بوٹ کس نے پالش کیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملکی سیاست کے افق پر ایک ہنگامہ برپا ہے، تلاطم ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ وہی کہ نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کے بیانئے کا اپنے ہاتھوں سے گلا گھونٹ دیا۔ یہ ایک ایسا قدم تھا کہ ن لیگ کے حامی اور رہنماؤں کے لئے اس کا دفاع کرنا مشکل تھا۔ کسی نے اس میں کوئی رمز تلاش کی تو کسی نے کریلے گوشت کو عزت دو کہہ کر ٹھٹھہ اڑایا۔ تحریک انصاف کو تو موقع مل گیا ن لیگ کو لتاڑنے کا۔ تو لیجیے صاحب طنز و تشنیع کے انبار لگا دیے گئے۔

بات بھی ٹھیک تھی کہ اگر جھکنا ہی تھا تو پہلے جھک جاتے۔ سو جوتے کھا کر سو پیاز کھانے کی کیا تک تھی۔ خیر جتنے منہ اتنی باتیں۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا سینئر تجزیہ نگاران کے حوالے سے پہلے ہی خودکفیل ہے کہ اب سوشل میڈیا نے سیاسی تجزیہ نگاروں کی ایک نئی کھیپ، بلکہ ایک پوری نسل تیار کر دی ہے سو نواز شریف صاحب اور ان کے طرفداروں کے لئے دفاع کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

اب آپ کہیں گے کہ آج کل ایک دن بعد موضوع پرانا ہو جاتا ہے، اس موضوع پر اتنی دیر بعد لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ کچھ تو طبیعت کی سستی اور ناچیز کی روایتی نالائقی سمجھئے اور کچھ یہ بھی کہ جب طرح طرح کی آرا کا طوفان برپا ہوتا ہے تو گرد تھمنے کے بعد ہی کچھ سمجھ آتی ہے۔ تو آئیے صورتحال کو ایک اور پہلو سے دیکھئے۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ بھی عرض کر دوں کہ ن لیگ کی سیاست سے روایتی و قدیمی اختلاف رہا ہے۔ حلقہ احباب میں سبھی لوگ جانتے ہیں کہ ن لیگ سے رتی برابر بھی ہمدردی کبھی نہیں رہی۔ فی الوقت صرف ایک واقعے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کو کوشش کر رہے ہیں۔

سب سے پہلے کسی نالائق تفتیشی کی طرح وقوعے کا جائزہ لیتے ہیں۔ آئین پاکستان میں سروسز چیف کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی اور مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ابہام تھا۔ اس موضوع پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ قارئین کو یقیناً ازبر ہو گا کہ کس آرمی چیف کی تعیناتی اور توسیع کے حوالے سے کیا کیا واقعات ہوئے۔ اس لئے آگے چلتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کو سوموٹو نوٹس میں تبدیل کیا اور وزیراعظم عمران خان کے دستخطوں سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کو غیر آئینی قرار دیا۔

قصہ مختصر یہ کہ حکومت کو یہ کہا گیا کہ چھ ماہ کے اندر نئی قانون سازی کر کے اس معاملے کو واضح کیا جائے۔ آئین میں ترمیم کے لئے درکار دوتہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کی اہمیت بڑھ گئی۔ ان میں سب سے بڑی جماعت ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہیں۔ ہر دو جماعتوں کی قیادت کو پنجابی محاورے کے مطابق رگڑا لگ رہا تھا۔ ان دونوں جماعتوں نے حکومت کے مجوزہ ڈرافٹ کی غیرمشروط حمایت کی۔ پہلے پہل پیپلز پارٹی کو یہ گلہ تھا کہ یہ فیصلہ متحدہ اپوزیشن کو کرنا تھا نہ کہ اکیلے نواز شریف کو لیکن ووٹنگ کے دن نوید قمر کو آصف زرداری کی ایک کال آئی اور ووٹ ڈالنے کا حکم صادر ہوا۔

اب تحریک انصاف یہ کہہ رہی ہے کہ ن لیگ نے بوٹ پالش کیے۔ اگلے روز فیصل واڈا جو اپنی نالائقی اور منہ پھٹ رویے کی وجہ سے پہلے ہی مشہور ہیں کاشف عباسی کے پروگرام میں ن لیگ کو رگیدنے کے لئے ایک بوٹ لے آئے۔ قمر زمان کائرہ جیسے وضعدار آدمی کے لئے پروگرام میں بیٹھنا مشکل ہو گیا۔ سادہ لفظوں میں پی ٹی آئی کا مقدمہ یہ ہے کہ ہم نے ووٹ دیا تو دیا تم نے کیوں دیا۔ اگر سول سپریمیسی کا اتنا ہی بھوت سوار تھا تو ڈٹ جاتے اور نہ ڈالتے ووٹ۔

یہ کہتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ساری اپوزیشن ووٹ نہ ڈالتی اور چھ ماہ کے بعد سپریم کورٹ میں دوبارہ جگ ہنسائی ہوتی تو پھر ان کی پوزیشن کیا ہوتی۔ شاید پی ٹی آئی اگر حکومت میں نہ ہوتی تو عمران خان صاحب کے سابقہ بیانات کے مطابق ایکسٹینشن کی حمایت نہ کرتی۔ فی الوقت تو پی ٹی آئی کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ جن کی حمایت کی وجہ سے خان صاحب بگ باس کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچ گئے۔

اب ایک لمحے کو اسٹیبلشمنٹ کے نکتہ نظر سے دیکھئے۔ پرویز مشرف پر مقدمہ قائم کر کے نواز شریف نے اگلے پانچ سال کے لئے اپنے راستے کا تعین کر لیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے 2014 میں دھرنے کو مہمیز فراہم کی اور تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اس وقت کے آئی ایس آئی چیف حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے تیار بیٹھے تھے لیکن آرمی چیف راحیل شریف کی بروقت مداخلت کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا۔

اب آپ کو کوئی موقع نہیں مل رہا تھا کہ کیسے نواز شریف کو نیچا دکھایا جائے۔ میڈیا پر پروگرام ہوتے رہے، میڈیا ٹرائل ہوتا رہا لیکن معاملہ چلتا رہا۔ اس دوران سی پیک بھی ہوا اور ترقیاتی کام بھی ہوتے رہے۔ راحیل شریف صاحب کی ریٹائرمنٹ سے کچھ روز پہلے ڈان لیکس کا معاملہ درپیش ہوا تو سول اور عسکری ذمہ داروں میں دوریاں بڑھ گئیں۔ نواز شریف نے راحیل شریف کو توسیع نہیں دی تو مزید معاملہ خراب ہوا۔ کرنی خدا کی یہ کہ پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوا جو اقامے کے ذریعے نواز شریف کو رخصت کرنے پر منتج ہوا۔

گذشتہ تین سالوں میں نواز شریف سول سپریمیسی کے علمبردار بنے۔ ان کے طرزِ سیاست سے لاکھ اختلاف کے باوجود یہ ماننا ہو گا کہ جو باتیں انہوں نے اس عرصے میں کہیں، وہ شاید اس مملکت کے رہنما اصول ہو سکتے تھے۔ گو اس بات کی ضمانت نہیں کہ ایک مرتبہ پھر اقتدار مل جائے تو وہ کتنے ثابت قدم رہ پائیں گے، لیکن ان سالوں میں انہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ بیمار بیوی کو چھوڑ کر گرفتاری دینے آئے۔ جیل بھگتی، ساتھیوں کی گرفتاریاں دیکھیں۔ جس رہنما نے بھی آواز بلند کی اسے کسی نہ کسی مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔ وزیراعظم اس دوران چیختے رہے کہ این آر او نہیں دوں گا۔ یہ اور بات کہ ایسا کہتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ نہ تو گرفتار کرنے کا حق ان کا تھا، اور ہی چھوڑنے کا فیصلہ ان کی مرضی سے ہو گا۔

اب تین سال ہونے کو آئے ہیں۔ ملکی معیشت دگرگوں ہے۔ ایسے میں حالات نے پلٹا کھایا تو نواز شریف اور مریم نواز نے ایک پراسرار خاموشی اوڑھ لی۔ پھر ہم نے دیکھا کہ خاموش ہوتے ہی حالات بدلنے لگے۔ ایک کے بعد ایک مقدمے میں ضمانت ہونے لگی۔ جب سب مقدمات میں ضمانت ہو گئی تو العزیزیہ فلیگ شپ ریفرنس میں ہونے والی سزا اور ای سی ایل میں نام ہونے کے سبب باہر جانا مشکل تھا۔ ایسے میں جنہوں نے گرفتار کیا تھا انہوں نے ہی عدلیہ کے ذریعے رہائی کا بندوبست بھی کر دیا۔ ایک ایک کر کے رہنما بھی باہر آنے لگ گئے۔ اگلے چند روز میں مریم نواز بھی باہر چلی جائیں گی۔

اب یہاں سوچئے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کر لیا تھ کہ نواز شریف سے جان چھڑوانی ہے اور پہلے مرحلے پر عملدرآمد بھی ہو گیا تو ان مقدمات کا کیا ہوا؟ اگر وہ مقدمات درست تفتیش پر مبنی تھے تو ضمانتیں کیسے ہو گئیں؟ اور اگر یہ سارے مقدمات محض نواز شریف کو سبق سکھانے کے لئے بنے تھے تو ایسے احتساب کی کیا ساکھ ہے؟ خیر مقدمے جیسے بھی بنے تھے، جس مردِ دانا کا یہ آئیڈیا تھا کیا وہ اب اپنے کیے پر نادم ہے؟ اگر نادم نہیں تو کیوں نواز شریف کی دوبارہ ضرورت پڑ رہی ہے؟

کیوں شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں؟ اور اگر خود کو عقلِ کل سمجھنے والے اپنے کیے پر شرمندہ ہو رہے ہیں تو پاکستان کے ان تین سالوں کی قیمت کون ادا کرے گا؟ معیشت کو دگرگوں کرنے پر کون معافی مانگے گا؟ اور اگر واقعی ایسا ہی ہے تو ذرا اپنے آپ سے سوال کیجئے کہ ہزیمت کسے ہوئی ہے؟ نواز شریف کو یا عقلِ کل مقتدرہ قوتوں کو؟ کیوں ایک ایک کر کے سارے فیصلے واپس لئے جارہے ہیں؟ کبھی منشیات کے کیس میں بھی ضمانت ہوئی تھی؟

حنیف عباسی بھی باہر ہے اور رانا ثنا اللٰہ بھی۔ اور کیوں پرویز مشرف کے خلاف ایک ایسا فیصلہ کیا گیا جس سے صرف نواز شریف کی انا کی تسکین ہوئی۔ باقی اس سزا پر عملدرآمد تو کیا ہوتا خصوصی عدالت ہی غیر آئینی ٹھہری۔ صرف یہ کہ آئندہ کے طالع آزماؤں کے لئے ایک نظیر قائم ہو گئی۔ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ عسکری مہربانوں نے سیاستدانوں کے بوٹ پالش کرنے شروع کر دیے؟ اب اس سے آگے کہنے سے تو پر جلتے ہیں۔ اور ہم تو مڈل کلاس لکھاری لکھتے بھی اردو میں ہیں۔ انگریزی میں لکھتے تو یہ تو فائدہ ہوتا کہ جب تک ترجمہ نہ چھپتا تب تک خیر مناتے!

نواز شریف کی سیاست سے بہت خوش گمانی تو نہیں۔ لیکن سول سپریمیسی کا بیانیہ اب نواز شریف کی میراث نہیں۔ جیسے شیخ مجیب الرحمٰن علیحدگی کا صرف کارڈ استعمال کر رہے تھے اور وقتِ عمل اپنے گھر میں چھپنا چاہتے تھے لیکن حالات کے دھارے نے انہیں اٹھا کر آزادی کا تمغہ پہنا دیا۔ ایسے ہی یہ بیانیہ اب جمہوریت پسندوں کا نعرہ بن چکا ہے۔ یہی قائداعظم کا نظریہ تھا اور یہ ہی نظام کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *