نفسیاتی مریض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ پری چہرہ نجانے کب سے سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر سلیقے سے سجی ہوئی ان ہری چوڑیوں کو دیکھا جنھیں شیراز بڑے چاؤ سے اس کے لیے خرید کر لایا تھا۔

اس کے نکاح میں گزارے گئے حسین لمحات کسی فلم کے منظر کی طرح اس کی بند آنکھوں میں در آئے تھے۔

وہ معمول کے مطابق کچن میں کام کرنے میں مشغول تھی۔ جب شیراز کے قدموں کی آواز اور چوڑیوں کی کھنکھنآہٹ کے ساتھ اسے شیراز کی موجودگی کا احساس ہوا تھا اس نے بغیر پلٹے کہا تھا آج پھر ہری چوڑیاں لے کر آئے ہو شیراز

جی جانِ شیراز!

”ہر بار ہری چوڑیاں دیکھنے کے بعد مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ چوڑیاں صرف تمہاری کلائی کے لئے ہی بنی ہوئی ہیں۔ تمہاری کلائی کی نازکی ہربار ان کانچ کی چوڑیوں کو دیکھتے ہی میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگتی ہے“

علیزے کی آنکھوں سے پگھلنے والے آنسو اتنے سرد موسم میں بھی اس کے گالوں کو سلگارہے تھے۔ ماضی کی یادیں کسی عذاب سے کم تو نہ تھی مگر پھر بھی وہی اس کی متاع حیات تھیں۔

اس نے کافی کا سپ لیا وہ بھی ٹھنڈی ہوجانے کی وجہ سے اس کی زندگی کی طرح بدمزہ اور بد ذائقہ ہوچکی تھی۔

ساتھ جینے مرنے کی قسم کھانے والوں کے حصہ میں نہ جانے کیوں ہجر کی بے موسمی بارشیں تنہائیوں کے عذاب سمیٹ کر لاتی ہیں۔

اسے ماضی کے جھروکوں سے یاد پڑتا تھا کہ اس نے محبت کے لئے انسان کا نہیں ایک بھیڑیے کا انتخاب کیا تھا۔ جس کا پسندیدہ رنگ سیاہ تھا، مگر اس نے انہیں بوسیدہ خیالات اور تصورات کے ساتھ اس بھیڑیے کی زندگی میں محبتوں کی قوس وقزح بکھیر دی تھی۔ وہ چھت پر بیٹھ کر اس کی من گھڑت کہانیوں کو نہایت توجہ سے سنتی رہتی تھی اور پھر رات کی آخری پہر میں چاند کا ذکر ہوتا تھا۔ اور سورج نکلنے تک نہ جانے کتنی بار روٹھنے، منانے کا دور چلتا تھا۔

وہ تمام لمحے جو خوشیوں کا لبادہ اوڑھ کر ماضی کی شکل میں اس پر بیت چکے تھے اب کسی جوان بیوہ کی طرح رات کے آخری پہر میں بال کھول کر تخیلاتی دنیا میں انہیں پھر سے جلا بخشتے تھے۔ اور جیسے ہی وہ اپنی تخیلاتی دنیا سے باہر آتی تھی اسی ماتم اور آہ و زاری کا سلسلہ آنسوؤں کے سیلاب کی صورت میں اس پر پھر سے اسی تازگی اور مہک کے ساتھ وارد ہوجاتا تھا۔ مگر گزرتے وقت نے اسے نہایت مضبوط کر دیا تھا۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھی کہ انتظار کے بستر سے ہجر کی کرچیاں سمیٹتے ہوئے، بدن سے اٹھنے والی بے آواز آہیں اور سسکیاں روحوں کے پردے ادھیڑ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اندر کی چیخوں نے اس کی سماعتوں پر اس قدر ظلم کیا تھا کہ اپنی سانسوں کی آواز بھی اب تو ناگوار گزر رہی تھی۔ اس نے پھیکی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائی اور کروٹ لے کر آنکھیں موند لیں۔

علیزے تم بات بات پر اتنا مت رویا کرو۔

اسے یوں محسوس ہوا کہ شیراز نے اس کے کانوں میں آج پھر سرگوشی کی ہے۔

نیند اب کوسوں دور جا چکی تھی اس نے اپنی ڈائری کھولی اور اپنی کیفیات اور جذبات اس میں تحریر کرنا شروع کر دیے

لطفِ غم محض اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک ہم اس باڑکو اپنے اندر جمع کرتے رہتے ہیں جیسے ہی آنکھوں کے رستے بے رنگ آنسووُں کی صورت میں یہ جذبات روح کے پردوں کو ادھیڑ کر باہر آنا شروع کردیں نہ صر ف جذبات کی شدتوں میں کمی آتی ہے کے بلکہ اس کے تمام ذائقے بھی پھیکے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔

آنسو اس کی آنکھوں سے موتیوں کی لڑی کی طرح ٹوٹ کر ڈائری کے پنوں میں جذب ہو رہے تھے ڈائری کے ورق سمیت کمرے کا تمام منظر دھندلا چکا تھا۔ اس نے اپنے لکھے ہوئے الفاظ کو کئی بار پڑھا۔

اگر تم اس بات سے واقعی واقف ہو تو پھر کیوں وقت بے وقت آنسو بہاتی رہتی ہو کیا تم اس جذبات کی شدت تو میں کمی لانا چاہتی ہوں یا میری محبت سے دستبرداری کا عہد کر چکی ہو؟

اسے آئینے میں شیراز کا ہیولا نظر آیا تھا جو اس کے ساتھ ہی باتیں کرنے میں مصروف تھا۔

وقت کے ٹل جانے اور گزر جانے کے فرق کو کون نہیں جانتا شیراز؟

کتاب زندگی میں وقت کبھی اتنی آسانی سے ماضی نہیں بنتا۔ وہ اپنے تمام خوشنما رنگوں، ۔ لوگوں کے کڑوے کسیلے رویوں کی سختی اورحالات کے گرم، سرد تھپیڑوں کے جوبن دکھا کر۔ اپنی تمام اداؤں کے ساتھ ہم پر بیتتا ہے پھر جاکر وہ ماضی بننے کے لائق ہوتا ہے۔ اور میں اسی وقت کو ٹالنے کے لیے انسووُں کا سہارا لے رہی ہوں۔ تم مجھ سے میری محبت کی اتنی بڑی قیمت مت مانگو۔ تم جانتے ہو کہ میں تمہیں چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکتی۔ جانتی ہوں زندگی کے موڑ پر ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب میں اپنے تمام آنسو کھو دو گی اور میں اس وقت کو جلدی لانا چاہتے ہوں۔

کمرے میں سورج کی تیز روشنی کھڑکی کے راستے اس کی آنکھوں کے پپوٹوں میں سرائیت کر رہی تھی سائیڈ ٹیبل پر کافی کا آدھا مگ بدستور پڑا تھا۔

ڈائری میں لکھے گئے الفاظ جو اس کے آنسوؤں کی وجہ سے پگھل چکے تھے رات کو اس پر بیتنے والی کیفیت کے گواہ تھے۔

اس نے آنکھوں کے دریاؤں پر درد کے پل باندھ لیے تھے۔ آخر دنیا داری بھی تو کسی شے کا نام ہے۔

اس کا جسم اس تماشے سے بیزار ہو کر اپنا آپ چھوڑ چکا تھا ہر وقت یادوں کی آگ میں جلنا اک عذاب مسلسل کے سوا کچھ بھی نہیں۔

آج پھر اس کی ڈاکٹر کے ساتھ اپوائنٹمنٹ تھی۔ وہ اپنی انگلیوں پر سالوں کو گن رہی تھی صدیوں پر محیط سال۔

نہ جانے اس کے حصے کی کتنی زندگی اور جدائی کا عذاب باقی تھا، جسے اسے ہر صورت کاٹنا ہی پڑنا تھا اس منحوس دن کو چھ سال گزر چکے تھے۔ جب شیراز ایک ٹریفک حادثے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

اور وہ چھ سال سے اس ڈاکٹر کے پاس نفسیاتی علاج کروانے کے لیے آ رہی تھی۔ یہ ڈاکٹر علاج اس کے جسم اور دماغ کا کر رہا تھا مگر وہ یہ بات اچھے طریقے سے جانتی تھی کے عارضہ دل کا ہے۔ وہ تو ہر رات آنسوؤں کے سمندر کو کبھی آنکھوں کے پردے ادھیڑ کر تو کبھی اپنے اندر جذب کر کے درد کے سمندر میں پھینکتا جارہا تھا اور یہ بیوقوف سماج ہے کہ افاقہ نہ ہونے کا شور مچائے رکھتا ہے۔

آج ڈاکٹر سے ملنے کے بعد اس نے عہد کیا تھا کہ وہ دوبارہ اس کلینک پر نہیں آئے گی۔

وہ ساحل سمندر پر ننگے پیر کھڑی سمندر کی لہروں کی اضطرابی کیفیت کو دیکھ کر لطف اندوز ہو رہی تھی۔ لہروں سے اٹھنے والا شور عجب قسم کا سرور پیدا کر رہا تھا۔

اس کی روح خاموش تماشائی کی طرح اس وجود سے رہائی کی طلبگار تھی، جہاں شاید شیراز کی روح اپنا گھر بنا چکی تھی بھلا ایک وقت میں دو روحیں ایک جسم کی کیسے مکین بن سکتی ہیں۔

یادیں دفنانے کے لئے یہ سمندر نہایت موزوں جگہ تھی۔ علیزے نے کدال کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا۔ وہ تمام خطوط، تصویریں اور تحائف جو کسی بھی طور پر اس کا تعلق شیراز سے ختم ہونے ہی نہیں دے رہی تھیں، اب مٹی تلے دفنائے جانے کے عمل سے گزر رہی تھیں۔ وہ نہ جانے کتنے گھنٹوں سے قبریں کھود کر یادیں دفنائے جا رہی تھی۔ وہ سمندر کے کنارے تھی جہاں پر جگہ کی قلت کا کوئی سوال ہی نہ اٹھتا تھا۔ دل کا وہ ٹکڑا جس میں شراز کی یادوں نے گھر کر لیا تھا اس میں سے خون ننھے قطروں کی شکل میں رسنا شروع ہوچکا تھا اس کی پاکیزہ روح نے یادوں کے تمام نقوش کو اس کے خون سے قلمبند کرنا شروع کر دیا تھا۔

مٹی کی چھوٹی چھوٹی قبریں جس میں علیزے نے یادوں کو دفنایا تھا، انہیں سمندر کی ایک تیز لہر اپنے ساتھ بہا کر لے گئی تھی۔

علیزے کو سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی تھی اسے لہروں کے پار شیراز کا وجود نظر آرہا تھا۔ موت کی ہچکی نے اس کی روح کو جسم کی قید سے آزاد کروا دیا تھا۔ علیزے کے آس پاس لوگ جمع ہونا شروع ہو چکے تھے وہ اس کی پہچان تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس کے پرس سے ایک مشہور سائیکالوجسٹ کی پرچی نکلی تھی۔ جہاں پر اس کے نام کے آگے بیماری کی تشخیص والے خانے میں نفسیاتی مریض لکھا تھا۔

سمندر کی لہروں میں موجود شیراز اور علیزے کی روحیں اپنے ملاپ اور جسم سے قید کی آزادی کا جشن منانے میں مصروف تھیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وجیہہ جاوید کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *