آزاد کشمیر پر قبضہ کا بھارتی خواب اور پاکستان کی ناکام سفارت کاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارتی آرمی چیف  جنرل منوج مکند نراوانےکی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کے بعد پاک فوج کے ترجمان اور وزارت خارجہ کی طرف سے اسے مسترد کرنا روٹین کا بیان سمجھا جائے گا۔  حیرت اس بات پر ہونی چاہئے کہ بھارتی فوج کے کسی سربراہ کو اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی ہی پریس کانفرنس میں پاکستان کے حوالے سے اشتعال انگیز اور جارحانہ  بیان دینے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔  اس سے بھی زیادہ حیرت کا مقام ہے کہ دنیا کے ایک بڑے ملک کی طرف سے اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیان کا اقوام متحدہ یا کسی عالمی طاقت نے نوٹس لینے اور اسے  مسترد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔

بھارت نہ صرف  خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلواکر  تحسین و اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ اس کے لیڈر پاکستان میں جمہوری سفر  کے غیر ہموار ہونے  کا ذکر  کرتے ہوئے اپنے ہاں جمہوری اداروں اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کی بات کرتے رہتے ہیں۔ اگرچہ بھارتی آرمی چیف نے بھی آزاد کشمیر  پر بھارتی قبضہ قائم کرنے کے لیے کارروائی کا ذکر پارلیمنٹ ہی کے حوالے سے کیاہے لیکن جمہویت کے دعویدار   سوا ارب لوگوں پر مشتمل اٹیمی صلاحیت  کے حامل ایک ملک کا اپنے سے کئی گنا  چھوٹے اور  قلیل وسائل والے ملک کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ کہنا کہ  ’بھارتی پارلیمنٹ کی قرار داد کے مطابق کل  کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ اس لئے اگر پارلیمنٹ کہے گی توبھارتی فوج پاکستان کے زیر انتظام کشمیر  واپس لینے کے لئے کارروائی کرے گی‘  ایک خطرناک  طرز عمل ہے جس کی عالمی سطح  پر مذمت ہونی چاہئے۔ بصورت دیگر ہر ملک ہمسایہ ملک  سے منسلک کسی بھی متنازعہ علاقے کو اپنا قرار دے کر کارروائی کرنے کا عندیہ دے سکتا ہے۔

جنرل  نراوانے کو یہ بات تو  یاد رہی کہ بھارتی پارلیمنٹ نے  کسی قرارداد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیا ہے لیکن وہ اس بات کا ذکر کرنا بھول گئے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں  بھارت خود ہی اس علاقے  بلکہ اپنے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کو  بھی متنازعہ علاقہ تسلیم کرچکا ہے اور یہ وعدہ بھی کرتا رہا ہے کہ  حالات پرسکون  ہونے پر ان علاقوں میں استصواب کے ذریعے کشمیری عوام کو فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی تقدیر کا خود ہی فیصلہ کرسکیں۔

اگست میں بھارتی حکومت نے اپنے تئیں  کشمیر کی ’متنازع‘ حیثیت ختم کرنے کے لئے  ایک طرف کشمیریوں کو حاصل خصوصی مراعات واپس لے لیں تو دوسری طرف ایک قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر کو دو اکائیوں میں بانٹ کر  ریاست کے طور پر اس کی حیثیت ختم کرکے،  اس علاقے کو  وفاق کے زیر انتظام علاقے قرار دیا تھا۔ نریندر مودی کی حکومت شاید اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اس نے  اس طرح  کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ہے۔  حالانکہ ان یک طرفہ اور ظالمانہ فیصلوں سے مودی سرکار نے  ایسی چنگاری   دکھائی ہے جس سے بھڑکنے والی آگ بھارت دیش کے اتحاد اور  نام نہاد  امن و امان کو خس و خاشاک کی طرح جلا کر بھسم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ امر باعث  تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ 5 اگست 2019 کو  مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی مرکزی حکومت کے مسلط کئے گئے فیصلوں کے بعد سے  مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ بند ہے اور شہروں میں مسلسل کرفیو  نافذ رہتا ہے۔ بظاہر اسکول کالج کھول دیے گئے ہیں لیکن ان میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ کاروبار زندگی تقریباً  معطل ہے اور مقبوضہ کشمیر میں  متعین  سات آٹھ لاکھ کے قریب  فوج نے شہریوں کو عملاً اپنے  ہی گھروں ، محلوں اور شہروں میں قیدی بنا  رکھاہے۔ بھارتی حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے نہ تو کشمیر عوام سے  مشورہ کیا اور نہ ہی ان نام نہاد کشمیری لیڈروں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جو بظاہر بھارتی سرکار کے ہمنوا رہے ہیں اور بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کو جائز و درست مانتے ہیں۔

ایک نام نہاد جمہوری ملک  نے   کسی علاقے کے  ڈیڑھ کروڑ کے  لگ بھگ باشندوں  کی مرضی جاننے کا  ناٹک کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی   کیوں  کہ ملک میں ہندو توا کے نظریہ کی بنیاد پر مذہبی عصبیت و منافرت کا ماحول پیدا کرکے  بزعم خویش ہندو آبادی کو ’مسلمان کشمیریوں ‘ کے خلاف  اکٹھا کرلیا گیا تھا۔ تاہم شہریت بل میں تازہ ترامیم پر سامنے آنے والے احتجاج کے بعد اس ہندو اتحاد کا پول بھی کھل گیا ہے۔ بھارتی حکومت مکمل طور سے دفاعی پوزیشن  میں ہے اور اسی کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لئے بھارتی فوج کے نئے آرمی چیف کی پریس کانفرنس کو قومی جذباتیت کا ایک  نیا ماحول پیدا کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ بی جے پی حکومت کی ناکام پالیسیوں کے خلاف  لوگوں کے غم وغصہ کو کم کیا جاسکے۔

یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارتی فوج کے سخت اقدامات کی وجہ سے ابھی تک  مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو اپنی رائے سامنے لانے کا موقع نہیں ملا ہے۔ چھ ماہ سے مواصلات پہ عائد پابندیوں پر اب بظاہر حکومت نواز بھارتی سپریم کورٹ بھی یہ کہنے  پر مجبور ہوگئی ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل  فون کی سہولت بنیادی حقوق کا حصہ ہے۔  حکومت کو ایک ہفتہ کے اندر یہ واضح کرنا ہوگا کہ یہ پابندیاں کیوں لگائی گئی ہیں اور انہیں کیسے ختم کیا جائے گا۔    مواصلت اور آگاہی و شعور کے موجودہ دور میں  کسی  حکومت  کی  طرف سے  کسی علاقے کے بنیادی انسانی حقوق مسترد کرنے پر  ہمیشہ کے لئے پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔ کشمیریوں کو جب بھی موقع ملے گا  وہ پوری طاقت سے مودی حکومت کے ناجائز اور غیر قانونی احکامات کو چیلنج کریں گے۔

بھارتی آرمی چیف    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر بھارتی ملکیت کا دعویٰ کرنے سے پہلے اگر یہ بتا سکتے  تو بہتر ہوتاکہ بھارت نے کشمیر کے جس حصے پر قبضہ کیا ہؤا ہے کیا وہاں پر لوگوں کو مہذب دنیا کے آزاد شہریوں کی طرح رہنے کا حق حاصل ہے؟   گزشتہ  کئی دہائیوں  کے دوران کشمیری عوام پر بھارتی فوج کے مظالم اور غیر انسانی سلوک کے دستاویزی شواہد  اقوام متحدہ کی  رپورٹوں اور  انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں  کے جائزوں  میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایک ایسی فوج کا سربراہ  جس کے لاکھوں  فوجی   ایک کروڑ کے لگ بھگ کشمیریوں کی  زبان  بندی کے لئے  متعین  ہوں، کس منہ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو  ہتھیانے کی بات کرسکتا ہے۔

آزاد کشمیر پر بھارت کا تسلط قائم کروانے  کی خواہش  زمینی حقائق سے  متصادم ہے۔ ایک طرف   مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی قبضے کے خلاف یک زبان ہیں اور بھارتی فوج اس آواز کو دبانے کے لئے ہر ممکنہ استبدادی ہتھکنڈا اختیار کرتی ہے۔ دوسری طرف ایٹمی صلاحیت سے لیس پاکستانی فوج لائن آف کنٹرول پر ایسے بھارتی خواب کو چکنا چور کرنے کے لئے تیار کھڑی ہے۔ نئی دہلی میں بیٹھ کر پاکستان اور چین  کے ساتھ  بیک وقت جنگ کرنے کے خواب بیچنا ایک بات ہے لیکن میدان جنگ میں  کسی دوسرے ملک کی سرحد کے اندر کسی جارحیت کا ارتکاب کرنے کی کوشش کرنا بالکل دوسری بات ہوگی۔ بھارتی حکومت اور فوجی قیادت کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ پاکستان اور چین سے بیک وقت تو کیا  علیحدہ علحدہ بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس کے باوجود نئے بھارتی آرمی چیف کے ذریعے کشمیر کے بارے میں مذموم ارادوں کا اظہار معنی خیز اور خطرناک علامت ہے۔

خاص طور سے  جنرل منوج مکند نراوانے کی طرف سے  پارلیمنٹ کے حوالے سے بات کرنا  معنی خیز ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اگر  پارلیمنٹ  کہے تو بھارتی فوج پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے کارروائی کرے گی۔ بظاہر یہ بھارتی فوج کی جمہوریت پسندی کی علامت ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو ملک کا  فیصلہ کن ادارہ ماننے کا اعلان کررہی ہے۔ لیکن درحقیقت یہ عالمی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کی خطرناک کوشش  ہے۔ کسی بھی ملک کی فوج کسی پارلیمنٹ  کے زیر اختیار نہیں ہوتی بلکہ وہ حکومت کو جواب دہ ہوتی ہے۔ وزیر اعظم ہی فوجی معاملات، اس کو حاصل سہولتوں اور  جنگی صلاحیتوں کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے۔ حکومت کے فیصلوں کی روشنی میں ہی  کسی کمانڈر کو جنگی حکمت عملی بنانا پڑتی ہے۔  جنرل نراوانے نے   پارلیمنٹ کے  فیصلہ کی بات  سادہ لوحی  یا ناسمجھی میں نہیں کی ۔ بلکہ  یہ اشارہ کسی ایجنڈے کا حصہ بھی ہوسکتا ہے۔ تاکہ   فوجی سربراہ حکومت کا  ’پروپیگنڈا   چیف ‘ بن کر   بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی مقاصد کا پرچار بھی کرلے اور بڑی معصومیت سے اس بیان کو پارلیمنٹ کے اختیار سے نتھی کرکے  جمہوری نظام کا نمائیندہ بننے کا ڈھونگ بھی  قائم رکھے۔

دوسری طرف  عالمی اداروں اور طاقتوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف بھارتی دھمکیوں اور جنگ کے دعوؤں والے بیانات کا نوٹس نہ لینے  کی ایک وجہ اگر بھارت  کے ساتھ وابستہ مفادات ہیں تو  دوسری طرف یہ پاکستانی حکومت کی سفارتی ناکامی بھی ہے۔ حیرت ہے  بھارت لائن آف کنٹرول پر جارحیت کے علاوہ نت نئے بیانات کے ذریعے پاکستان کی سالمیت کو نشانہ بنانے کی  دھمکی دیتا رہتا ہے  لیکن ملک کے وزیر خارجہ امریکہ اور ایران  میں صلح کروانے کے مشن پر  پابہ رکاب ہیں۔  وزیراعظم عمران خان کو جنرل نراوانے کے تازہ بیان سے اپنی کمزوری اور بھارتی    ہتھکنڈوں کی ضرر رسانی کا اندازہ کرنا چاہئے۔

بدقسمتی کی بات ہے کہ مقبوضہ کشمیر  کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم کا کھل کر اظہار کیا ہے لیکن  اس دوران پاکستان کی سول و عسکری قیادت آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ پر جگ ہنسائی  کا موجب  بنی  رہی ہے۔   اس سارے عمل نے پوری دنیا  میں پاکستان کے مہذب جمہوری  تشخص کو پامال کیا ہے۔ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی  کی ہلاکت کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نے اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی یا وزیر اعظم عمران خان کو فون نہیں کیا بلکہ جنرل باجوہ کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا تھا۔

پاکستان کو  یہ  اشارے   سنجیدگی سے  سمجھنے  کی ضرورت ہے۔    امریکہ اور دنیا اگر پاکستان میں جمہوری انتظام کو ’ڈھونگ‘ سمجھتی ہے تو یہ عمران خان کے لئے  تو شرم کی  بات ہے ہی، اس سے پاک فوج کے اعزاز میں بھی اضافہ نہیں ہوتا۔ بھارتی آرمی چیف کو پاکستان کے حوالے سے یہ  لغو بیان دینے کا حوصلہ بھی اسی لئے ہؤا ہے کہ  دنیا   پاکستان  اوراس کے مؤقف کو سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1459 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *