلاڈیم ہو، سرکارام (Circaram ) ہو یا جرمن بازیگروں کا تماشا، افتتاحی تقریب کا تعارفی کتابچہ بمعہ قلمی تصاویر قاضی صاحب ہی بناتے اور مجھے ضرور دیتے۔ منگلاڈیم کے افتتاح سے دو روز قبل ہی ابا کے ساتھ گیا اور اپنے کاکا ماموں جن کی تعیناتی وہاں محکمہ ایکسائز کے سبب تھی کے ہاں ٹھہرا۔

منگلا دیوی کا مندر اور صادقین صاحب کو کلب کی عمارت میں دن رات ایک کرتے دیکھا۔ ماموں نے بتایا کہ صادقین صاحب اپنا خطیر معاوضہ یہیں پی کر جائیں گے۔ ابا سے دوستی کی وجہ سے ایسی ویسی باتیں میرے سامنے ہی کر دی جاتی تھیں۔ جرمن بازیگروں نے موزینک ٹیمپل (Masonic Temple) اور سڑک پار الفلاح بلڈنگ کی چھتوں بیچ لوہے کا رسہ کھینچ کر اشتہاربازی کے طور مفت بازی گری دکھائی اور ہم نے قاضی صاحب کے دیے فری دعوت ناموں پر اوپن ایئر تھیٹر میں اُن کا طویل، خطر ناک بلکہ خطرہ ء جان مظاہرہ دیکھا۔

واپسی پر میں نے کہا کہ یہ لوگ کسی فلم کے ہیرو سے بھی زیادہ بہادر ہیں۔ ابا بولے اور جنہوں نے دیکھا وہ بھی بہادر ہیں۔ میں آج تک اسی قسم کا بہادر ہوں۔ پھر یوں ہوا کہ امریکہ نے دوستی دکھانے کو ایک عظیم گنبد پنجاب اسمبلی کے عقب میں تانا۔ یہاں بھی قاضی صاحب کے دیے دعوت نامے کام آئے۔ اس گنبد میں فلم چاروں اطراف دکھائی دیتی، جس کا دورانیہ پندرہ یا بیس منٹ کا ہو گا۔ امریکن مظاہر ِقدرت جیسے نیاگرافالز، گرینڈکینیئن( Grand Canyon)، لاوا اُبلتے آتش فشاں وغیرہ دکھائے جاتے۔

جدھر دیکھو سمندر ہی سمندر، پہاڑ ہی پہاڑ، جلتا بہتا اچھلتا لاوا چاروں اور سے آپ کی طرف بڑھتا تو میں ابا کا ہاتھ اندھیرے میں بھی تلاش کر لیتا۔ اس امریکن بڑھتے ہاتھ پر قاضی صاحب نے ایک کارٹون کھینچا جس میں ایک طرف تو قطار در قطار سرکارام ( Circaram) کے خیموں سے لدے پھندے صحتمند گھوڑے پاکستان کی طرف آتے دکھائی دیتے تو دوسری جانب ایک مریل ٹٹو درجن بھر میزائلوں سے بھرا بھارت کا رخ کرتا نظر آتا۔ اخبار نے چھاپنے سے انکار کیا تو صاحب نے یہ سب بڑے سائز کے بورڈپر بنایا اور ایک گدھا کرائے پر لے کر اُس کی دونوں جانب لٹکا کر مال روڈ کا ابھی ایک ہی چکر کاٹا تھا کہ دونوں دھر لئے گئے۔

صبح عدالت میں واویلا کرتے منظور قادر صاحب کے سامنے پیش کیے گئے۔ منظور صاحب کے استفسار پر بولے کہ میرے ساتھی کو یہ لوگ اندر نہیں آنے دے رہے۔ جج صاحب کے اشارے پر قاضی صاحب بھاگ کر گدھے کو اندر لے آئے، جس نے معجزاتی طور پر احتجاج شروع کر دیا۔ منظور صاحب جو اپنے چھوٹے بھائی ریاض قادر کے ہم پیالہ دوستوں کو جانتے تھے، نے پوچھا ”یہ کیا کہتا ہے؟ “ قاضی صاحب باچھیں پھیلاتے بولے ”جناب یہ کہتا ہے ہم دونوں بے گناہ ہیں“ جج صاحب مسکرائے اور بر خاستگی کا اشارہ کیا۔

دورآمرانہ ہو یا نیم آمرانہ، قاضی صاحب جیسوں کے ساتھ اُس دور کی عدلیہ رعایت ہی برتا کرتی تھی۔ اب جو کارٹون اخبار نہ چھاپتا قاضی صاحب الفریڈ وولنر ( (Alfred Woolnerیا مال روڈ کے پسندیدہ درخت جو شیزان کے سامنے تھا پر سجا کر بیٹھ جاتے۔ اس درخت کے برابر کھلی جگہ پر ظہیر کا شمیری سائیکل کو سٹینڈپر لگا کر صبح سویرے انگریزی اخبار پڑھا کرتے۔ ایسے میں ان کی پیٹھ بیڈن روڈکی طرف ہوتی۔ قا ضی صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ پاگل مجھ سے بچنے کی خاطر منہ دوسری طرف رکھتا ہے۔

خیر جب اخبار میں نہ چھپنے والے کارٹونوں کی تعداد بڑھ گئی تو ان پر مشتمل ایک کتاب خود سے چھپوا ڈالی اور گدھے پر لاد کر مال روڈ پر ایک دن میں مقامی اور غیر مقامی سیاحوں کو بیچ ڈالی۔ مجھے بھی ایک کاپی بمعہ دستخط عنایت ہوئی جس کا تمام مواد امریکہ اور ہندوستان مخالف تھا۔ یوں مزید حاضریاں ہوئیں نتیجے میں قاضی صاحب زبان زدِ عام لطیفے کی مانند شہر کی فنی و ادبی محفلوں میں پھیلائے جاتے اور ان کے کام کے پیچھے کا مضمون خوار ہو جاتا۔

قاضی صاحب کی شام ڈھلے کی مصروفیات بڑھتی گئیں اور ہماری اُن سے ملاقاتیں کم۔ ایسے میں ابا ان کے گھر اکیلے ہی جاتے۔ ایک دن واپسی پر کہنے لگے ”یار قاضی نے رُلا دینے والی تصویر پینٹ کی ہے۔ شاید پہلی ہے اور میں اب تک اُس کے سحر میں ہوں“ اتوار کے روز میرے کہنے پر ابا مجھے قاضی صاحب کے گھر لے گئے۔ کمرے میں واحد تصویر دیوار رُخ بغیر لیبل کی بوتلوں بیچ کھڑی تھی اور وہ سنتری لوگ کے زیر استعمال جتنی موٹی شاخ پر کام کر رہے تھے۔

چھڑی اپنے دونوں طرفین پر بطرزِ غلیل دو شاخہ اور نوکدار تھی۔ ایک گہری درز دوشاخہ حصہ کے بیچ سے گزرتی ہوئی درمیان میں باہم اور آخیر میں پھر سے دو شاخہ ہو جاتی۔ قاضی صاحب نے اُسے ہاتھوں سے صاف کیا اور ریگمار سمیت اپنی پرانی د ہوتی میں لپیٹ کر الماری میں رکھا، تالہ لگایا اور چابی اپنی دھوتی کی ڈب میں اُڑس لی۔ پھر تصویر اٹھائی ایک دو خالی بوتلیں کپکپائیں اور اُس کا رُخ ہماری طرف کردیا۔ ولائتی لڑکی جو ہمیشہ سے خوبصورت ہوا کرتی تھی، ادھ جلا سگریٹ تھامے سامنے سگریٹ کے ٹکڑوں سے بھرا ایش ٹرے انتہائی افسوس سے دیکھ رہی تھی۔

پوری تصویر زندہ تھی، اتنی کہ ہاتھ لگانے کو دل چاہا۔ دھواں فریم سے باہر کو نکلتا محسوس ہوا۔ ایش ٹرے میں گیلے تمباکو کی بدبو سے انفعال کی سی کیفیت ہونے لگی۔ چائے آئی، برتن چلے گئے اور ہم واپس چلے آئے۔ کچھ عرصہ بعد کسی اتوار کو اخبار کے اندرونی صفحہ پر خبر دیکھی اور پھر با آواز بلند پڑھی کہ قاضی صاحب کا گھر جل گیا ہے، اُن کی بیٹی کے جہیز سمیت، جو چند روز بعد ہونا تھی۔ یہاں پر خاموشی اباکی طرف آنکھوں سے استفسار میں بدلی تو اُنہوں نے آگے پڑھنے کو کہا۔

ہم دونوں قاضی صاحب کے مکان پہنچے تووہ معمول سے زیادہ بوکھلائے اور ہنستے دکھائی دیے۔ اہل خانہ کی خیریت تو اخبار میں درج تھی مگر سبھی پوچھ رہے تھے۔ ابا نے پینٹنگ کا پوچھا تو قاضی صاحب بڑی بڑی آنکھوں سے پھٹ پڑے۔ کہنے لگے ”وہ جو لکڑی کی شاخ میں نے اپنے سارے علم و تحقیق کو استعمال کرتے ہوئے تیار کی تھی اُس کا جل جانا ایک عالمی حادثہ ہے، اُسے اگر ایک طرف سے گدھے اور دوسری طرف انسان میں داخل کیا جاتا تو خون بغیر تمیز کے درست بیٹھتا“ پاس کھڑے لوگ سمجھے کہ نقصان سے دماغی توازن مزید بگڑ گیا ہے۔

ابا نے مٹھی میں کچھ پیسے دیے تو قہقہ لگایا ”یار مبارک دھوتی کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اگر آدمی بچ جائے تو ڈب کی رقم خود سے بچ جاتی ہے“ ابا اس دوران ماتھے سے ایک دو بار پسینہ پونچھ چکے تھے، لہٰذا ٓنکھیں ملنے پر ہم وہاں سے چلے آئے۔ امی جان کو معجزاتی طور سب کے مکمل بچ جانے کا بتایا جس پر انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا۔

اب قاضی صاحب کی اندرونی حالت نمایاں ہوتی گئی۔ ابا سرِراہ ملنے سے بھی کتراتے، ہاں قاضی صاحب کبھی کبھار میلے کچیلے، بدبوسمیت ہمارے گھر آتے اور میرے موجود ہونے کی اطلاع پر کہتے ”میں ایرج کا دوست ہوں اور کافی پینے آیا ہوں“ مجھے دیکھتے ہی ہیپی بدھا (Happy Buddha ) جیسے دکھائی پڑتے، کافی پیتے، کیک بسکٹ کھاتے اور چلے جاتے۔ پھر وہ غائب ہوگئے سب کے لئے اور ایک دن مینٹل ہاسپٹل میں پائے گئے۔ ہو ا یوں کہ کسی امیر مریض کے لواحقین اُس کی مصروفیت واسطے رنگدار پینسلیں اور سکیچ بک (sketch book ) لائے۔

پاس کھڑے مریض نے تقریباًکاغذ پینسل چھینتے ہوئے کہا ”اس کنجر نے چھنکنا بنانا ہے“ اور ڈاکٹر کاسکیچ آناًفاناًبنا ڈالا۔ اب انہیں توجہ ملی، جھٹکے لگے، اشتہار چھپا اور ان کے گھر والے انہیں واپس لے آئے۔ کچھ مزید علاج اور آرام کے بعد قاضی صاحب کو مشرق والے اپنے دفتر لے آئے۔ ایک کمرا بمعہ وظیفہ مہیا کیا۔ قاضی صاحب نے اشتہار دیا کہ اُنکی کتاب اگر کسی کے پاس ہو تو انہیں عاریتاًدے کر شکریہ کا موقع دے۔ میں نے گھبراہٹ میں کتاب تلاش کی، کیک خریدا اور حاضر ہوگیا۔

داخلے کے دائیں جانب نسبت روڈ پر کھلتی کھڑکی کے برابر بیٹھے تھے۔ باچھیں کھلیں، گر مجوشی سے ہاتھ ملایا، کتاب لے کر بغیر دیکھے، کھولے دائیں طرف فرش پر پہلے سے پڑی ویسی ہی کتابوں کے چھوٹے سے ڈھیر پر پھینک دی اور بولے ”کیسا لگا میرا یاروں کو بلانے کا طریقہ؟ “ پھر طویل قہقہوں کے بیچ کتابیں لانے والے بیوقوفوں کے قصے سنانے لگے۔ میں اپنی کتاب اٹھا کر بھاگنا چاہتا تھا مگر چائے اور سادہ کیک آچکا تھا، پھر قسمت سے آرٹ کا دلدادہ اور قطع وضع سے امیر کبیر جوڑا کتاب تھامے داخل ہوا۔ گلے ملے گئے، کھڑے کھڑے گفتگو طویل ہوئی تو ڈھیر کے اوپر رکھی کتاب اٹھا کر خاموشی سے چلا آیا۔

وقت، ضرورتِ زندگی کے ہجوم بیچ تیزی سے گزرتا گیا۔ نجانے کتنے سال بعد میں نے انہیں مال روڈ پر گوگو GoGoکے سامنے گزرتے دیکھا مگر خواتین کی ہمراہی اور قاضی صاحب کی حالت نے مجھے اُن سے ملنے کو روک دیا۔ پھر وہ جب بھی نظر آتے، میں انہیں ملتا، کافی پلاتا۔ پیسے نہیں لیتے تھے، ہاں سگریٹ کا پیکٹ ویٹر سے منگوانے پر لے لیتے۔ اِس دوران ایک موٹی سوتری سے شاپرز کو اکٹھا کرکے سفیدی کرنے والی کوچی نما باندھی لُوسی (Lucy ) نامی کتیاسے باتیں کرتے رہتے۔

میرے بارے بتاتے، بھوک کا پوچھتے اور جواب خود سے دھراتے۔ اچانک کسی کونے سے برآمد ہوتے اور دوسرے کونے میں غائب۔ آخری دفعہ ریگل سینما کے باہر دھی بڑے کی دوکان کے سامنے پنسل اور کسی دفتر کے پیڈ سمیت نظر آئے۔ میں سامنے جا کھڑا ہوا۔ موٹے ہونٹوں کو مکمل پھیلا کر مسکراتے ہوئے مکمل اجنبی لہجے میں کہا ”ایک ڈبل دھی بڑے کی پلیٹ ایک پورٹریٹ کے بدلے“ میں نے دوکاندار کو اشارہ دیا۔ قاضی صاحب نے پلیٹ دوکان کے تھڑے پر رکھی اور دو منٹ سے کم میں پورٹریٹ بنایا اور میرے کہنے پر تاریخ بھری، دستخط کیے، مگر اُنکی آنکھوں میں کوئی شناسائی نہیں جاگی۔ وہ پلیٹ ختم کرنے اور میں پورٹریٹ دیکھنے میں مصروف تھا کہ ایک گورا گوری جو غالباً میرے پیچھے کھڑے تصویر بننے سے میرے ہاتھ میں آنے کو تجسس سے دیکھ رہے تھے، آگے بڑھے اور کہا ”One portrait for us please“

قاضی انکل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور بھنچے ہوئے ہونٹوں بیچ بولے ”But I am not hungry any more“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ایرج مبارک کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *