قائداعظم کی داڑھی اور ملتان بار ایسوسی ایشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امان اللٰہ خان کے والد اگر تقسیم کے بعد لکھنؤ چھوڑ کر پاکستان نہ چلے آتے تو امان اللٰہ بھی ہندوستانی مسلمانوں کی طرح ایک عام سی زندگی گزار کر اس دنیا سے چلا جاتا۔ پاکستان تو آ گئے لیکن معاشی تنگدستی نے مجبور کیا کہ امان اللٰہ اپنی اہلیہ کو لے کر انگلستان چلے گئے۔ لندن میں کئی روز کی تگ و دو کے بعد بس ڈرائیوری کی نوکری ملی۔ بیوی کو بھی ایک مشہور درزی کے پاس کپڑے سینے کی نوکری مل گئی۔ خدا نے آٹھ بچوں سے نوازا جن میں سے سات بیٹے تھے۔

وقت گزرتا رہا۔ بیٹوں میں سے ایک صادق خان بڑا ہی ہونہار تھا۔ اس نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور مقامی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ قسمت کا پھیر دیکھئے کہ ایک بس ڈرائیور کا بیٹا، جو اس دھرتی کا سپوت بھی نہیں تھا، بلکہ اس کا باپ پاکستان سے آیا تھا، ایک روز لندن کا مئیر بن گیا۔ ٹائم میگزین نے دنیا کے 100 با اثر ترین افراد میں اس کا نام شامل کیا۔ برطانیہ میں ہی ساجد خان وزیرداخلہ بن کر برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہ بن چکے ہیں۔ ان کا تعلق بھی پاکستان سے تھا۔ اپنے چوہدری سرور اور لارڈ نذیر لندن میں لارڈ بنے۔ سعیدہ وارثی بھی برطانیہ میں وزیر بن کر پاکستان کا نام فخر سے روشن کر چکی ہیں۔

ادھر امریکہ میں کئی پاکستانی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ہیلری کلنٹن کے قریبی مشاورتی گروہ میں شامل ہیں۔ کئی باقاعدہ منتخب ہو کر کانگریس کا حصہ بنے ہیں۔ اسی طرح کینیڈا میں کئی مسلمان پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ بھارتی سکھوں کی ایک بڑی تعداد کینیڈا کی پارلیمنٹ اور حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہے۔ کئی یورپی ممالک میں پاکستانی و ہندوستانی شہری محض اپنی قابلیت کے بل بوتے پر پارلیمنٹ پہنچ کر اپنے اپنے ملک کا وقار بڑھاتے رہے ہیں۔ برطانیہ میں ساجد خان وزیراعظم بنتے بنتے رہ گئے اور قرعہ فال بورس جانسن کے نام نکلا۔ بعید نہیں کہ ایک روز برطانیہ کا وزیراعظم کوئی پاکستانی نژاد مسلمان ہو۔

یہاں ایک ثانئے کو رک کر دیکھئے کہ کیا ان مہذب ممالک میں کسی چیز نے مذکورہ بالا افراد کو محنت سے روکا؟ تعلیم سے روکا؟ آگے بڑھنے سے روکا؟ یہ سب وہ لوگ ہیں جو کبھی بھی اپنی شہریت اور مقام چھوڑ کر واپس جا سکتے ہیں۔ جیسے چوہدری سرور لوٹ آئے۔ لیکن اکثریت ایسا نہیں کرتی۔ کیونکہ یہ وہ نظام ہے جو انہیں اور ان کی محنت کو تحفظ دیتا ہے۔ کیا ان میں سے کسی ملک کے آئین میں ایسی شرط ہے کہ غیرملکی نژاد ساری زندگی گزار کر بھی وزیراعظم یا وزیر نہیں بن سکتا؟ کیا کسی شخص کا مذہب اسے انتخاب لڑنے، تعلیم حاصل کرنے یا کسی بھی دوسرے مذہب کے شخص کے مقابلے میں ترقی کرنے سے روکتا ہے؟

چلئے اس کہانی کو یہیں روکتے ہیں اور اپنے خطے اور اپنے ملک کی طرف آتے ہیں۔ کیا ”برادر اسلامی ممالک“ میں سے کسی ملک سے ایسی کوئی خبر سنی آپ نے کہ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر میں کوئی پاکستانی وزیر بن گیا ہو؟ اگرچہ اوورسیز پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد انہی ممالک میں ہے لیکن کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ وہ آپ کو شہریت ہی دے دیں کجا یہ کہ وزیر یا گورنر یا کچھ اور بنا سکیں۔

چلئے ایک اور قدم آگے بڑھیں اور پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ جناح صاحب کے چہرے پر داڑھی سجانے اور پرچم کا سفید رنگ مٹانے کے عظیم مقصد میں پوری قوم جٹی ہوئی ہے۔ جہاں بانی پاکستان نے کہا تھا کہ آپ چاہے مسجد میں جائیں چاہے مندر میں، چرچ میں یا گوردوارے میں، ریاست کا اس سے کوئی سروکار نہیں۔ وہاں ایک فرقے کا شخص دوسرے فرقے کی مسجد میں ہی داخل نہیں ہو سکتا۔ اقلیتوں کے حقوق کی تو بات ہی دوسری ہے۔

ہمارے آئین کے ماتھے پر لکھا ہے کہ کوئی غیرمسلم صدر، گورنر یا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اب ایک غیر مسلم شہری اگر قابل بھی ہو تو ان عہدوں پر نہیں پہنچ سکتا۔ یہ تو ہے عیسائی، ہندو سکھ اور دیگر غیرمسلم اقوام کی بات۔ جب بات احمدیوں کی آتی ہے تو غیرت ایمانی تقاضا کرتی ہے کہ انہیں زندہ درگور کر دیا جائے۔ نہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا جائے، نہ روزگار کا اور نہ ہی کسی اور چیز کا۔

ملتان بار ایسوسی ایشن مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے احمدی امیدواروں کو بار کے انتخابات لڑنے سے روک دیا ہے۔ ناچیز حیران ہے کہ اتنے برسوں سے یہ سب احمدی امیدوار غیر اسلامی طریقے سے الیکشن لڑتے آ رہے تھے اور کسی کے ایمان نے جوش نہیں کھایا۔ کوئی احمدی خواہ بل گیٹس جتنا امیر اور قابل کیوں نہ ہو، وہ کیسے کسی اعلیٰ عہدے پر پہنچ سکتا ہے۔ غیرتِ ایمانی سے سرشار قوم ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی۔

ناچیز اگرچہ اس چیز پر بھی حیران ہے کہ سورج اتنی ہی دھوپ ایک مسلمان اور ایک احمدی یا عیسائی کو کیسے دے سکتا ہے۔ احمدی کی مٹی بھی بالکل مسلمان کی مٹی جیسی گندم کیسے اگا سکتی ہے؟ احمدی کا رنگ روپ، بال اور بول چال ایک مسلمان جیسی کیسے ہو سکتی ہے؟ آخر خدا تو ہمارا ہے، وہ کیوں نہیں روک دیتا بارش کو احمدی پر برسنے سے، سورج کو، چاند کو اور ہر چیز کو احمدی تک پہنچنے سے۔ کاش ایسا ہو جائے تو یہ آپے آپ ہی مر جائیں۔ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔

اب چونکہ ایسا نہیں ہوتا اور قانونِ فطرت ایسی غیرفطری تقسیم پر آمادہ نہیں تو ایسے میں غیور اہلِ ایمان کا فرض ہے کہ آگے بڑھ کر احمدیوں سے ہر وہ حق چھین لیں جو ہمارا مذہب اور آئین بحیثیت اقلیت انہیں دیتا ہے۔ احمدیت فتنہ ہے، اور فتنہ گروں کو جینے کا کوئی حق نہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ چند لاکھ احمدیوں کو مارنے کے لئے کون سا ایٹم بم چاہیے۔ جتنا بے رحمانہ ہمارا رویہ ہے ان کے ساتھ، اب تک تو انہیں شرم سے ہی مر جانا چاہیے تھا۔ لیکن چلو، اس طرح اہلِ ایمان اپنے لہو اور جذبے گرم رکھتے ہیں۔ ملتان بار ایسوسی ایشن ایک بار پھر ہدیہ تہنیت قبول کرے کہ انہوں نے ستانوے فیصد مسلمان آبادی کے ایمان کو چند ہزار احمدیوں کے ہاتھوں یرغمال بنانے سے بچا لیا۔

لاہور میں کمپیوٹرز اور موبائل کی ایک مشہور مارکیٹ ہے، حفیظ سینٹر۔ اس کی انتظامیہ اور دکاندار بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے اپنی دکانوں کے باہر لکھ کر لگا رکھا ہے کہ احمدیوں کا داخلہ منع ہے۔ آخر کو احمدیوں کو کیا حق کہ وہ موبائل خریدیں یا کپمیوٹر کی تعلیم حاصل کریں۔ ملاحظہ ہو کہ یہ تحریر ہاتھ سے نہیں لکھی جاتی، بلکہ یہ باقاعدہ پرنٹ ہوئے سٹیکرز ہوتے ہیں، جس طرح خوش آمدید، دروازہ باہر کھولیں، اور اس نوع کی دیگر تحریروں کے سٹیکرز پرنٹڈ ملتے ہیں، اسی طرح یہ سٹیکرز بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں، اور اب دیگر بازاروں میں بھی نظر آتے ہیں۔

لاہور کا ایک سرپھرا کمشنر تھا، کیپٹن عثمان۔ اپنے زعم میں اس نے آپریشن کر کے یہ سٹیکرز ہٹانے کو کوشش کی، دو دن میں ہی ہڑتال سے آٹے دال کا بھاؤ سمجھ آ گیا۔ یاد نہیں جب انگریز سرکار کے دور میں وی آئی پی جگہوں کے باہر لکھا ہوتا تھا کہ ”کتوں اور انڈینز کا داخلہ منع ہے“ تو کیسا سرکار کا بول بالا ہوتا تھا۔ کسی کمی کمین کو جرات بھی نہیں ہوتی تھی کہ اشرافیہ کے معمولات میں دخل دے۔

جب پاکستان بنا تھا تو اقلیتوں کی آبادی کل آبادی کا تئیس فیصد تھی، آج تین فیصد ہے۔ پاکستان چونکہ ایک تجربہ گاہ کے طور پر بنا تھا، اس لیے انشا اللٰہ ایسے تجربے کرتے کرتے ہم یہ تین فیصد بھی نہیں رہنے دیں گے۔ پھر پورا پرچم سبز ہو گا، اور نوٹ پر قائداعظم کی تصویر بھی داڑھی والی چھپے گی۔

ملتان بار ایسوسی ایشن زندہ باد!

پسِ نوشت: مشاہدے کی بات ہے کہ طنزیہ تحریر عموماً جس طبقے کے لئے لکھی جاتی ہے وہ اسے اپنی تعریف ہی سمجھتا ہے، مبادا یہ کہ کوئی سادہ زبان میں سمجھا نہ دے۔ اب اگر ایسے ہی پڑھے لکھے ہوتے تو تھوڑے سمجھدار نہ ہوتے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *