جلیل صاب، بہاری چپراسی اور ذلیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جلیل صاحب کو جیسے ہی بڑا عہدہ اور نئی گول گول گھومنے والی کرسی ملی تو اس کا منہ دوسرے دن ہی اتر گیا۔ وجہ یہ تھی کہ اس کے دونوں چپراسی بہاری تھے جو اس کا اچھا خاصا نام ملیا میٹ کرکے ہر جگہ رٹ لگا کر یوں گویا ہوتے کہ:

”ذلیل صاب نے فلاں کام دیا ہے۔ “

”ذلیل صاب کے ہُواں جا ریا ہوں۔ “

”ذلیل صاب نے پھُلاں پھائیل بولا ہے۔ “

”ذلیل صاب یوں ذلیل صاب ہوں۔ “

اور جلیل صاحب اپنا ماتھا پسینے سے خشک کرکے زندگی میں سب سنی ہوئی گالیوں کو عملی جامہ دینے کا سوچتے رہتے۔ دونوں کو پہلے پہل بڑا سمجھایا، انہیں کاغذ پر اپنا نام ”جلیل احمد“ لکھ کر بھی دیا، قریبی دوست جس سے چارج لی تھی اس سے بھی کہلوایا لیکن بہاری مجال جو ٹس سے مس ہوئے۔ اوپر سے بولنے لگے : ”ارے صاب ہم تو ٹھیک بولا ہے، آپ کا نام آپ کے ابا نے ٹھیک ذلیل احمد ہی رکھا ہے۔ “

اور جلیل صاحب بھنا کر رہ جاتے۔

کہ اچانک آغا صاحب جلیل صاحب کے پاس ایک دن یوں ہی چکر لگانے آئے، باتوں باتوں میں جلیل صاحب نے اپنی پریشانی کا بتایا کہ: ”آغا اب تو ذلیل ہو کر رہ گیا ہوں۔ کیا کروں میں۔ احمق بہاری سمجھتے ہی نہیں۔ “

آغا صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور بولے : ”یہ کوئی مسئلہ نہیں تم ایسا کرو کہ خود کو آپ ہی ذلیل کر دو۔ دیکھنا یہ تمہارا نام ٹھیک پکاریں گے۔ “

”وہ کیسے؟ “ جلیل صاحب تیور بدل کر بولے

”ایسا کرو، انہیں بلاؤ۔ اور میرے سامنے کاغذ پر اپنا نام“ ذلیل ”لکھو۔ اور انہیں بتاؤ کہ یہ میرا نام ہے۔ “

”ابے چپ۔ بکواس کر رہے ہو۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی۔ یعنی میں خود اپنا نام ذلیل بتاؤں؟ ابے تجھے کوئی حیا شرم ہے؟ “

”اؤ میرے بھائی تم کرکے دیکھو تو۔ “ آغا جی کی ضد اور یقین نے جلیل صاحب کا حوصلہ بڑھایا۔ چائے منگوانے کے بہانے دونوں بہاریوں کو بلایا گیا اور جلیل صاحب نے انہیں ہاتھ جوڑ کر کہا:

”بھائی لوگو! اب تک آپ میرا نام بگاڑ کر پکار رہے تھے۔ اصل میں میرا نام یہ ہے۔ جلیل صاحب نے کاغذ پر اپنا نام ذلیل لکھ کر انہیں دکھایا۔ “

وہ سٹپٹا گئے۔ اپنے ہاتھ کانوں پر رکھ کر چیخ اٹھے : ”ہائے اللہ! یہ کیسا باپ ہے آپ کا، جس نے آپ کا نام جلیل رکھا ہے۔ توبہ توبہ۔ “

جلیل صاحب نے جیسے ہی بہاریوں کے منہ سے اپنا نام ٹھیک ٹھیک سنا تو مارے خوشی کے اس کی آنکھوں میں پانی آگیا۔

بہاری سوچنے لگے : ہائے بیچارہ۔ اب رونے کا کیا پھائدہ۔

اور پھر ہُوا کیا کہ بقیہ دن دونوں بہاری دبے ہونٹ مسکرا کر کہتے جلیل صاب کا کام ہوا؟ جلیل صاب آئے ہیں؟ جلیل صاب یہ جلیل صاب وہ۔

پتہ نہیں کیوں مجھے جلیل صاحب کے ساتھ ہونے والے اس واقعہ کا اثر بہت بیٹھ گیا ہے۔ زندگی میں اٹھتے بیٹھتے، ہر مکتبہِ فکر میں جلیل صاحب کی یہ درگھٹنا نظر آتی ہے۔ ایک حرف بدل کیا جاتا ہے ہستی کی تمام صفات پر پانی پھر سا جاتا ہے۔ اور یہ انفرادی طور پر ہی کیوں، مجھے تو ہر جگہ یہی نظر آ رہا ہے۔

یہی بات آج کل پاکستانی سیاست میں میں ہوتے دکھائی دے رہی ہے، لیکن کاش اس الٹ پلٹ میں کوئی آغا مل جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *