مظفر گڑھ تا میانوالی: خونی شاہراہ اور حکمران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ منظر ایسے ہوتے ہیں جو ماہ و سال کے بدلنے کے باوجود جوں کے توں رہتے ہیں۔ ایک ایسا ہی منظر مظفر گڑھ سے لے کر میانوالی اور اس سے آگے بلکسر چکوال کی شاہراہ کا ہے۔ عشرے بیت گئے لیکن اس شاہراہ کا مقدر نہیں بدل سکا۔ دو عشرے قبل جب کراچی کو اپنا ٹھکانہ بنایا تو بذریعہ سڑک اپنی جنم بھومی میانوالی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ آج سے بیس برس ہیڈ پنجند سے مظفر گڑھ اور وہاں سے میانوالی تک کا سفر جس اذیت کا نام تھا اس کی شدت میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔

سکھر ملتان موٹر وے کے بن جانے سے ہیڈ پنجند سے مظفر گڑھ تک کا تکلیف دہ اور پر خطر سڑک سے جان چھوٹی لیکن مظفر گڑھ سے لے کر میانوالی اور اس سے آگے بلکسر ضلع چکوال کا سفر ایسا تکلیف دہ ہے کہ مسافروں کے دل اور حلق سے حکمرانوں کے لیے صلواتیں ہی نکلتی ہیں۔ بیس برسوں سے زائد عرصے تک میں ملک اور صوبہ پنجاب میں کئی حکمران آئے اور قصہ ماضی بن گئے لیکن اس شاہراہ کی قسمت نہیں بدل سکی کہ جو مظفرگڑھ، لیہ، بھکر، میانوالی اور چکوال کے اضلاع کے باسیوں کے لیے کراچی اور راولپنڈی کی جانب سفر کے لیے اکلوتی شاہراہ ہے لیکن اس کی حالت ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بد سے بد ترین ہوتی چلی جا رہی ہے۔

چند روز قبل بذریعہ سڑک اسی شاہراہ سے گزر کر میانوالی آنا ہوا تو ایک بار پھر یہ سفر اذیت سے خالی نہ تھا۔ ان سرد راتوں میں ایک طرف دھند کے حملے نے چند میٹر سے آگے کی ہر شے کو نظروں سے اوجھل کر دیا ہے تو دوسری جانب اس سڑک کی بدترین حالت نے سفر کو دوبھر کر دیا۔ مظفر گڑھ سے لے کر میانوالی تک اس قومی شاہراہ کی حالت اس قدر خستہ اور خراب ہے کہ اس پر سفر کرنے سے دل میں ہول اٹھتے ہیں۔ تاہم ان اضلاع کے باسیوں کے پاس اس شاہراہ پر سفر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں جب انہیں کراچی یا راولپنڈی کی جانب عازم ہونا ہوتا ہے۔

جب وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو ان دنوں بسلسلہ روزگار کچھ سال اسلام آباد میں قیام تھا۔ ان اضلاع کے ایم این اے ایز حضرات سے رابطہ رہتا تھا۔ کئی بار انہیں اس اہم قومی شاہراہ کی حالت زار کے بارے میں توجہ دلائی۔ بھکر سے منتخب ہونے والے سابقہ ایم این اے عبد المجید خانان خیل سے ایک بار اس شاہراہ کے سلسلے میں بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ اس سڑک کی حالت نہایت خراب ہے لیکن یہ پنجاب حکومت کے زیر انتظام شاہراہ ہے اور وہی اس سلسلے میں کچھ کر سکتی ہے۔

شریف برادران کی مرکز اور پنجاب میں حکومت قائم ہوئی تو امید جاگ اٹھی کہ شاید ان کے دور میں یہ شاہراہ تعمیر ہو جائے۔ شریف برادران کو ملک میں موٹر ویز کا جال پھیلانے کا جنون تھا اور ان کے دور میں ملک کے مختلف حصوں میں موٹر ویز بنیں۔ تاہم شریف برادران ان اضلاع کو شاید پنجاب کا حصہ نہیں سمجھتے اس لیے ان کی نظر التفات ان اضلاع پر کم ہی پڑی۔ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں ان اضلاع کے لیے کوئی خاطر خواہ رقم نہیں رکھی گئی اور اس اہم قومی شاہراہ کو بھی نظر انداز کر دیا گیا کہ ہیوی ٹریفک اور پبلک ٹرانسپورٹ کی تیز رفتار بسوں کی گزرگاہ کو بھی کوئی توجہ دی جائے۔

بلا مبالغہ بلکسر سے لے کر مظفرگڑھ تک سینکڑوں حادثات میں ان گنت قیمتی انسانی جانیں تلف ہو گئیں لیکن لیکن اس شاہراہ کو دو رویہ بنانے یا اسے موٹر وے نہیں تو کم از کم ہائی وے بنانے کا کوئی منصوبہ بروئے کار نہیں لایا گیا۔ شریف برادران قصہ پارینہ ہوئے تو عمران خان کے سر پر اقتدار کا ہما بیٹھا۔ ان کا تعلق میانوالی سے ہے جو اسی شاہراہ کے رستے پر آتا ہے اور عمران خان کا معروف نمل کالج بھی اس شاہراہ پر واقع ہے۔

پنجاب میں وزرات اعلیٰ جنوبی پنجاب سے منتخب ہونے والے عثمان بزدار کے حصے میں آئی۔ امید نے ایک بار پھر انگڑائی لی کہ اب ان اضلاع اور خاص کر اس شاہراہ کی تعمیر کو بھی لائق توجہ سمجھا جائے گا۔ ایک روز معروف صحافی رؤوف کلاسرا نے یہ انکشاف کیا کہ عثمان بزدار نے انہیں اس شاہراہ کی تعمیر کے سلسلے میں خوشخبری سنائی ہے۔ شاید یہ ایک سال پہلے کی بات ہے تاہم یہ فقط خوشخبری ہی رہی کیونکہ اس کے بعد کوئی ایسا اعلان سننے میں نہیں آیا کہ اس شاہراہ کی تعمیر کے سلسلے میں کیا اقدامات اٹھائے گئے اور اس کے لیے کتنے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

ضلع لیہ کے باسی ہمارے کالم نگار دوست خضر کلاسرا بھی بارہا اس شاہراہ کی خستہ حالی اور اس پر آئے روز ہونے والے حادثات کو موضوع سخن بناتے رہتے ہیں۔ ان کے قلم نے کئی بار ارباب اختیار کی توجہ اس اہم شاہراہ کی جانب مبذول کرائی لیکن بے حسی اور مجرمانہ خاموشی کا جیسے اقتدار کے ایوانوں میں پہرہ ہو کہ آج تک سلسلے میں کوئی اقدام بروئے کار نہیں لایا گیا۔ سب سے افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا تعلق پسماندہ ضلع میانوالی سے ہے اور ان کے نمل کالج کے پاس سے گزرتی اس شاہراہ کی خستہ حالی سے ان کے کان پر بھی جوں نہیں رینگتی۔

انہیں شاید اس شاہراہ پر سفر کیے ہوئے عرصہ دراز ہوگیا ہو کیونکہ اقتدار سے پہلے وہ پرائیویٹ ہیلی کاپٹر اور وزیراعظم بننے کے بعد سرکاری ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے کی وجہ سے اپنے حلقے سے گزرتی اس اہم قومی شاہراہ کی زبوں حالی سے ناواقف ہیں۔ عمران خان شاید اس لیے بھی اس شاہراہ پر توجہ نہیں دے رہے ہوں کہ بقول ان کے سڑکوں کی تعمیر سے قومیں نہیں بنتیں۔ لیکن ہمیں یہ پتا ہے کہ خستہ حال سڑکوں پر وہ حادثات جنم لیتے ہیں جن میں قوم کے نوجوان، بچے اور بوڑھے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جو حکمران طبقے سے تعلق نہیں رکھتے اس لیے تو ان کے مسائل کبھی ارباب اختیار کی چشم التفات میں نہیں ٹھہرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *