عروج و زوال، عمران خان اور راجر ہارپر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عروج و زوال کی داستانیں اٹھا کر دیکھیں تو ایک بات سب میں مشترک ہے کہ اقوام اور افراد کو بامِ عروج تک پہنچانے والے عناصر ہی ان کو زوال کا مزہ چھکاتی ہیں۔ وہی چیزیں جو آپ کے لئے کامیابی کے اسباب فراہم کرتی ہیں بالآخر آپ کی ناکامی کی ذمہ دار ٹھہرتی ہیں۔ سینکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ چرچل نے نپولین کی شخصیت کا گہرائی اور گیرائی سے جائزہ لیتے ہوئے لکھا تھا کہ نپولین کی کامیابی کی بہت سی وجوہات میں ایک ان کا اپنے تمام راز اپنے تک محدود رکھنا بھی تھا۔

یہی خوبی بعد ازاں ان کی ناکامی کا موجب ٹھہری کہ تمام تر معلومات اس ذات تک محدود ہو کر رہ گئیں تھیں۔ اسی طرح اس کی فوج میں یورپ کے مختلف اقوام شامل تھیں جس سے اس کی فوج میں مشترکہ مقصد کے حصول کا جذبہ پیدا ہوا جو اس کی کامیابی کی کلید بنا لیکن بعد ازاں یہی مختلف اقوام ایک دوسرے سے بدظن ہوگئیں اور وہ جذبہ مفقود ہوگیا جو بالآخر اس کی ناکامی کا باعث بنا۔

آپ مسلمانوں کا عروج دیکھیں، جب نبی کریم (صلعم) نے باہم مشت و گریبان افراد کو آپس کے اختلافات سے نکال کر ان کو منظم کیا تو اپنے گھروں کے آنگن میں بیٹھے بکریوں کی دودھ کی کثرت اور قلت سے خوشی اور غم کشید کرنے والے دنیا کے حکمران بن گئے۔ جب یہی افرادی قوت، اتحاد، تنظیم، یگانگت اور انصاف جیسے اصولوں کی پامالی کی مرتکب ہوئی تو ایک اثاثے سے بوجھ بنتی گئی اور مسلمان بتدریج پستی میں گرتے گرتے زوال کا شکار ہوگئے۔

اسی اصول کو ہم اگر محدود پیمانے پر پرکھیں تو پاکستان تحریک انصاف کی اٹھان اور اب اس کی گراوٹ کی کہانی بھی کھل جاتی ہے۔ عمران خان کی سیاست کا محور پاکستان کے نوجوان تھے، عمران نے اپنی تمام سیاسی عمر ان نوجوانوں پر صرف کی۔ لاہور کا تاریخی جلسہ عمران کی اس سیاسی جدوجہد کا نقطہ عروج ثابت ہوا اور بالآخر عمران انہی نوجوانوں کی بدولت ملک کے مقتدر حلقوں کے لئے ایک آپشن کے طور پر سامنے آئے اور وزیراعظم بننے کی اپنی آرزو پوری کی۔ اب اگر غور کریں تو انہی نوجوانوں کا انتہائی جارحانہ اور بڑی حدتک غیر مہذب رویہ عمران خان کو کائی میں دھکیل رہا ہے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لئے ہم عروج کی اصطلاح استعمال نہیں کر سکتے لیکن ان کی طاقت کے بہت سارے اسباب میں سے ایک اور سب سے مرکزی سبب ہمہ وقت بکنے کو کمر بستہ سیاستدان ہی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے جب بھی اقتدار پر قبضہ کرنا چاہا سیاستدان گلے میں قابل فروخت کی تختیاں لٹکائے اسٹیبلشمنٹ کے در پر سر جھکائے کھڑے نظر آئے، جب جب جو جو حکم ملا انہوں نے بغیر کسی چون و چرا کی تعمیل کی۔ انہی سیاستدانوں کی حد سے بڑھ کر شرمناک تابعداری اب ہماری اسٹیبلشمنٹ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے اور اس کی تمام تر ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

یہ تابعداری شرم و حیاء سے بے نیاز چاپلوسی کے اعلی ترین منازل طے کر رہی ہے۔ حکومت کی اپنی پیش کردہ ترمیم کے حق میں جب اپوزیشن ووٹ ڈالتی ہے تو یہ لوگ اسمبلی اور اسمبلی سے باہر شکریہ ادا کرنے کے بجائے ٹیلی وژن کیمرے کے مقابل، نہایت اہتمام سے لایا گیا بوٹ میز پر رکھ دیتے ہیں اور اپوزیشن کو اسی ووٹ پر تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں جو انہوں نے خود لکھا اور پیش کیا۔ کسی ستم ظریف نے کیا خوب کہا کہ مقتدر حلقے شدید ناراض ہوئے کہ ہم نے تو بوٹ آپ کو چمکانے واسطے دیا اور آپ اس کے ساتھ سیلفیاں بنانے لگ گئے۔

یہ صاحب کبھی پستول لے کر دہشت گردوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں، کبھی دو تین دنوں میں کروڑوں نوکریوں کی نوید دینے لگتے ہیں، کبھی موٹر سائکل پر سوار ہو کر اپنے چاروں طرف پروٹوکول کی گاڑیاں خراماں خراماں چلاتے ہیں۔ بات وہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو غارت کرنے میں ان جیسے لوگوں کا ہی ہاتھ ہے۔ مضحکہ خیز مسخرہ پن ان کی شناخت بن چکی ہے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ نت نئے تجربات کے ذریعے سیاستدانوں کو اپنا آلہ کار بنانا اور ان کی طاقت تقسیم کرکے تمام تر طاقت اپنے آپ میں مرکوز کرنے کا کھیل جہاں اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کا ذریعہ رہا ہے وہاں اب وہی اس کو کمزور کرنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ اس تمام کھیل کا سب سے خطرناک پہلو جس پر کوئی بات نہیں کر رہا ہے، عمران خان کی شخصیت ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اگر عمران خان سے منہ پھیر لیتی ہے اور خان صاحب کو بھی نواز شریف اور زرداری کی طرح غیر موثر کرنے کی کوشش کرتی ہے تو خان صاحب کچھ بھی کر گزرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وہ آرام سے اقتدار جانے نہیں دیں گے بلکہ آخری حد تک جائیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ویسٹ انڈیز کے لیگ سپنر راجر ہارپر ایک روزہ میچ کے آخری اوورز میں عمران خان کی ہر بال کو باؤنڈری سے باہر پھینک رہے تھے تو خان صاحب نے غضبناک ہو کر راجر ہارپر کے سر کا پکا نشانہ لے کر پوری رفتار سے بیمر پھینک دیا تھا۔ راجر ہارپر کی زندگی تھی سو نہ صرف بچ گئے تھے بلکہ خان صاحب کی بدقسمتی کہ وہ گیند بھی بلے سے ٹھکرا کر باؤنڈری لائن سے باہر چلی گئی تھی۔ سنا ہے کہ خان صاحب نے اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا حکم نامہ لکھ کر صدر مملکت کے پاس رکھوا دیا ہے، اللہ خیر کرے لیکن پاکستان کے مشکل دن لگتا ہے مزید مشکل ہونے والے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *