ہواخوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شگوفوں سے بھرپور محفل میں موجود بٹ صاحب نے جب دوسری بار اپنے ازار بند کی پوزیشن تبدیل کی تو اہل محفل جان گئے کہ بٹ صاحب کو یا تو بھوک لگی ہوئی ہے اور یا پھر گیس کے اخراج کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔ بٹ صاحب نے تیسری بار ازار بند کو تکلیف دینے کی بجائے دونوں ہاتھوں کو زمین پر لگا کر اپنا بوجھ اٹھایا اور حسب ضرورت پھرتی دکھاتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف لپکے۔ دروازہ کھول کر بٹ صاحب اپنا وجود مکمل طور پر کھلی فضا میں لے جاچکے تھے اور دروازہ بند ہونے میں ابھی ایک چوتھائی وقفہ تھا کہ شرکاء محفل نے ”بادشکم“ کے آزاد ہونے کی بلند آواز سنی تو محفل میں ایک زور دار قہقہ بلند ہوا۔ بٹ صاحب ”گیس“ کو آزاد کرنے کے بعد دوبارہ محفل میں نمودار ہوئے تو راجہ صاحب سے رہا نہ گیا اور کھسیانی ہنسی کے ساتھ پوچھ ہی لیا کہ بٹ صاحب کہاں گئے تھے؟

بٹ صاحب نے پراعتماد لہجے کے ساتھ جواب دیا کہ ذرا ہوا خوری کرنے گیا تھا اس جواب پر محفل میں دوبارہ قہقہ بلند ہوا اور پروفیسر صاحب نے بٹ صاحب پر طنزیہ حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے میٹرک سائنس کے ساتھ کی ہوتی تو آپ کو معلوم ہوتا کہ ہوا خوری اور گیسوں کے اخراج میں کیا فرق ہے؟ ہوا خوری جرم نہیں ہے بلکہ شخصی اور شہری آزادیوں کا بڑا حصہ ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ ہوا خوری صاف جگہ پر کی جائے نہ کہ گندگی کے ڈھیر پر گندی گیسوں کے اخراج کے پاس کھڑے ہو کر کی جائے۔ پاکستان کے زیادہ تر شہر ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہیں لیکن اس کے باوجود شہری ہوا خوری کے لئے لازمی صبح و شام نکلتے ہیں۔ حیرت تو یہ ہے کہ کوئی بھی شہری یہ نہیں کہتا کہ وہ گندی ہوا خوری کرنے جارہا ہے یا کرکے آرہا ہے۔

پاکستان میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شہری کسی پرفضاء مقام پر چلے جائیں تو ان کے پھیپھڑے ساتھ چھوڑتے ہوئے اور دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح موجودہ دور کے لوگ اچانک خالص دیسی گھی کھا لیں تو ان کے پورے جسم سے دھواں نکلنے لگتا ہے لیکن وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صرف کانوں سے دھواں نکل رہا ہے۔ بہرحال ہماری قومی سیاست میں آج کل ہوا خوری کو ایسے پیش کیا جارہا ہے جیسے یہ کوئی ناپسندیدہ عمل ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی ہوا خوری کی کوشش کو پی ٹی آئی کے کرما فرما ایسے پیش کررہے ہیں جیسے وہ حرام خوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔

میاں نواز شریف بیمار تھے اور حکومتی ڈاکٹروں اور وزیروں مشیروں نے ان کے علاج کے لئے بیرون ملک بندوبست کرنے کی اجازت دی۔ جب میاں نواز شریف پلیٹ لیٹس کی کمی کا شکار ہوکر بیرون ملک جارہے تھے تو حکومت کی طرف سے عدالت میں یا ماورائے عدالت ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی کہ وہ ہواخوری نہیں کریں گے۔

البتہ اس دلیل میں زیادہ وزن ہے کہ مریض خوش خوراکی کا شکار ہو یا پھر اس کے خون کے خلیوں میں گڑ بڑ ہو اسے ہوا خوری کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ میاں نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ لندن میں ہوا خوری کرتے پائے گئے تو پاکستان میں حکومت اوراپوزیشن کو شکر کرنا چاہیے تھا کہ مریض تیزی سے زندگی کی طرف پلٹ رہا ہے۔

لیکن ہمارے ہاں معاملہ ہی الٹ ہے حکومت کے وزیر اور ترجمان سراپا احتجاج ہیں کہ وہ ہواخوری کے لئے باہر کیوں نکلے؟ جبکہ انہیں بستر مرگ پر پڑا نظر آنا چاہیے تھا حکومتی ترجمانوں کے بیانات سے لگتا ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہبازشریف 50 روپے کے سٹامپ پیپر پر یہ لکھ کر گئے تھے کہ وہ لندن جاکر بیمار ہی رہیں گے اور اگر ان کی کوئی تصویر جاری ہوئی تو وہ یہی ثابت کرے گی کہ میاں نواز شریف پہلے سے بھی زیادہ علیل ہیں۔

دوسری طرف میاں نواز شریف کے ترجمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے قائدکی صحت بہتر ہونے پر سجدہ شکر ادا کرنے کی بجائے شرمندہ شرمندہ بیانات جاری کر رہے ہیں کہ میاں نواز شریف خاندان کے ہمراہ ہواخوری کے لئے گئے تھے جبکہ اپوزیشن کو اسی دلیری کا مظاہرہ کرنا چاہیے جو دلیری انہوں نے میاں نواز شریف کی بیماری کے وقت دکھائی دی تھی اور حکومت کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ خدانخواستہ اگر میاں نواز شریف کی زندگی کو کچھ ہوگیا تو وہ بھٹو کی طرح ہمیشہ کے لئے زندہ ہوجائیں گے۔

میاں نواز شریف اگر چاہیں تو میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر گالف کھیل سکتے ہیں اور پانچ پانچ اوور کا میچ بھی کھیل سکتے ہیں کیونکہ صحت کی بحالی کے لئے یہ بہت ضروری مشقیں ہیں لہٰذا ہواخوری کوئی جرم نہیں ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے جب بھی ہواخوری کو دل کرے ڈاکٹر کی ہدایت ساتھ ضرور لف کردیا کریں۔ ڈاکٹر اگر جیل سے آزاد فضاء میں لیجا سکتے ہیں تو ہواخوری کیوں نہیں کراسکتے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 75 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *