ڈاکٹرعمران فاروق کی ڈائری سے ایک ورق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ زندہ تھے اور آخری سانسیں لے رہے تھے۔ سیڑھیوں پہ ایک جانب ڈبل روٹی کی تھیلی پڑی تھی جو یقیناً قاتلوں سے گتھم گتھا ہونے پر ہاتھ سے چھوٹ کر گری ہوگی۔

وہ مرتا ہوا انسان ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق تھے۔ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا، پھپڑوں میں خون جا چکا تھا۔ چاقو کے وار سے چہرہ زخمی تھا۔ ایک چاقو سینے میں پیوست تھا جس کا دستہ ٹوٹ چکا تھا جو قاتلوں نے پودوں میں پھینک دیا تھا۔ ڈاکٹرصاحب اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔ ایم کیو ایم کو ایک دھچکہ لگا اس سے بڑا دھچکا ان کے خاندان کو لگا جو کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ برسوں غائب کئے جانے اور پھر بحفاظت بغیر کسی کاغذی کارروائی کے ملک سے زندہ لندن منتقل ہونے کے باوجود موت انہیں آ دبوچے گی۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے بقول اگر ان کی موت واقع ہوجاتی ہے تو اس کے ذمہ دار ایم کیو ایم کے لیٹرز ہوں گے۔ انہوں نے اپنے قلم سےکسی کا نام تو نہیں لکھا لیکن انہیں شکائت لندن کی رابطہ کمیٹی سے تھی۔ وہ لندن سیکرٹیریٹ جانا چھوڑ چکے تھے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ان کا بیٹا بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں ایڈمٹ تھا جس کی وجہ سے انہوں نے لندن سیکرٹیریٹ جانا ترک کیا۔ اب جب کراچی سے رابطہ کمیٹی کسی کام کے لئے لندن سے رابطہ کرتی تو اجازت لینے کے لئے ڈاکٹر صاحب موجود نا ہوتے۔ ان کی مسلسل غیرحاضری کی وجہ سے انہیں معطل کردیا گیا۔

کوئی کارکن ایجنسیوں کے پاس سے زندہ برآمد ہو جائے تو وہ مشکوک ہو جاتا ہے کیونکہ ایجنسیاں یا تو پولیس رینجرز کے حوالے کرتی ہیں یا پھر انجام پر پہنچاتی ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب زندہ سلامت لندن سے برآمد ہوئے۔

اب جبکہ وہ لندن میں قتل کر دیے جاتے ہیں تو سب ہی انگشت بدندان رہ گئے۔

سکارٹ لینڈ کی تفتیش کے مطابق ان کے قاتل فرار ہو کر پاکستان آگئے اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کے پاس ہیں۔

اب ہم ایک نظر پاکستان میں ایم کیو ایم کے مقام پہ ڈالتے ہیں یہ پارٹی بڑی تیزی سے پروان چڑھی۔ اس کی شاخیں کراچی سے نکل کر بلوچستان خیبر پختون خوا اور پنجاب تک پھیلنا شروع ہوئیں۔ مہاجر تعداد کے حساب سے بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں کم ہیں۔ لیکن پنجاب میں مہاجر کافی تعداد میں ہیں اور اس وقت سے ہیں جب ہندوستان تقسیم ہوا تھا۔

ایم کیو ایم پنجاب میں پنپنے لگی۔ اور جب ایسا ہوا تو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ سے یہ برداشت نا ہوا۔ انہوں نے مہاجروں کے گڑھ کراچی میں ایسے حالات پیدا کرنا شروع کردیے جس سے ایم کیو ایم کی ساکھ کو نقصاں پہنچا۔ ایم کیو ایم کے باشعور سپورٹرز کو دیکھ کر یہ فکر لاحق ہوئی کہ یہ ستر سال سے رائج نظام کو پلٹ دے گی لہذا اس کے قائد کو اتنا گرا دو، ایسے ایسے الزام لگاؤ کہ دنیا اس جماعت کو قاتل جماعت سمجھنے لگے۔ اس مقصد کے لئے الطاف حسین کی تقریروں پہ پابندی لگائی گئی انہیں ٹارگٹ کلر اور بھتہ خور مشہور کردیا گیا۔ ان کا ووٹ بینک توڑ نے کے لئے کارکنوں کو شہید کیا، انہیں جیلوں میں ڈالا، معاشی زندگی تنگ کردی گئی۔ غرضیکہ الطاف حسین سے پیچھا چھڑانا مقصد تھا۔

اس خواہش کو پایہ تکمیل پہچانا کتنا آسان ہوجاتا اگر عمران فاروق کے قبل از مرگ بیان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قاتلوں کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے حوالے کر دیتے اور سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس ان قاتلوں سے جب تفتیش کرتی تو قائد کے خلاف بھی کیس بن جاتا۔

ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔ جی ہاں ایسا اس لیے نہیں کیا گا کہ جن لیڈران کا ذکر ڈاکٹرعمران فاروق نے اپنی ڈائری میں کیا تھا وہ اس وقت ایم کیو ایم کی ٹولیاں بنائے بیٹھے ہیں۔ وہی لیڈران جو لاء انفورسمنٹ اداروں کے ساتھ مل کر کراچی شہر کو لاشیں تحفے میں دیتے تھے، بھتہ وصولتے تھے، جس بھتے کے ادا کرنے کی سزا آج میں اور میری طرح بےشمار خاندان بھگت رہے ہیں۔

پانچ سال پہلے تک الطاف حسین کے لئے یہ مشہور کردیا گیا تھا کہ وہ اتنے کمزور اور لاغر ہوچکے ہیں نشہ کرنے کی وجہ سے کہ ٹوتھ پیسٹ سونگھتے ہیں اور اب سارے کراچی کا ملبہ ان پر ڈال کر بیٹھ گئے۔

یہ ادارے جو کارکنوں اور حامیوں کو زیر عتاب لاتے ہیں چاہتے تو قصہ ایک بار میں ختم ہوجاتا لیکن جیسے ایم کیو ایم کے ٹول ےبنائے گئے ہیں ان میں سے ایک عسکری دھڑا تمام کارناموں میں ایم کیو ایم کا شریک رہا ہے۔ بھتے میں شراکت دار رہا جس کے بل بوتے پہ کراچی میں بادشاہت کی اس ٹولے نے اور مہاجروں اور الطاف حسین کی ساکھ خراب کی۔

اب اس کیس کو ختم ہوجانا چاہیے کیونکہ ہر باشعور انسان کی سمجھ میں یہ بات آچکی ہے کہ کراچی جو معیشیت کا گڑھ ہے اس پر قبضہ کون کرنا چاہتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی موت ایک بہت بڑا نقصان ہے ان کے گھر والوں کے لئے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ان کی موت سے ایم کیو ایم کو کوئی نقصان پہنچایا جا سکا کیونکہ الطاف حسین آج بھی وہیں ہے جہاں پہلے تھے۔ مہاجروں کی نظر میں ان کا مقام وہی ہے۔ ہاں وہ لوگ جو اب شادی ہال نہیں بنا پا رہے، ڈیفنس میں گھر نہیں لے سکتے، ایک پاؤں پاکستان اور ایک پاؤں امریکہ میں نہیں ہے اب۔ پرچے پاس کرانے کے پچاس پچاس ہزار نہیں لے پا رہے، انہیں ضرور نقصان اٹھانا پڑا۔

گہیوں کے ساتھ کھن تو پستا ہی ہے سو ہم پس رہے ہیں۔ اور کب تک پسے گے، اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ بس اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس گھناؤنی سیاست سے ہمیں محفوظ رکھے۔

اللہ پاک ڈاکٹر عمران فاروق کی مغفرت فرمائے۔ بےشک ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ڈاکٹرعمران فاروق کی ڈائری سے ایک ورق

  • 18/01/2020 at 9:17 am
    Permalink

    Very good

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *