دروازہ نہیں کھلتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ جو بڑے لوگ ہوتے ہیں، جینے کا ہنر بھی جانتے ہیں، بات کہنا بھی انہیں آتی ہے اور یہ رقیب سے بھی راز و نیاز کر لیتے ہیں۔ عرفان اور نروان کی ان منزلوں کا اندازہ نیاز و ناز سے ہوتا نہیں۔ ہم جیسے کم نظر اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ پاتے، دشت نوردی کا حوصلہ اور گہرے پانیوں سے شناوری کی تاب نہیں رکھتے، نتیجہ یہ کہ مٹھی بھر ریت سے ایک تنک سا سچ تراش کے خود ہی سجدے میں گر جاتے ہیں، مفروضہ اختلاف کی اوٹ سے دوسروں پر نظر حقارت ڈالتے ہیں۔ اس سے ہماری انا کی تسکین ہوتی ہے، اپنے احتساب سے نجات مل جاتی ہے۔ ایک دن اسی نیم تاریک، نیم روشن منطقے میں ادھر ادھر بھٹکتے بغیر کوئی نشان چھوڑے فنا کی حتمی تاریکی میں اتر جاتے ہیں۔ جستجو کا پہاڑ ہم سے سر نہیں ہوتا اور معنی کی نعمت ہمیں میسر نہیں آتی۔

جدید اردو ادب کے چار بڑے نام لیجئے۔ فیض احمد فیض، اشفاق احمد، منیر نیازی اور انتظار حسین۔ ان میں سے ہر ایک کا اپنا رنگ اور اپنا مسلک تھا۔ اپنی افتاد اور اپنا لحن تھا، اپنے موضوعات تھے اور شخصی تاثر میں اجرام فلکی جیسا فاصلہ۔ 1959ء میں منیر نیازی کے پہلے مجموعے ’ تیز ہوا اور تنہا پھول‘ پر اشفاق احمد نے دیباچہ لکھا۔ جیسی اعلیٰ شاعری تھی، ویسا ہی جھرنے جیسا رواں پیش لفظ تھا۔ 1983ء میں ’ساعت سیار‘ آیا تو فیض صاحب نے پیش لفظ تحریر فرمایا۔ منیر کی جامع و مانع قدر پیمائی کے بعد بہت محبت سے اختصار ہی کی شکایت کی۔ فیض صاحب کا اپنا Swan Song  ’شام شہر یاراں‘  آیا تو اس پر اشفاق صاحب کا دیباچہ جگمگا رہا تھا۔ پڑھ لیجئے کہ فیض کو کس مقدس مجلس میں بچشم تصور دکھایا ہے۔ ان تین بزرگوں کی دنیا سے الگ بستی انتظار حسین کی تھی۔ انتظار صاحب مصری کی ڈلی تھے اور منیر نیازی ایک جرعہ تلخاب۔ محمود الحسن سے انتظار حسین کا قول روایت ہے کہ ’شاعری میں منیر نیازی کے ہاں مجھے لگا جو میں کہنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہہ رہا ہے‘۔ بات یہ کہ اختلاف رائے کو مخالفت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اختلاف کا احترام اپنی جگہ لیکن عناد پالنے سے اپنے ہی پاؤں کٹ جاتے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت ہی کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ پرویز مشرف کراچی میں پلے بڑھے اور اسلام آباد کے رہائشی ہیں۔ منتخب وزیر اعظم کو سزائے موت سنانے اور خود ساختہ صدر کی داد رسی کی سعادت البتہ لاہور ہائی کورٹ کے حصے میں آئی۔ ایں سعادت بزور بازو نیست۔ (واضح رہے کہ شاعر نے زور بازو کی پرزور تردید کی ہے۔) درویش نے قانون کی تعلیم پائی، اس پیشے سے وابستگی نہیں رہی۔ قانوں جاننا اور اس کے بارے میں رائے رکھنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر متعدد آئینی اور قانونی سوال اٹھتے ہیں۔ خصوصی عدالت 17 دسمبر 2019ء کو فیصلہ سنانے کے بعد عملی طور پر تحلیل ہو گئی اور اس کے فیصلے پر قانون کے مطابق صرف سپریم کورٹ ہی میں اپیل کی گنجائش ہے۔ سپریم کورٹ نے 19 مارچ 2014ء کو انور منصور خان کی طرف سے خصوصی عدالت کے اختیار سماعت کو چیلنج کرنے کی درخواست خارج کر دی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی موجودگی میں ہائی کورٹ کا فیصلہ محل نظر ہے۔ حسن اتفاق سے انور منصور مارچ 2014ء میں پرویز مشرف کے وکیل تھے اور اب اٹارنی جنرل ہیں۔ اتفاق سے انور منصور خان کو چھ برس تک 19 مارچ 2014ء کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کا خیال نہیں آیا۔

لاہور کی عدالت عالیہ نے سپریم کورٹ کے مصطفیٰ کیس (2016) سے استفادہ کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ خصوصی عدالت کے قیام کی وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی۔ پرویز مشرف سے متعلق خصوصی عدالت کے قیام کی سفارش وزارت قانون نے 2013 میں کی تھی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے 2016 میں ہونے والی آئینی تشریح کا اطلاق 2013 کے اقدام پر کیسے ہو سکتا ہے؟ لاہور ہائی کورٹ نے نتیجہ نکالا ہے کہ پرویز مشرف کو 2010 کی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں آرٹیکل چھ کی تبدیل شدہ شکل کی روشنی میں سزا سنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سندھ بار ایسوسی ایشن کیس میں سپریم کورٹ کے 14 رکنی بنچ نے ارٹیکل 6 کے اصل متن میں موجود الفاظ تنسیخ (Abrogate) اور خلل اندازی (Subvert) کی تشریح کر دی تھی جو 3 نومبر 2007 کے اقدام کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کا اٹھارہویں آئینی ترمیم سے کوئی تعلق نہیں۔

عزت مآب جسٹس مظاہر نقوی نے آئین کی تنسیخ کے ضمن میں جنرل ضیا الحق کے انٹرویو کا حوالہ دیا ہے کہ مرحوم جنرل نے آئین کو بارہ صفحات کا کتابچہ قرار دیا تھا۔ پرویز مشرف نے بھی آئین کو کوڑے دان کے قابل قرار دیا تھا اور یہ اعلان کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہے۔ پرویز مشرف کے رفیق جنرل شاہد عزیز نے اپنی کتاب میں لکھا کہ وہ آئین کے تحفظ کو اپنا فرض نہیں سمجھتے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کہتی ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت پرویز مشرف کا بیان ریکارڈ نہیں کی گیا۔ اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا سپریم کورٹ میں دیا گیا فیصلہ موجود ہے کہ اگر ملزم متعدد مواقع دیے جانے کے باوجود بیان دینے سے دانستہ انکار کرے تو اس کا یہ قانونی حق ساقط ہو جاتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل چھ میں مستغیث کا مقام وفاقی حکومت کو سونپا گیا ہے۔ اس مقدمے میں حسن اتفاق سے ملزم کے سابق وکیل ہی وفاق کی نمائندگی کر رہے تھے اور عدالت عالیہ نے علی ظفر کو عدالتی معاونت کے لئے چنا جنہوں نے اپنی قانونی بصیرت کی روشنی میں فریق مخالف کے موقف سے اتفاق کر لیا۔ ملکی دستور سے کھلواڑ کے مقدمے میں 22 کروڑ باشندوں کا وکیل ہی موجود نہیں تھا۔ عشروں پر پھیلے دکھوں کی اپیل میں ہماری دلیل کی شنوائی نہیں ہوئی۔ تاریخ کا دروازہ ابھی باقی ہے۔ زنجیر ہلاتے رہنا چاہیے۔ مقدمہ حق حکمرانی کا ہو تو یہ سوچ کر دستبردار نہیں ہوتے کہ دروازہ نہیں کھلتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *