ہم خوش کیوں نہیں
ہم خوش نہیں ہیں۔ یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ بطور انسان ہم خوش نہیں، مطمئن نہیں۔ ہمارے دل مضطرب، بے چین اور مسلسل بے سکونی میں مبتلا ہیں۔
لیکن ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کے جواب کو ڈھونڈتے مجھے ایک عرصہ گزر گیا۔ میں کئی سال اسی ایک سوال کے جواب کو پانے کے لئے بھٹکتا رہا۔ چونکہ میں طالب علم ہوں سو اسی درجہ سے جو مجھ سے ہو پایا میں کرتا رہا۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لئے اک بار میں اپنے معاشیات کے پروفیسر کو ملا۔ وہ بہترین پروفیسر ہیں پی ایچ ڈی پروفیسر۔ مجھے یقین تھا کہ وہ مجھے ضرور اس حوالے سے مطمئن کر دیں گے لہذا میں نے اپنا سوال ان کے سامنے رکھا۔
وہ سوال سن کر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے۔ بیٹا یہ کوئی انہونی یا عجیب بات نہیں۔ دیکھو ہم جس خطے میں رہتے ہیں یہ خطہ بہت غریب ہے یہاں بسنے والے کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے میں لوگوں کو معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا سامنا روز بنیادی اشیاء تک سے محرومی میں ہوتا ہے۔ ہمارے خطے کے بیشتر ممالک بہت بڑے معاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ایسے میں وہ اپنے لوگوں کو روزگار تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات تک کو پورا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایسے میں اس قوم کے لئے پرسکون اور اطمئنان والی زندگی کس طرح دے سکتے ہیں اگر اس کے برعکس آپ امریکی اور یورپ کے ممالک پر غور کرو تو کیونکہ وہاں معاشی مسائل موجود نہیں تو زندگی بہت حد تک پرسکون اور خوشیوں سے لدی پڑی ہیں
میں نے کھنگھورا مارا اور معذرتانہ لہجہ میں بات ٹوکتے ہوئے بولا سر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہاں زندگی پرسکون ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ یہ مذکورہ ممالک انتہائی خاندانی مسائل کا شکار ہیں۔ یہ سب تو اطمینان اور سکون سے متضاد ہے سکون اور خوشی تو راحت دیتا ہے مگر ان مسائل میں راحت میرا نہیں خیال حاصل ہو
پروفیسر صاحب نے لمحہ بھر توقف کیا اور پھر سے بولے ہاں میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب دولت کی فراوانی کے نقصانات ہیں۔ مگر پھر بھی۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ بولتے میں نے عرض کی سر پھر میں سمجھوں کہ معیشت اس مسئلے کی وجہ نہیں وجہ کوئی اور ہے۔
پروفیسر صاحب نے کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا اور بڑی خوش اخلاقی سے مجھے سلام کر کے اٹھے کہ میری کلاس کا وقت ہو گیا۔
وہ چلے گئے مگر مجھے مزید پریشان کر کے۔ میں وہیں بیٹھا تھا کہ میری نظر سائکالوجی کے پروفیسر صاحب پر پڑی میں کھڑا ہوا اور ان سے جا ملا۔ اپنا کچھ تعارف کروانے کے بعد اپنا مسئلہ ان کے سامنے رکھ دیا۔
وہ میرا سوال سن کے ہنستے ہوئے بولے تم کیوں چاھتے ہو کہ دنیا پرسکون اور مطمئن زندگی گزارنے لگے۔ اگر یہ خواہش تمھاری اپنے لئے ہے تو تم فرد واحد کے لئے میں مشورہ دینے کو حاضر ہوں۔ لیکن اگر تم ساری دنیا کے بکھیڑے میں ہو تو سمجھ لو کہ یہ سکون نہیں ہو سکتا۔
میں حیرانی سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ مسلسل بولے جارہے تھے۔
انہوں نے فرمایا کہ اگر لوگ مطمئن ہو جائیں تو وقت تھم جائے گا، ترقی رک جائے گی۔ انسانی خواہش ہی اس دنیا میں نئی ایجادات کی بنیاد ہے۔ اور اگر تم چاھتے ہو کہ دنیا ترقی کرتی رہے تو ان کا بے سکون رہنا لازم ہے۔
میں چونکا اور عرض کی کہ سر میری مراد انسانی خوشی کی طرف ہے وہ جو نئی سے نئی ایجادات نئی سے نئی آسائش پا لینے پر بھی مضطرب ہے۔ آپ نہیں سمجھتے یہ اضطرابی کیفیت نقصان دہ ہے اس کی خود کی صحت کے لئے۔ اس کا اثر تو عائلی زندگی پر بھی ہوتاہے۔ معاشرتی بگاڑ بھی اسی کا شاخسانہ ہے۔ اس جبر مسلسل سے انسان نفسیاتی مریض ہو رہے ہیں۔
وہ پھر سے مسکرائے اور بولے ایسے میں ہم کس مرض کی دوا ہیں ان نفسیاتی بیماریوں ہی کا تو علاج ہم کرتے ہیں
میں نے عرض کی سر اس بیماری کا دائمی علاج تو آپ بھی نہیں کرتے۔ کیا کوئی دائمی علاج ہے اس کا آپ کے پاس؟
انہوں نے سر کو نفی میں ہلایا اور بولے نیند ہاں نیند ہی وہ واحد چیز ہے جو اس بوجھ کو کچھ کم کرتی ہے انسان کو پھر سے اس اعصاب شکن محاذ پر لڑنے کے لئے تیار کرتی ہے اسی لئے ہم ڈاکٹرز نیند آور ادویات کو ان مریضوں کے علاج کے لئے استعمال کرتے ہیں
اب کی بار میں ہنسا اور عرض کی نیند تو عارضی موت ہے کیا میں سمجھوں کہ موت ہی انسان کو دائمی سکون عطا کر سکتی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتے میں اٹھ کھڑا ہوا آخری سلام عرض کیا اور چل نکلا۔ میں بہت حد تک ان کی باتوں سے مطمئن تھا مگر مکمل طور پر مطمئن نا ہو سکا میری کھوج ادھوری تھی۔
اگلی شام عصر کی نماز کے وقت میں اپنے گاؤں کی مسجد میں تھا۔ میں چونکہ جماعت کے وقت سے بعد میں پہنچا تو میرے گاؤں کے امام صاحب نماز کے بعد قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول تھے میں نے نماز ادا کی اور وہیں بیٹھ گیا۔ امام صاحب تلاوت بھی کرتے جاتے اور مجھے بھی دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے تلاوت ختم کی قرآن پاک الماری میں رکھا اور میرے قریب آ گئے۔ سلام دعا کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا بیٹا کچھ پریشان ہو۔ میں نے ان کی طرف دیکھا۔ دل کیا کہ ان کو پریشانی بتا دوں۔ مگر یہ سوچ کر خاموش رہا کہ کیا یہ میرے سوال کا جواب دے پائیں گے؟
مجھے کھویا ہوا دیکھ کر وہ پھر بولے بیٹا بتاؤ کیا مسئلہ ہے۔
میں نے نا چاھتے ہوئے بھی اپنا مسئلہ بیان کر دیا۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور بولے یہ بتاؤ تمھارے پاس وقت ہے۔ میں نے عرض کی جی مولوی صاحب میں اب مغرب کی نماز تک یہیں بیٹھوں گا۔ تو وہ بولے بیٹا سنو۔
ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کے لئے اپنا پہلے والا گھر بیچنا چاہا۔ اس مقصد کے لئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا تھا۔
اس شخص نے اپنے دوست کو مُدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے گھر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ دے۔
اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح سے جانتا تھا۔ اشتہار کی تحریر میں اُس نے گھر کے محل وقوع ’رقبے‘ ڈیزائن ’تعمیراتی مواد‘ باغیچے ’سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔
اعلان مکمل ہونے پر اُس نے اپنے دوست کو یہ اشتہار پڑھ کر سُنایا تاکہ تحریر پر اُسکی رائے لے سکے۔ اشتہار کی تحریر سُن کر اُس شخص نے کہا۔ ”براہ مہربانی اس اشتہار کو ذرا دوبارہ پڑھنا۔ “
اُس کے دوست نے اشتہار دوبارہ پڑھ کر سُنا دیا۔ اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سُن کو یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا۔ ”کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں؟ اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو۔ مہربانی کر کے اس اشتہار کو ضائع کر دو۔ میرا گھر بکاؤ ہی نہیں ہے۔ ”
مولوی صاحب بولتے جا رہے تھے۔
ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دو۔ یقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی۔
اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم اُن کو گننا ہی نہیں چاہتے۔ ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی اور کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔
” میں اپنے ننگے پیروں کو دیکھ کر کُڑھتا رہا۔ پھر ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو شکر کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا۔ “
اب آپ سے سوال۔
کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر ’گاڑی‘ ٹیلیفون ’تعلیمی سند‘ نوکری وغیرہ وغیرہ وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جب آپ اپنی گاڑی پر سوار جا رہے ہوتے ہو تو وہ سڑک پر ننگے پاؤں یا پیدل جا رہے ہوتے ہیں۔کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتے تھے اور نا کر سکے۔ اور آپ کے پاس تعلیم کی سند موجود ہے۔ کتنے بے روزگار شخص ہیں جو فاقہ کشی کرتے ہیں اور آپ کے پاس ملازمت اور منصب موجود ہے۔ ہزاروں باتیں لکھی اور کہی جا سکتی ہیں۔ کیا خیال ہے۔ ابھی بھی اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور اُنکا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں آیا کہ ہم کہہ دیں۔
” یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ میں نادان ہوں ’مجھے معاف کر دے! “
انہوں نے پل بھر کا توقف کیا اور پھر سے بولے کہ دیکھو بیٹا اللہ تعالی فرماتے ہیں آیت کا مفہوم ہے کہ ”اگر شکربجا لانا چاھتے ہو تو اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھو“
یقینا تم میری بات سے متفق ہو گئے کہ اصل خوشی تب حاصل ہوتی ہے جب تم جان لو کہ تم خود کسی چیز پر قادر نہیں اور جو قادر ہے اس نے تمھیں بہت سوں سے بہتر دے رکھا ہے
خود سے بہتر لوگوں کو دیکھو گے تو کبھی اطمینان اور حقیقی خوشی کو نا پا سکو گے۔ اگر چاھتے ہو کہ حقیقی خوشی تمھیں میسر ہو تو خدا کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنا سیکھو۔ شکر ادا کرو گے تو خدا تمھیں اور نوازے گا جیسے کوئی بادشاہ اپنے غلاموں کو نوازتا ہے وہ تو پھر سب جہانوں کا بادشاہ ہے۔
میں الفاظ سے اپنے جذبات کا اظہار نا کر پایا لیکن یقین کیجئیے میرا دل اس لمحے مولوی صاحب کا ہر دھڑکن سے شکریہ ادا کر رہا تھا کہ سچ میں آپ نے مجھے ساری بات سمجھا دی


