لاہور ہائیکورٹ نے پرویز مشرف کو سزا سنانے والی خصوصی عدالت ’غیرآئینی‘ قرار دے دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیرآئینی قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر وفاقی حکومت نے خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق سمری اور رکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ مشرف کے خلاف کیس بنانے کا معاملہ کبھی کابینہ ایجنڈے کے طور پر پیش نہیں ہوا، مشرف کے خلاف کیس سننے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر ہوئی۔

وفاقی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے لیے ججز کی تقرری کے معاملے پردوبارہ کابینہ کی میٹنگ ہوئی، 8 مئی 2018 کو خصوصی عدالت کے ایک جج کی تقرری کا معاملہ کابینہ میں زیر بحث آیا، 21 اکتوبر کو جسٹس یاور علی ریٹائر ہو گئے اور خصوصی عدالت پھر ٹوٹ گئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ 18 ویں ترمیم میں آرٹیکل 6 میں معطلی، اعانت اور معطل رکھنے کے الفاظ شامل کیے گئے، اس پر جسٹس مظاہر نے ریمارکس دیے کہ ایمرجنسی تو آئین میں شامل ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایمرجنسی میں بنیادی حقوق معطل کیے جا سکتے ہیں۔

دورانِ سماعت جسٹس امیر بھٹی نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے؟ اگر ایسی صورتحال ہو جائے کہ حکومت ایمرجنسی لگا دے تو کیا اس حکومت کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ چلے گا؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے تحت ایسا کیا جا سکتا ہے، جس پر جسٹس مظاہر نے وفاق کے وکیل سے استفسار کیا کہ تو پھر آئین سے انحراف کیسے ہو گیا؟ جسٹس مظاہر اکبر نے کہا کہ ایمرجنسی لگائی جائے گی تو پھر اس کا تعین ہوگا کہ کیا ایمرجنسی آئین کے مطابق لگی یا نہیں، سلسلہ چل گیا تو جس کو جو چیز مناسب لگے گی وہ وہی کرے گا۔

 ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 6 میں آئین معطل رکھنے کا لفظ پارلیمنٹ نے شامل کیا۔ جسٹس مظاہر نے ریمارکس دیے کہ آپ نے 3 لفظ شامل کرکے پورے آئین کی حیثیت کو بدل دیا، اس کے ساتھ ساتھ آپ نے ایمرجنسی کو شامل رکھا ہوا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا کہ فیصلے کا انتظار کیا جائے۔

یاد رہے کہ خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *