آؤ عدنان کاکڑ کو ارتقا کی سائنس سمجھائیں (حصہ دوئم)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"muhammad

پہلا حصہ: آؤ عدنان کاکڑ کو ارتقا کی سائنس سمجھائیں

عدنان کاکڑ صاحب نے اپنے مضمون کا آغاز ایک تصویر سے کیا تھا۔ میری نظر میں ارتقا کے موضوع پر لکھے گئے کسی بھی مضمون کا اس تصویر سے بہتر کوئی آغاز نہیں ہو سکتا۔ یہ تصویر انسان کے کروموسوم نمبر 2 کا موازنہ بن مانس کے کروموسوم 2p اور 2q سے کرتی ہے۔ ارتقا پر یقین رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ انسان بندر اور بن مانس کا تعلق ایک ہی حیاتیاتی صنف سے ہے لہٰذا سائنس کے اصول کے مطابق ان کے DNA میں بہت زیادہ مماثلت ہونی چاہئے۔

اگرچہ انسان اور بن مانس کا DNA قریب 99 فیصد تک آپس میں مماثلت رکھتا ہے تاہم اس میں ایک بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ انسانی خلیوں میں کروموسوم کے 23 جوڑے یعنی کل 46 کروموسوم پائے جاتے ہیں، اس کے برعکس بن مانس اور بندر کی دیگر نسلوں مثلاً گوریلا اور Orangutan میں 24 جوڑے یعنی کل 48 کروموسوم پائے جاتے ہیں۔ 1982 میں جریدے سائنس میں پہلی بار انسانوں اور بندر کی دیگر نسلوں کے کروموسوم کی high resolution microscope سے لی گئی تصویریں شائع کی گئیں۔ اس تحقیق کی بنیاد پر سائنسدانوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ غالباً ارتقا کے عمل کے دوران بندروں کے دو کروموسومز کے سرے آپس میں جڑ گئے جس کی وجہ سے نسل انسانی کا ظہور ہوا اور اسی وجہ سے ہی انسانوں میں بندروں کی نسبت کروموسوم کا ایک جوڑا کم پایا جاتا ہے۔ تاہم یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوا۔

\"evolution

ہر کروموسوم کے دونوں سروں پر Nucleotides کی ایک مخصوص ترتیب اور ترکیب پائی جاتی ہے جسے Telomere کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کروموسوم کے بیچ میں Nucleotides کی ایک اور مخصوص ترتیب اور ترکیب ہوتی ہے جسے Centromere کا نام دیا جاتا ہے۔ گویا ایک کروموسوم میں دو Telomere اور ایک Centromere پایا جاتا ہے۔ اگر تو جیسا کہ سائنسدانوں کا خیال تھا، کہ ارتقا کے کسی مرحلے پر بندر وں کی نسل کے دو کروموسومز کے سرے ایک دوسرے سے جڑ گئے اور اس سے تصویر میں نظر آنے والے انسانوں کے کروموسوم نمبر 2 نے جنم لیا، تو اس کروموسوم میں 2 سے زیادہ Telomere اور ایک سے زیادہ Centromere ہونا چاہئے تھے۔ تاہم 1982 میں ٹیکنالوجی اتنی ترقی یافتہ نہ تھی کہ اس کے حق میں حتمی ثبوت پیش کیا جا سکتا۔

1991اور 1992 میں شائع ہونے والے دو مختلف تحقیقی مقالہ جات نے اس ضمن میں ابتدائی ثبوت پیش کئے جب سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا کہ انسانی کروموسوم 2کے دونوں سروں پر موجود Telomeres کے علاوہ کروموسوم کے بیچ میں Nucleotide کی ایسی ترتیب اور ترکیب پائی جاتی ہے جو Telomere سے مماثلت رکھتی ہے۔ اسی طرح کروموسوم 2 میں نارمل Centromere کے ساتھ ساتھ ایک اضافی لیکن نامکمل Centromere بھی پایا جاتا ہے۔ DNA Sequencing یعنی DNA میں Nucleotides کی ترتیب کا تعین کرنا ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہے جس نے حیاتیات کی دیگر شاخوں کی طرح ارتقا کی سائنس پر بھی بے حد اہم اثرات مرتب کئے ہیں۔

\"evo-1\"

سنہ 2005 میں پہلی بار سائنسدان انسانی کروموسوم 2 کی مکمل ساخت جانچنے میں کامیاب ہوئے اور ان کی اس تحقیق کے نتائج نے پہلے سے اخذ کئے گئے نتائج پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ انسان کے اس کروموسوم 2 میں نہ صرف یہ کہ Nucleotides کی ترتیب بن مانس کے دو مختلف کروموسومز سے مماثلت رکھتی ہے، بلکہ اس میں اضافی Telomere اور Centromere بھی موجود ہیں۔ یہاں ایک اور دلچسپ امر کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔

بن مانس سے ارتقا کرنے والی نسل انسانی میں محض موجودہ زمانے میں زندہ ہماری قسم ،جسے سائنسی اصطلاح میں Homo sapien کہا جاتا ہے، ہی شامل نہیں بلکہ اب تک کی دستیاب معلومات کے مطابق ہمارے علاوہ انسانوں کی کم از کم تین سے چار دیگر اقسام محض 30,000 سال قبل تک کر ارض پر پائی جاتی تھیں۔ ان اقسام میں یورپ اور مغربی ایشیا میں بسنے والی نسل Neanderthal ، ایشیا میں بسنے والے Denisovans اور انڈونیشیا کے ایک دور دراز جزیرے پر بسنے والے Hobbits شامل ہیں۔ ان کے علاوہ گزشتہ برس کے اواخر میں سائنسدانوں نے نسل انسانی کی ایک اور قسم بھی دریافت کی ہے جسے Homo naledi کا نام دیا گیا ہے ۔

\"evo-4\"

اگر تو بن مانس کے دو کروموسومز کے ملاپ سے نسل انسانی کے ایک کروموسوم کے جنم کا نظریہ درست ہے تو ہمارے ان قریبی حیاتیاتی رشتہ داروں میں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔ معدوم نسلوں کے کروموسوم کی ساخت جانچنا زندہ جانداروں کی نسبت کہیں مشکل ہے، اس لئے سائنسدانوں کواب تک Neanderthals, Hobbits یا Naledi کے حوالے سے ایسی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، تاہم Denisovans کے DNA میں بالکل ایسے ہی دو کروموسومز کے ملاپ کے شواہد ملے ہیں۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ Neanderthals، Denisovans اور Sapiens ،یعنی ہماری حیاتیاتی قسم ، کا جد امجد ایک ہی ہے جس سے پہلے ہماری قسم الگ ہو کر ارتقا پذیر ہوئی اور اس کے بعد اس جد امجد سے Neanderthals اور Denisovans کی قسموں کا ظہور ہوا ۔اس بنیاد پر قیاس یہ کیا جا سکتا ہے کہ کروموسوم کی یہ تبدیلی اس جد امجد میں ہی رونما ہو گئی تھی اور Neanderthals کے کروموسومز کی ساخت بھی غالباً اس سے ملتی جلتی ہی ہو گی۔

حالیہ برسوں میں DNA Sequencing ٹیکنالوجی کی حیران کن ترقی نے ارتقا کے عمل سے متعلق ہمارے علم میں نہ صرف بے پناہ اضافہ کیا ہے بلکہ اس حوالے سے موجود کئی غلط فہمیوں اور شکوک کا ازالہ کرتے ہوئے اس امر پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ تمام جاندار اربوں سال کے ارتقائی عمل کی پیداوار ہیں اور ہر جاندار دنیا کے تمام دیگر جانداروں سے کم یا زیادہ مماثلت رکھتا ہے۔ مثلاً انسانوں اور پیٹ کے کیڑوں Nematodes کے جینوم کے آپسی موازنے سے ظاہر ہوا کہ انسان کے جینوم کا 25 فیصد حصہ Nematode سے مماثلت رکھتا ہے۔

\"evo-2\"

مختلف جانداروں کے جینوم کی اس تقابلی سائنس نے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں بھی بے انتہا مدد کی کہ کونسا جاندار کس جاندار سے زیادہ مماثلت رکھتا ہے اور اس بنیاد پر زندہ اور معدوم ہر دو طرح کے جانداروں کی باہمی مماثلت اور اختلاف کی بنیاد پر مختلف گروہوں میں تقسیم بھی پہلے کی نسبت بہتر طور ممکن ہوئی۔ مختلف جانداروں کے جینوم کے تقابل سے ایک اہم بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جینوم کے بعض حصے کرہ ارض پر زندگی کی اولین شکلوں یعنی یک خلیہ جانداروں سے لے کر ارتقائی عمل کی جدید ترین شکلوں جیسے کہ انسانوں تک میں بالکل ایک جیسے ہیں ، یا زیادہ سے زیادہ ان میں معمولی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ۔ جانداروں کے جینوم کے ان حصوں کی اس حیران کن مماثلت کی آج تک کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکی، سوائے اس کے کہ ارتقا کو درست مان لیا جائے۔

جینوم کے جن حصوں کا ہم ذکر رہے ہیں ان میں ایسی پروٹینز کا کوڈ موجود ہوتا ہے جو زندگی کی بنیادی ضرورت تصور کی جاتی ہیں اور جن پروٹینز کے بغیر غالباً کسی خلیے یا جاندار کا زندہ رہنا ناممکن ہو۔ ایسی ہی ایک پروٹین Cytochrome C کی مثال یہاں پیش کرنا چاہوں گا۔ Cytochrome C پروٹین کا کوڈ جینوم کے جس حصے میں موجود ہے وہ انسانوں ، کئی ایک مختلف قسم کے دیگر جانوروں ، پودوں اور حتیٰ کہ یک خلیہ جانداروں میں بھی کم و بیش بالکل ایک جیسا ہے۔ البتہ یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جینوم کا یہ حصہ مختلف جانداروں میں 100 فیصد ایک جیسا نہیں اور اس میں بہرحال معمولی تبدیلیاں ضرور پائی جاتی ہیں ۔ تاہم یہ تبدیلیاں نظریہ ارتقا کے حق میں ایک مزید اہم دلیل ہیں نہ کہ اس کی نفی کرتی ہیں۔

\"evo-8\"

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو جاندار ارتقائی طور پر ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں ، ان میں Cytochrome C جین کی مماثلت بھی زیادہ ہے۔ مثلاً یہ جین انسانوں اور ان کے قریب ترین ارتقائی رشتہ داروں یعنی بن مانس میں بالکل ایک جیسا ہے، جبکہ Rhesus بندر ،جو ہمارے نسبتاً زیادہ دور کے ارتقائی رشتہ دار ہیں ، ان کے اور ہمارے جین میں محض ایک مقام پر معمولی سا فرق ہے۔ اس کے برعکس انسان اور گھوڑوں میں یہ جین کافی زیادہ مختلف ہے۔ اسی طرح مرغیوں اور Turkey میں یہ جین ایک دوسرے سے باقی جانداروں کی نسبت زیادہ مماثلت رکھتا ہے، اور یہی بات بھیڑوں ، گائیوں اور سور کے متعلق بھی درست ہے۔

مختلف جانداروں کے تقابلی موازنے سے Cytochrome C جیسی ہزاروں مثالیں سامنے آئی ہیں۔ کئی ایک جو Cytochrome C کی طرح بنیادی افعال سر انجام دیتی ہیں ، وہ ہزاروں جانداروں میں محض معمولی تبدیلیوں کے ساتھ موجود ہیں جبکہ کئی ایک دیگر جو ایسے افعال کی ذمہ دار ہیں جو جانداروں کی کسی ایک مخصوص قسم تک محدود ہیں ، وہ جانداروں کی اس مخصوص قسم میں ایسی ہی مماثلتوں اور تبدیلیوں کے ساتھ موجود ہیں۔ آخر الذکر کی مثال دودھ میں پائی جانے والی پروٹین Casein کی ہے جو تمام ممالیہ جانوروں، یا ان کی چند ابتدائی ارتقائی شکلوں میں تو پائی جاتی ہے اور آپس میں مماثلت بھی رکھتی ہے، لیکن دیگر غیر ممالیہ جانوروں میں اس کا سراغ نہیں ملتا۔

\"evo-7\"

نظریہ ارتقا پر ایک اور بڑا اعتراض جو مخالفین کی جانب سے لگایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آج کے موجودہ جانداروں نے ایک دوسرے سے جنم لیا تو ہمیں ان کی الگ الگ قسمیں کیوں دکھائی دیتی ہیں، ہمیں ان قسموں کے ”درمیانی لنک“ کیوں نظر نہیں آتے۔ اس اعتراض کا جواب نہ صرف یہ کہ نسبتاً پیچیدہ ہے بلکہ ایک عدد اور طویل مضمون کا بھی متقاضی ہے، اس لئے یہاں اس حوالے سے مختصراً ہی اپنی گزار شات پیش کروں گا۔

ڈارون نے جب اپنی شہرہ آفاق کتاب تحریر کی تو اس وقت بھی اسے ارتقا کی ان ”درمیانی“ شکلوں کی کمیابی کا احساس تھا۔ ڈارون نے اس کمیابی کی وضاحت کرنے کے لئے ”ارضیاتی عدم کاملیت“ (Geological Imperfection) کی اصطلاح استعمال کی۔ یعنی نہ صرف یہ کہ ہمیں جو ارضیاتی شواہد دستیاب ہیں وہ نا مکمل ہیں بلکہ کئی ایک وجوہات کی بنیاد پر مکمل ارضیاتی شواہد کا حصول ناممکن نہیں تو بے حد دشوار ضرور ہے۔ باوجود یہ کہ گزشتہ ڈیڑھ صدی میں ہمیں سینکڑوں ایسے شواہد دستیاب ہوئے ہیں جو ان ”درمیانی“ شکلوں کے ثبوت پیش کرتے ہیں ، تاہم اس حوالے سے ریکارڈ ابھی بھی نامکمل ہے۔

\"evo-5\"

ارضیاتی شواہد کی کمیابی کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ کسی بھی جاندار کے جسم کے سخت حصے جیسے کہ بال یا ہڈیاں ہی اربوں سال تک یوں محفوظ رہ سکتے ہیں کہ ارتقا کے عمل کو سمجھنے کے لئے سائنسدانوں کے لئے مددگار ثابت ہو سکیں۔ پھر یہ کہ ایک خاص قسم کا ارضیاتی ماحول، جیسے کہ مخصوص قسم کی چٹانیں، درجہ حرارت، دیگر موسمی حالات جیسے کہ طوفان یا زلزلے وغیرہ، ہی فوسلز کو یوں ہزاروں صدیوں پر محیط عرصے تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ بھی کہ ان تمام نا مساعد حالات کے باوجود جو مٹھی بھر فوسلز بچ جاتے ہیں ، ان تک کیا ہماری رسائی ممکن بھی ہے؟ یعنی وہ کس قسم کی جگہ پر موجود ہیں، سطح زمین سے کتنی گہرائی میں موجود ہیں، یا کیا معلوم ہمارے گنجان ترین شہروں کے نیچے ایسے کتنے عظیم خزانے دفن ہیں جن تک ہماری رسائی اب بے حد مشکل ہو چکی ہے۔

ایسی گوناگوں مشکلات کے باوجود سائنسدانوں نے گزشتہ ڈیڑھ دو سو برسوں میں کئی ایک اہم فوسلز کو دریافت کیا ہے۔ مثلاً اب تک بن مانس اور انسان کی لگ بھگ نصف درجن ”درمیانی“ شکلوں کے فوسلز دریافت ہو چکے ہیں۔

\"evo-3\"

ان میں سب سے قدیم Ardipithecus ramidus نامی لگ بھگ 4.5 ملین سال قبل بسنے والی بن مانسوں سے ملتی جلتی نسل ہے جو کسی حد تک دو ٹانگوں پر چلنے کے قابل ہو گئی تھی، تاہم ان کا دماغ قریباً بن مانس کے برابر تھا۔ ایسی ہی کم از کم دو اور نسلوں Australopithecus afarensis اور Australopithecus africanus کا سراغ بھی ملا ہے جو قریب 3 سے 3.6 ملین برس قبل کرہ ارض پر وجود رکھتی تھیں ۔ پھر Homo نسل سے تعلق رکھنے والی کم از کم تین ایسی اقسام، Homo habilis ، Homo erectus اور Homo heidelbergensis کے فوسلز بھی دریافت ہوئے ہیں جنہیں انسان اور بن مانس کے درمیان کی کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی دیگر ”درمیانی“ شکلیں جیسے کہ پیروں پر چلنے والی مچھلیاں یا پھر قریب 400 ملین سال پرانا ایک سمندری چوپائے کا فوسل جو ابھی چند برس پہلے ہی دریافت ہوا ہے ، یا پھر اڑنے والے ڈائنوسار جو Reptiles اور پرندوں کی درمیانی کڑی تصور کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ارتقا کے حق میں موجود دلائل اور شواہد کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جن کا احاطہ غالباً ٹوئن بی کی 12 جلدوں پر مشتمل ”مطالعہ تاریخ“ جیسے ضخیم کام میں ہی ممکن ہو سکے ۔ نئی تحقیق ارتقائی عمل سے متعلق ہماری سمجھ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ کرتی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں اپنے دماغ کی کھڑکیوں پر تعصبات اور کم علمی کے قفل چڑھائے رکھنا کسی صورت بھی عقل مندی تصور نہیں کی جا سکتی۔ آج کی نوجوان نسل جس کی رسائی انٹرنیٹ کے ذریعے علم کے بے کراں خزانوں تک ہے، سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ان جدید علوم سے مستفید ہو کر معاشرتی پسماندگی کو دور کرنے کا جتن کرے گی۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے دماغ کی کھڑکیوں پر پڑے تالے ہٹا کر تازہ ہوا کو اندر داخل ہونے کا راستہ دے۔


پہلا حصہ: آؤ عدنان کاکڑ کو ارتقا کی سائنس سمجھائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

3 thoughts on “آؤ عدنان کاکڑ کو ارتقا کی سائنس سمجھائیں (حصہ دوئم)۔

  • 26/10/2016 at 4:02 am
    Permalink

    اختلاف اور مکالمہ کی ایک برکت یہ بھی ھے کہ اس سے علم کے وہ در خُود بخود وا ہو جاتے ہیں جو شاید عدمِ اختلاف کے باعث ہمیشہ بند ہی رہتے۔مضمون کے دُوسرے حصّے کا انتظار رہے گا

    • 26/10/2016 at 9:27 am
      Permalink

      یہ مضمون کا دوسرا حصہ ہے۔ پہلے حصے کا لنک مضمون کے شروع میں دیا گیا ہے

  • 26/10/2016 at 4:20 pm
    Permalink

    Very informative piece of writing. We all expect such more pieces from writer on this very important topics for guidence of youth.

Leave a Reply