فاطمہ بھٹو کی سیاست میں آنے کی تیاریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فاطمہ بھٹو پاکستان کی سیاست میں تاریخ رقم کرنے والے اور انقلاب کے لیے بے حد جانی و مالی قربانیاں دینے والے بھٹو خاندان کی دختر نیک اختر ہیں۔ اسی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی ہیں جس ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اور اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی۔ اسی انقلابی رہنما شہید میر مرتضٰی بھٹو کی صاحبزادی ہیں جس نے 16 سال افغانستان، فلسطین، شام، لبنان اور دوسرے مختلف ممالک میں جلاوطن گزارے اور ملک واپس آنے کے بعد اپنے ہی گھر کے سامنے شہید ہو گئے۔

فاطمہ بھٹو کا نام سنتے ہی غریب و مظلوم طبقوں میں اتساہ پیدا ہونے لگا ہے اور لاتعداد امیدوں کی کرنیں جاگنے لگی ہیں۔ جیسے کہ اندھیرے سے بھرے ہوئے اس ملک میں فاطمہ بھٹو ان کے لیے کوئی نیا روشن سورج، ان کے بچوں کے لیے بہتر تعلیم، روزگار، محکموں کے لیے آزادی، ظلم و جبر کے ستائے ہوئی مظلوموں کے لیے عدل و انصاف، بے گھروں کے لیے گھر، بے سہاروں کے لیے سہارا، بھوکے اور ننگے لوگوں کے لیے روٹی اور کپڑا لائیں گی۔ اداروں سے کرپشن کا خاتمہ کریں گی۔ بہرحال لوگوں کی امیدوں کا ٹھکانہ نہیں۔

فاطمہ بھٹو بین الاقوامی ادب میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔ فاطمہ بھٹو نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے ملک پاکستان کا نام بھی خوب روشن ہونے لگا ہے جو کہ ایک ایسی لڑکی کی محنت کا نتیجہ ہے جس کے اپنی ماں کی گود میں سکوں سے سونے والے دن مختلف تکلیفوں میں گزرے۔ فاطمہ بھٹو نے شاعرہ، ناول نگار اور ادیبہ اور بہت بڑی لکھاری بن کر اپنے وطن آنا جانا شروع کر دیا ہے اور چھوٹے عرصے میں تین بار اپنے ملک کا چکر لگا چکی ہیں اور اپنے والد محترم کے دوستوں اور پارٹی (پ پ پ شہید بھٹو) کے کارکنوں سے ملاقاتیں جاری ہیں۔

فاطمہ بھٹو سے ملنے والوں کا کہنا ہے کہ فاطمہ بھٹو کی گفتگو کا محور کارکنوں سے سیاسی انتقامیں کارروائیوں میں مخالفین کی جانب سے دیے گئے دکھوں، دردوں اور تکلیفوں اور جیلوں میں قید و بند سمیت دیگر مختلف سوالات پر مبنی ہے۔ فاطمہ بھٹو کی وطن واپسی پر شہید بھٹو کے کارکنوں میں خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا ہے اور ایک نیا جوش و جذبہ اٹھ کھڑا ہوا ہوتا ہے جو کہ فاطمہ بھٹو کے چاروں اوڑھ ”ظلم و جبر کا خاتمہ فاطمہ فاطمہ“، ”کرپشن کا خاتمہ فاطمہ فاطمہ“ کے جیسے نعروں کی گونج میں سے صاف دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

فاطمہ بھٹو نے وطن سے دور تعلیم حاصل کرتے ہوئے وطن اور اپنے والد کے دیے ہوئے انقلابی نظریے کو کبھی نہیں بھولی ہیں۔ فاطمہ بھٹو اپنے والد محترم کے ادھورے مشن کو پورا کرنا چاہتی ہیں۔ جب کہ دوسری جانب فاطمہ بھٹو سیاست پر کوئی بات نہیں کر رہی ہیں نہ ہی ملکی سیاست میں حصہ لینے کے بارے میں رائے دے رہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے فاطمہ بھٹو کسی موزوں وقت کا انتظار کر رہی ہیں۔ لیکن فاطمہ بھٹو کے ملکی دورے سیاست کی تیاریاں نہیں تو اور کیا ہیں؟

اگر فاطمہ بھٹو سیاست میں حصہ لے بھی لیں تو کیا اس ملک کا نظام فاطمہ بھٹو کو سیاست کرنے دے گا۔ مانتے ہیں کہ فاطمہ بھٹو اپنی عقل و دانش کے زور پر ایک ہوشیار و ہونہار لڑکی ہیں پہر بھی کیا وہ پیروں، میروں، مرشدوں، وڈیروں اور سرمائیداروں سے عوام کو چھٹکارا دلا سکیں گی اور طبقاتی نظام کا خاتمہ کر سکیں گی؟ یہ الگ بات ہے کے ان کے خاندان کی اپنی مقبولیت ہے اور عوام فاطمہ بھٹو کی حمایت بھی کرے گا؟ لیکن کیا فاطمہ بھٹو اپنی جدوجہد اور ذاتی اہلیت سے عوام کے ذہنوں کو شعور کی طرف گامزن کر پائیں گی؟ کیا جہالت میں پھنسا ہوا عوام فاطمہ بھٹو کی، علم و شعور، مزدور اور ہاری طبقے سے محبت، عوامی سیاست اور انقلابی فلسفے کو سمجھ سکے گا۔

جب پڑھے لکھے اور سماجی و سیاسی شخص کے ذہن میں فاطمہ بھٹو کا نام آتا ہے تو مسلسل سوار ہی ہو جاتا ہے۔ ایک گھری سوچ میں چلا جاتا ہے اور مختلف نقطہ نظر سے سوچتا رہتا ہے۔ فاطمہ بھٹو بین الاقوامی سیاست کو بھی اچھی طرح سمجھ گئی ہیں جس کی وجہ سے سیاست میں آنے میں اتنی دیر لگائی ہے۔ وہ سیاستدانوں کے خاندان کی فرد اپنی جگہ پر لیکن خود کو اپنی اہلیت سے بھی منوا چکی ہیں۔ اس سماج سے سماجی بیماریوں کے خاتمے کے لئے سماجی ڈاکٹر یعنی قلمکار بنی ہیں۔

(قلمکار معاشرتی ڈاکٹر ہوتا ہے ) لیکن بیماریوں سے گھرا ہوا ہمارا معاشرہ جہالت جیسی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا بھی ہے یا نہیں اس بات کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ فاطمہ بھٹو اپنے ملک کے عوام کو شعور کی طرف گامزن کر پائیں گی یا نہیں؟ صرف نام اور دکھاوے کی جمہوریت کو حقیقی جمہوریت کی شکل دلا سکیں گی یا نہیں؟ آج کل اہل شعور کی ذہنوں میں کجھ اس طرح کے سوال گردش کر رہے ہیں۔

جیسا کہ پاکستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے اس لیے فاطمہ بھٹو کی سیکورٹی کے حوالے سے بھی بہت سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سوچتے ہیں پاکستان کے پاس دنیا کے مضبوط ترین سکیورٹی ادارے ہیں مگر شہید بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت بھی تو یہی سب ادارے موجود تھے۔ فاطمہ بھٹو ایک انقلابی لڑکی ہے اور انقلاب حکومتیں حاصل کرنے سے نہیں بلکہ عوام میں شعور پیدا کرنے سے آتا ہے۔ اس لیے فاطمہ بھٹو کو چاہیے ہوگا کہ پہلے عوام میں شعور پیدا کرنے کے لیے مختلف پہلوؤں سے جدوجہد کریں۔

اس کے لیے چاہے انہیں کوئی بھی راستہ اختیار کرنا پڑے اور فاطمہ بھٹو واضح طور پر اپنا بیان بھی دے چکی ہیں کہ وہ موروثی سیاست کبھی نہیں کریں گی اس سب کے لیے فاطمہ بھٹو کو عوام میں جانا پڑے گا عوامی سیاست کرنی پڑے گی۔ اسٹیدی سرکل کے کلاسز چلانے پڑیں گے۔ ویسے بھی شعور جلدی نہیں آتا ہے لمبی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ خطروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بھٹو خاندان کی لازوال قربانیاں ہیں اور قربانیاں کبھی بھی رائگاں نہیں جاتی ہیں۔ اس لیے عوامی حمایت فاطمہ بھٹو کے ساتھ رہے گی۔

یہ اٹل ہے کہ ایک فاطمہ بھٹو پاکستان کے باقی سبھی سیاسی جماعتوں پر بھی بھاری پڑیں گی۔ اس لیے مخالفوں میں ابھی سے اندرونی طور پر ہلچل مچی ہوئی ہے۔ خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے سر میں درد ہونے لگا ہے اور اپنی کرسیوں کو زور سے جکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ فاطمہ بھٹو پاکستان کے باقی سیاستدانوں سے تو الگ ہیں ہی لیکن بھٹو خاندان کے باقی سیاستدانوں سے بھی مختلف دکھ رہیں ہیں۔

وہ جب بھی سیاست کا آغاز کریں گی عوام میں اتر پڑیں گی اور عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے محنت کریں گی۔ لیکن اس سب کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک اور بھی سوچ جنم لے رہی ہے کہ پاکستان میں تو عوامی سیاست کرنے والوں کو، عوامی حقوق کے لیے سیاست، انقلابی سیاست عوام کے لئے سیاست کرنے والوں کو تو برداشت ہی نہیں کیا جاتا ہے۔ جب کہ اس بات کی ماضی بھی گواہی دے رہا ہے لیکن اب ملکی اور بین الاقوامی حالات کجھ مختلف ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *