بوٹ کی کہانی خدمت سے شہرت تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوتا بڑی نعمت ہے۔ عوام اور حکومت دونوں ہی جوتے کے سہارے چلتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ لوگ جوتے پاؤں میں پہن کر چلتے ہیں اور حکومت سر پر پہن کر چلتی ہے۔ اور پھر سردی میں اگر آپ بوٹ کے بغیر چلنے کی کوشش کریں گے تو آپ کے پاؤں سن ہو جائیں گے اور حکومت بوٹ کے بغیر چلنے کی کوشش بھی کرے گی تو اس کا دماغ سن ہو جائے گا اور جلد ہی ڈگمگا کر گر پڑے گی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہم سب نے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسا ہوتے دیکھا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے چند سال نکال کر کون سی ایسی حکومت ہے جو بوٹ کے بغیر چلی ہے۔ بوٹوں کے بغیر تو درکنار، بوٹوں کی کھینچی ہوئی لکیر سے معمولی سا ادھر ادھر ہونے سے پاؤں چھلنی ہو جاتے ہیں، دماغ شل ہو جاتے ہیں اور حکومت دھڑام سے گر جاتی ہے۔ نوے کی دہائی تو آنکھ مچولی کی دہائی تھی کیونکہ بوٹوں نے مرد مومن مرد حق اور ہمارے ناقابل شکست کمانڈو کے درمیان تھوڑی سی بریک لے رکھی تھی۔ نواز شریف اور بے نظیر نے دونوں مرتبہ ہی سمجھا کہ شاید وہ وزیراعظم ہیں اور جوتوں کو صرف پاؤں میں پہن کر بھی حکومتیں چلا سکتے ہیں۔ لیکن دونوں ہی دونوں مرتبہ غلط نکلے اور ملک میں استحکام تب آیا جب کمانڈو کو خود مع بوٹ قربانی دینا پڑی۔ حکومت نے بوٹ سر سے اتارنے کی کوشش کیا کی کہ بوٹ اچھل کر ساری قوم کے سر پر پڑا۔

اس دفعہ باقی دنیا کو ہمارا بوٹ پسند نہ آیا لیکن بھلا ہو نائین الیون کا، دیسی ماڈرن بوٹ کو امریکی بوٹ کا سہارا بھی بالکل ویسا ہی مل گیا جیسے اسی کی دہائی میں ضیائی اسلامک بوٹ کو ملا ہوا تھا۔ ہم امریکی بوٹ چمکاتے رہے، ڈالروں کا ٹیکا لگتا رہا اور بدلے میں وقت ٹھیک گزر گیا۔ بھینس اور عوام کی کھال کو اتنا تناؤ محسوس نہیں ہوا جتنا ہونا چاہیے تھا۔ ویسے بھی جب ذمہ داری بوٹ نے خود لے رکھی ہوتی ہے تو ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے۔ پاکستان ترقی کر رہا ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ساٹھ کی دہائی میں پاکستان اتنا ترقی یافتہ ہو گیا تھا کہ مزید ترقی کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی تھی۔

ترقی کے ساتھ ساتھ بوٹ ملک دشمنوں کا راستہ روکنے کے کام بھی آتا ہے۔ جیسا کہ مس جناح سے لے کر نواز شریف تک کو اگر روکا نہ جاتا تو ملک کو کب کا دشمنوں کے ہاتھ بیچ دیا گیا ہوتا۔

پھر ایک مختصر سا جھٹکا آیا کالے کوٹ نے بوٹ کو تو جیسے پاؤں ہی میں پہن لیا تھا۔ بڑی خوش فہمیوں نے جنم لیا۔ بے کار لوگ سمجھ بیٹھے جیسے وہ اب ننگے سر ہی حکومتیں چلا لیں گے۔ بعد میں پتا چلا کہ کالے کوٹ کے اندر سے بھی بوٹ ہی اپنا راستہ نکال رہا تھا۔

لیکن صورت حال پھر بھی تھوڑی سی بدلی۔ بے نظیر اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں اور زرداری صاحب بہت اچھا سبق سیکھ چکے تھے۔ اس لیے وزیراعظم کی تو قربانی ہو گئی لیکن سیاسی حکومت بوٹوں کے ماتحت جاری رہی حتی کہ وقت پر الیکشن ہوئے اور حکومت بدلی۔ اب ایک دفعہ پھر نواز شریف اسی پرانی غلط فہمی کا شکار ہو گئے۔ ان کا خیال تھا کہ جیسے تیسری دفعہ وزراعظم بننے پر ان کی حکومت کو بوٹ سر پر پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اسامی اور بوٹوں کو خالی کون رہنے دیتا ہے۔ اسامی فوراً فل ہو گئی۔ شیخو کو ایک نیا کان مل گیا جسے کھینچ کر کنٹینر پر لے آئے اور اسی کنٹینر پر کھڑے ہو کر وہ سر عام اس کان میں کانا پھوسی کرنے لگے۔

شہباز شریف چیختے رہے کہ اسامی خالی نہ چھوڑو لیکن نواز شریف کو تو ڈٹے رہنے کا پوز پسند آ گیا تھا، بات تھی پوز کی حد تک ہی۔ حتی کے پی ٹی آئی نے بوٹ کو اپنے ضمیر کی پالش سے چمکانے کا ہنر خوب سیکھ لیا اور قابل اعتبار ثابت ہو گئے۔ نتیجہ یہ کہ اب وہ نہ صرف موجودہ بلکہ سابقہ بوٹ کی بھی خوب سروس کرتے ہیں۔ حکومت نے مشرف دور کے سارے تجربہ کار ہنر مند اکٹھے کر لیے ہیں۔ بات یہاں تک پہنچی کہ اب پارٹیوں کو خود نہیں معلوم کہ ان کے لوگ کس کے کوٹے پر وزیر بنے بیٹھے ہیں۔ لچک اتنی زیادہ ہے کہ صبح وزارت سے استعفی دے کر دن کو وکالت کرتے ہیں اور شام کو پھر حلف اٹھا کر وزیر بن جاتے ہیں۔ اتنی خوب صورتی اور آسانی شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملتی ہو۔

اب بات یہاں تک پہنچی ہے کہ بوٹ کی عزت اور بے عزتی صرف بوٹ کے مالک کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ اس میں بھینسوں، موچیوں اور وزیروں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ بھینس اپنی کھال دیتی ہے لیکن بدلے میں کچھ مانگتی نہیں کیونکہ وہ عوام کی طرح مر چکی ہوتی ہے، موچی اپنی محنت اور ہنر دیتا ہے اور تنخواہ پاتا ہے اور وزیر صاحبان اسے اپنے ضمیر کی پالش سے چمکاتے ہیں اور بدلے میں جھنڈے والے گاڑی، حریم شاہ اور صندل خٹک کے ساتھ ٹک ٹاک اور ٹی وی اینکروں کے ساتھ دوستیاں پاتے ہیں۔

اسے ڈویژن آف لیبر کہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مارکس ڈویژن آف لیبر کا بہت مخالف تھا اور کہتا تھا کہ اس سے کام یکسانیت کا شکار ہونے کی وجہ سے بور ہو جاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے مارکس غلط کہتا تھا۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے وزیر بالکل بھی بور نہیں ہوتے، جھنڈے والی گاڑی سے نہ ضمیر فروشی سے۔ بلکہ دیکھا یہ گیا ہے ہے کہ بوٹ کی شان بڑھانے کا کام واحد ایسا کام ہے جس کے لیے حکومت اور اپوزیشن نہ صرف ایک پیج پر ہیں بلکہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے ہیں۔ بوٹ بھی برا نہیں مناتا، خدمت کا نہ شہرت کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 232 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *