غیر سیاسی کالم، یا خدا بارش نہ ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اف اس قدر ٹھنڈ۔ انگلیاں ٹھنڈی برف جیسے منجمد۔ ٹانگیں جب تک لحاف میں نہ گھسیڑ لو تب تک یخ بستہ۔ نہاتے ہوئے دراوزے تلے کی ریخ سے سرد ہوا کا جھکڑ نما جھونکا پورے ننگے بدن کو کمزور ٹہنی کی مانند ہلا کے رکھ دے۔ ماگھ اتنا سرد بھی ہوتا ہے، کم از کم مجھے پہلی بار ایسے لگا ہے۔ جب اس آبائی گھر میں رہتے ہوئے چھوٹے تھے تب نہانا دھوپ نکلنے سے بندھا ہوتا تھا یا کچے گھر میں دہکتے کوئلوں بھری انگیٹھی دھری جاتی تھی۔

پھر ویسے بھی بچے تھے جنہیں موسموں کی شدت کا اثر کم محسوس ہوتا ہے۔ اب بڑھاپا ہے۔ وسائل بھی جیسے کیسے ہیں البتہ کل ایک باذوق متمول گھر میں گیا جہاں شمسی توانائی کا خاطر خواہ انتظام تھا جس کے ذریعے مبدل ایرکنڈیشنر سے آتی نیم گرم ہوا نے مہمان خانے کے موسم کو معتدل کیا ہوا تھا۔ ایسے لگا جیسے روس کے کسی گھر میں پہنچ گیا ہوں جہاں جاتے ہی، اوپر کا گرم ملبوس بشکل جیکٹ، اوورکوٹ اتار دینا ہوتا ہے مگر ایسا نظام مرتب کرنے کو یک مشت پانچ سات لاکھ روپے، پھر مناسب تعمیر کردہ گھر اور ایرکنڈیشنرز وغیرہ خرید کے نصب کروانے کی استطاعت تو سبھوں میں نہیں ہوتی نا۔

آبادی کے جس حجم کے قصبے میں میں ‌ ہوں، وہاں بڑھتی ہوئی آبادی کے تحت تعمیرات دور دور تک پھیل چکی ہیں مگر نکاسی آب کا نظام وہی ساٹھ برس پہلے والا ہے۔ مدت مجھے اس لیے بھی یاد ہے کہ جب ہماری گلی میں ‌ پہلی بار پکی بدرو بنائی جا رہی تھی کہ میں نے راج مزدوروں کی فرمائش پر والد صاحب کے زیر استعمال حقہ تازہ کروا کے دروازے سے نکال کے باہر لے جانا چاہا تو لوہے کی پتریوں سے مزین چلم پر مڑھی لوہے کی خوب گرم ہو چکی پتریاں میرے قمیص سے عاری شکم سے مس ہو گئی تھیں، اس انسان نوازی کا نشان آج تک میرے بدن پر کندہ ہے تب میں آٹھ نو برس کا تھا۔

اب جب بارش ہوتی ہے تو گندے پانی اور غلاظت کی مقدار بہنے سے رک جاتی ہے۔ نالیوں سے باہر نکلا گندا اور رقیق پانی نہ صرف یہ کہ جب تک سارے شہر کی نالیوں سے ٹھوس گند نہ نکالا جائے اور نکاس کردہ پانی کے کنووں کے نزدیک نصب پانی کھینچنے والے پمپ چالو نہ کیے جائیں تب تک گلیاں بھری رہتی ہیں۔ نکاسی ہو جانے کے بعد کیچڑ کئی کئی روز تک گلیوں اور سڑکوں میں موجود رہتا ہے۔ اگر ان دنوں کی مانند مطلع ابر آلود رہے، دھوپ نہ نکلے تو چلنا پھرنا محال رہتا ہے۔

معاشروں میں تمدن کی نمو اور ترقی کی سطح کا اندازہ کرناہو تو گندے پانی کے نکاس اور ابیات الخلاء کی حالت کو دیکھ لیا جائے جنہیں دیکھ کرکے واضح ہوجاتا ہے کہ معاشرے میں تمدن کس حد تک ہے اور ترقی کی سطح کیا ہے؟ بڑے شہروں کی پوش کالونیوں میں موجود ڈرینیج سسٹم کو دیکھ کے ان شہروں کی مجموعی آبادی کے رہن سہن کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہمارا پورا ملک غلاظت اور گندگی سے اٹا پڑا ہے۔ ایسے میں حفظان صحت کی بات کیا کرنی۔

بعض اوقات مجھے لگتا ہے جیسے نصف دہائی پہلے حفظان صحت نسبتاً بہتر تھا کیونکہ لوگ بیت الخلاء کی مصروفیت سے فراغت کے بعد ہاتھ دھونے کو گجنی مٹی علیحدہ رکھا کرتے تھے۔ استعمال کیے جانے والے پانی میں پوٹاشیم پر میگنیٹ کی ایک دو قلمیں بھی ڈال دیا کرتے تھے۔ آج جب دنیا میں صفائی کا خیال رکھے جانے کو مائع صابن جسے ہمارے ہاں پتہ نہیں کیوں ”ہینڈ واش“ کہا جاتا ہے، کے ساتھ ساتھ ڈسپوزیبل پیپر ٹاولز یعنی کاغذی تولیے رکھنے کا چلن ہے، ہمارے ہاں کے اچھے بھلے ریستورانوں میں بھی ایک ہی صابن کی ٹکیہ اور ایک ہی تولیہ رکھے جانا عام ہے۔ جہاں کہیں مائع صابن دان ہیں وہاں ان میں مائع صابن مفقود ہے۔

لوگ مجھ سے کہتے ہیں، ”آپ کو اتنی سردی تو نہیں لگنی چاہیے، آپ تو ایک عرصے سے سرد ملک میں رہتے ہیں“ تو اس کا جواب اتنا سا ہوتا ہے کہ بھیا وہاں سردی گھر سے باہر ہوتی ہے، گھر حکومت کی جانب سے گرم رکھے جانے کا اہتمام ہے۔ باہر نکلتے ہوئے مناسب گرم کپڑے پہن لیے جاتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور دفتروں دکانوں کو بھی گرم رکھا جاتا ہے۔ یہاں گھر ٹھنڈے اور تو اور ٹی وی چینلوں کے ”ٹاک شوز“ میں بھی مہمان جیکٹیں مفلر پہنے بیٹھے ہوتے ہیں، لاحول ولا قوہ۔ دوسرے سرد ملک والا کوئی دیکھے تو فوراً پہچان جائے کہ کیسا ملک ہے، کیسی سیاست ہے، کیسے حکمران ہیں اور کیسے لوگ۔ ہم تو دعا پہ ہی تکیہ کرنے کے عادی ہیں چنانچہ کہنا پڑتا ہے، ”اے خدا بارش نہ ہو“۔ ہم نے تو کچھ کرنا نہیں سب اللہ کو ہی کرنا ہے۔ ہے نا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *